کو آپریٹو سوسائٹییز میں سرکاری سرپرستی میں غیر قانونی طور پر قبضے اور بلیک میلنگ عروج پر

خصوصی رپورٹر ۔۔  سندھ میں کو آپریٹو سوسائٹییز میں سرکاری سرپرستی میں غیر قانونی طور پر قبضے اور بلیک میلنگ عروج پر پہنچ گئی ، سوسائٹیز میں غیر قانونی طور پر ایڈمنسٹریٹر تعینات کرکے پلاٹوں کی ڈبلنگ اور کینسلیشن جیسے دھندوں کے زریعے کڑوڑوں روپے بنائے جارہے ہیں ، کوآپریٹو ڈپارٹمنٹ کے افسران صوبائی وزیر اکرام اللہ دھاریجو کا نام استعمال کرکے کڑوڑوں کی رشوت طلب کرتے ہیں ،رشوت نہ دینے پر سوسائٹی میں سرکاری ایڈمنسٹریٹر تعینات کرکے غریب لوگوں کے پلاٹ کینسل کرکے انھیں مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کرنے کا دھندہ جاری ہے ، تفصیلات کے مطابق گزشتہ چند ماہ سے جب سے صوبائی وزیر برائے کو آپریٹو اکرام اللہ دھاریجو کی جانب سے محکمہ کو آپریٹو کا چارج سنبھالا ہے اس کے بعد سے شہر کی کئی سوسائٹیز میں سرکاری محکمہ کو آپریٹو ڈپارٹمنٹ کی جانب سے سوسائٹیز پر غیر قانونی قبضے کی کاروائیوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے جس کے تحت پہلے سوسائٹیز کے حکام سے رابطہ کرکے جھوٹے الزامات لگا کر لاکھوں اور کڑوڑوں میں رشوت کا تقاضہ کیا جاتا ہے جس کے بعد اگر رقم نہ ملے تو مذکورہ سوساٗئٹی میں سرکاری ایڈمنسٹریٹر تعینات کرکے غریب اور معصوم شہریوں کے پلاٹ کینسل کیے جاتے ہیں جنھیں مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کرکے لاکھوں کڑوڑوں کمائے جاتے ہیں ، حالیہ دنوں میں کراچی کی ایک درجن سوسائٹیز پر صوبائی وزیر کی جانب سے ایڈمنسٹریٹر تعینات کرائے گئے ہیں جن میں سے کئی سوسائٹیز نے عدالت سے رجوع کرکے اسٹے آرڈر بھی حاصل کرلیا ہے جبکہ صوبائی وزیر کے خلاف کئی شکایتیں نیب اور وزیر اعلیٰ سندھ سمیت بلاول بھٹو زرداری  کو بھی بھیجی گئی ہیں جس میں صوبائی وزیر کی جانب سے حالیہ غیر قانونی اقدامات پر نوٹس لینے اور مذکورہ وزیر کی منقولہ اور غیر منقولہ جائداد کی تحقیقات کرنے سمیت بے نامی جائداد کی تحقیقات کرنے کا مطابہ بھی کیا گیا ہے جبکہ اسی طرح کی کئی شکایتیں وزیر اعظم کے شکایت سیل کو بھی روانہ کی گئی ہیں ، ذرائع کے مطابق اگر نیب کی جانب سے مذکورہ وزیر اور ادارے کے سینئر افسران کے خلاف تحقیقات کا آغاز ہوگیا تو ہوشربا انکشافات ہوسکتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں