حیات ریجینسی بلڈنگ ایک اہمیت کی حامل عمارت ہے

کراچی اکتوبر 18:کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی روشنی میں حیاتِ ریجینسی بلڈنگ کی بحالی و دیگر معاملات کے حوالے سے اپنے دفتر میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی ۔پاکستان ریلوے اور متعلقہ کمپنی کے نمائندوں و دیگر نے شر کت کی۔ کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حیات ریجینسی بلڈنگ ایک اہمیت کی حامل عمارت ہے ۔جو تقریبا 40 سال سے التوا میں ہے کو سپریم کورٹ نے اس بلڈنگ کو اسی طرح ہوٹل کے طور پر استعمال میں لانے کے لیئے ہدایت دی ہوئ ہیں جس پر عملا عملدرآمد کرایا جائیگا اور موجودہ عمارت میں کسی بھی قسم کی کوئی رھائشی سرگرمی کی اجازت نہ ہوگی اور نہ دی جائیگی۔

پاکستان ریلوے نے آگاہی دی کہ اے کے ڈی سیکورٹیز کو کموڈیٹی ایکسچینج کے مقصد کے تحت کرائے پر دیا۔ کمپنی 2014 سے 2019 تک کا پرانے نرخ پر کرایہ کورٹ ناظر کے پاس جمع کراتے رہے ہیں لیکن معاھدہ کے تحت ادا نہیں کیا اور مقررہ ریٹ جو اسیسمینٹ کے بعد مقر ر ہوا ،کمپنی نے رضامندی کے باوجود عمل نہیں کیا۔ پاکستان ریلوے کے نوٹس ، خط وکتابت کے باوجود بلڈ نگ کا مناسب استعمال نہیں ہو سکا۔ کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے متعلقہ کمپنی اے کے ڈی سیکورٹیز کمپنی کے نمائندون کو ایک با ر پہر سے تاکید ک کہ وہ سپریم کورٹ کے 9 مئی 2019 کے فیصلہ کے مطابق مکمل عمل کریں اور پاکستان ریلوے کے ساتھ مل کر سنجید گی سے معاملات کو درست کرکے حل کرائیں ۔

کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے دوران اجلاس سیکریٹری ریلوے سے بھی رابطہ کرکے متعلقہ کمپنی کو این او سی دینے کیلیے کہا تاکہ یہ معاملہ احسن طریقہ سے حل ہوسکے اور دونوں فریقین باہمی طور پر معاملات کو حل کی طرف لے جائیں۔انہون ںے یہ معاملہ حل کرانے کے لیئے 16 مئی کو بھی اجلاس منعقد کیا تھا ور اب دوبارہ بدھ 23 اکتوبر 2019 کوجائزہ اجلاس طلب کیا گیا ہے تاکہ سپریم کورٹ میں کارکردگی رپورٹ پیش کی جاسکے.