پرائیڈ آف ڈیموکریسی کے وفد کی برطانوی ممبر پارلیمنٹ سیما ملہوترا سے ملاقات

پرائیڈ آف ڈیموکریسی کے وفد کی برطانوی ممبر پارلیمنٹ سیما ملہوترا سے ملاقات
کشمیر سمیت دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پامالی پر خصوصی توجہ دینے کی درخواست
لندن ….. پرائیڈ آف ڈیمو کریسی انٹر نیشنل کے وفد نے چیئرمین عمر میمن کی قیادت میں برطانوی رکن پارلیمنٹ سیما ملہوترا سے ہاؤس آف کامنز میں ملاقات کی۔وفد میں صوبہ سندھ کے سابق سینئر وزیر تعلیم وخواندگی اورممبر سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی پی پی پی، پیر مظہر الحق اور پی او ڈی کے چیف آرگنائزر علی خاقان مرزا شامل تھے۔ چیئر مین عمر میمن نے سیما ملہوترا کو پرائیڈ آف ڈیمو کریسی انٹرنیشنل کے منشور کے بنیادی نقاط تحریری طور پر پیش کیے۔ انھوں نے پی او ڈی کے پلیٹ فارم سے سماجی خدمات اور خاص طور سے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کے بارے میں آگاہ کیا ۔انھوں نے کہا کہ اس وقت مختلف ممالک میں انسانی حقوق کی پامالیاں معمول کا حصہ بن چکی ہیں۔انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات پوری دنیا کے لیے ایک سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔اقوامِ عالم کو ایسے واقعات پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ پیر مظہر الحق نے سیما ملہوترا کوبرما، شام، فلسطین اور کشمیر کی صورت حال پر تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عالمی رہنماؤں سمیت برطانیہ کی لیبر پارٹی اور تمام جماعتوں کو پارلیمنٹ میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔مقبوضہ کشمیر میں سوا دو مہینوں سے مسلسل کرفیو نافذہے جبکہ بھارتی لاک ڈاؤن کے باعث کشمیریوں پر زندگی بہت ہی مشکل ہو گئی۔دنیا کی سب سے بڑی انسانی جیل میں کشمیری بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔مقبوضہ وادی میں نہ کوئی رابطے کا ذریعہ ہے، نہ کوئی مواصلاتی نظام دستیاب ہے۔سری نگر سمیت کئی علاقوں میں بھارتی پابندیوں کے خلاف کشمیریوں کے احتجاج پربھارتی فوج کی مظاہرین پر پیلٹ گنوں سے فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ سے متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔لوگ کھانے پینے کی اشیا اور دواؤں سے محروم ہیں،تعلیمی ادارے بند ہیں۔ کشمیری ماؤں اور بیٹیوں کی عزتیں محفوظ نہیں رہیں۔ بھارتی قابض افواج مقبوضہ کشمیر کے بچوں کو رات کی تاریکی میں اٹھا کر لے جاتی ہیں۔پیر مظہر الحق نے مقبوضہ کشمیر میں بچوں پر بھارتی قابض فوج کی جانب سے ہونے والے سنگین مظالم کا تذکرہ بھی کیا ۔انھوں نے مزید کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری کشمیر میں جاری بھارتی ظلم تشدد اور بربریت کا حساب مانگے، جو لوگ بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش رہتے ہیں وہ بھی شریکِ جرم ہیں۔ انھوں نے برما کے روہنگیا مسلمانوں پر جاری ظلم اور خوں ریزی کے حوالے سے بھی دنیا کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا ۔اسی طرح فلسطین اور شام کی صورت حال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔اس موقعے پرسیما ملہوترا نے وفد کے اراکین کو پارلیمنٹ کی عمارت اور تاریخ کے حوالے سے معلومات فراہم کیں اور انھیں کچھ دیر کے لیے مہمانوں کی گیلری میں بھی لے جاکر ہاؤس آف کامنز کی کاروائی دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ سیما ملہوترا نے وفدکی باتوں کو انتہائی غور سے سنا اور یہ ملاقات اس نوٹ پر اختتام پذیر ہوئی کہ باہمی ملاقاتوں کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ آخر میں پی او ڈی کے وفد نے سیما ملہوترا کی مہمان نوازی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔