شاہد حیات کی موت کی وجہ کینسر یا کالا جادو ؟

سینئر پولیس افسر شاہد حیات کے انتقال کے بعد مختلف حلقوں بالخصوص بیوروکریسی میں یہ بحث چل رہی ہے تھے شاید حیات کے انتقال کی اصل وجہ کیا تھی ۔بظاہر سرکاری طور پر ان کے انتقال کی وجہ کینسر کا مرض بتایا گیا ہے لیکن اس حوالے سے بحث اب ہو رہی ہے کہ ان کی موت کی ایک ممکنہ وجہ ان کے خلاف کیا جانے والا کالا جادو بھی ہو سکتا ہے ۔
معاشرے کے بعض حلقوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کو کالے جادو پر بےحد یقین ہے ان میں بعض کاروباری افراد اور بزنس ٹائیکون بھی شامل ہیں جو کالا جادو کرنے کے ماہرین کی خدمات حاصل کرکے اپنے مخالفین اور دشمنوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں ۔نس حوالے سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ نہ صرف پولیس افسران بلکہ دیگر افراد کو بھی کل جادو کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔طاقتور پولیس بس شاید حیات گزشتہ دنوں کراچی میں انتقال کرگئے ان کے انتقال کی وجہ بظاہر ان کو لاحق مرض بتایا جاتا ہے 2016میں نیروبی کینیا میں ان کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی تھی اس کے بعد وہ کافی تھک شدید علیل رہے اس کے بعد ان کی طبیعت میں کچھ بہتری آئی لیکن پھر وہ دوبارہ بیمار ہوئے اور ان کی طبیعت بگڑتی چلی گئی انہوں نے بیس سال سے زائد مختلف ہم ہوں پر خدمات انجام دیں ان پر کراچی آپریشن کے دوران حملے بھی کیے گئے اور دو مواقع پر وہ بچ گئے پر مرتضی بھٹو کے قتل کیس میں ملوث ہونے کا الزام بھی تھا یہ گرفتاری بھی ہوئی ۔بعد میں نے رہائی ملی اور ان کے خلاف الزامات واپس لے لیے گئے
ایف آئی اے کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے مشہور بزنس مین عقیل کریم ڈھیڈی کے گھر اور دفتر پر بھی چھاپہ مارا اور ان کے بعض ملازمین کی گرفتاریاں بھی ہوئی ۔سندھ گورنمنٹ کے ساتھ بعض معاملات پر ان کے اختلافات رہے اور بعد ازاں انہوں نے کی خدمات اسلام آباد کے حوالے کردیں گئی اور بعد ازاں انہوں نے انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دیں ہے ان کے ایسے کئی اقدامات تھے جنہیں مخصوص مفادات رکھنے والے عناصر کی جانب سے ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا