سینیٹر مشاہد اللّٰہ کے بیان پر پی سی بی کا جواب

پاکستا ن کر کٹ بور ڈقومی ٹیم کے کھلاڑی احمد شہزاد اور عمر اکمل کے حق میں بول پڑا۔

بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ احمد شہزاد اور عمر اکمل کو پی ایس ایل 2019 کی کارکردگی کی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہے۔

پی سی بی نے سینیٹر مشاہد اللّٰہ کے بیان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کے بیان کا تفصیلی جواب دے دیا
پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ مصباح الحق کی سربراہی میں قائم سلیکشن کمیٹی مکمل بااختیار ہے، کمیٹی بہترین کھلاڑیوں کو پاکستان کی نمائندگی کا موقع دے رہی ہے۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کا انتخاب ان کی فارم، فٹنس اور کارکردگی کی بنیاد پرکیا جاتا ہے، سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے قومی ٹیم کے انتخاب میں بھی یہی طریقہ کار اپنایا گیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ مصباح الحق نہ پی سی بی اور نہ ہی کسی اور بالائی حلقوں کے زیراثر ہیں، سری لنکا کے خلاف سیریز سے قبل پی ایس ایل ہی آخری ٹی ٹوینٹی ایونٹ تھا
واضح رہےکہ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللّٰہ خان نے کہا تھا کہ احمد شہزاد اور عمر اکمل کی ’بہت اوپر‘ سے سفارش آئی۔

ن لیگی سینیٹر نے یہ انکشاف سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے اجلاس کے دوران کیا، اس موقع پر حکومتی سینیٹر فیصل جاوید نے بھی ٹیم کی شکست پر تنقید کی۔

سینیٹ کی قائمہ برائے کھیل کے اراکین نے اجلاس میں چیئرمین پی سی بی احسان مانی اور ایم ڈی وسیم خان کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا۔

سینیٹر مشاہد اللّٰہ خان نے کہا کہ سری لنکا کے خلاف سیریز میں عمر اکمل اور احمد شہزاد کو سفارش پر ٹیم میں شامل کیا گیا، جو ’بہت اوپر ‘سے آئی تھی
نہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مصباح الحق نہیں چاہتے تھے کہ یہ دونوں کھیلیں، کوچ کی ٹیم مختلف تھی، جس میں عمر اکمل اور احمد شہزاد شامل نہیں تھے۔

ن لیگی سینیٹر نے یہ بھی کہا کہ احمد شہزاد اور عمر اکمل کی شمولیت سے ٹیم میں بددلی پھیلی، مصباح الحق پر اس کے برے اثرات پڑے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سفارش پر کھلاڑیوں کو شامل کرنے کی وجہ سے پاکستان دوسرے درجے کی ٹیم سے 0-3 سے ہارا۔

مشاہد اللّٰہ خان نے کہا کہ مصباح الحق کا قصور صرف اتنا ہے کہ اس نے 32 لاکھ روپے کی نوکری بچانے کے لیے دباؤ قبول کیا۔