ہرسنگین جرم دہشتگردی کے زمرے میں نہیں آتا، تفصیلی فیصلہ سے ابہام دور ہوجائینگے :چیف جسٹس

چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے دہشت گردی کے مبینہ ملزم کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کی واضح تشریح نہ ہونے سے مقدمات کا ڈھیر لگ گیا ہے ،رواں ماہ میں دہشت گردی کی تعریف کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا جائے گا،جس سے بہت سے ابہام دورہوجائیں گے ۔چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے احاطہ عدالت میں قتل کے ملزم کو بری کر کے قرار دیایہ معاملہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا ۔ملزم کالے خان کے خلاف احاطہ عدالت میں قتل کرنے کے الزام میں انسداد دہشت گردی قانون کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا،ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت دی تھی ۔بدھ کو کیس کی سماعت ہوئی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہر سنگین جرم دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا ۔ملزم کے وکیل نے کہاکہ کالے خان نے عدالتی احاطہ میں غلام محمد کو قتل کیا تھا ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہ قتل ذاتی دشمنی کی بنا پر ہوا ۔ عدالت عظمیٰ نے سماعت کے بعد دہشت گردی کے ملزم کالے خان کورہا کر دیا۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ کے فل کورٹ بینچ نے جسٹس مظہر عالم خان میا ں خیل کی عدم دستیابی کے باعث جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت ملتوی کر دی ہے ۔جسٹس مظہر عالم میاں خیل کے فرسٹ کزن ایڈیشنل آئی جی سندھ شا ہد حیات کا انتقال ہوا جس کے باعث وہ ڈی آئی خان روانہ ہو گئے ۔سپریم کورٹ نے بے قاعدگیوں میں ملوث محکمہ ڈاک کی خاتون ملازمہ کی سزا برقرار رکھتے ہوئے نظر ثانی مقدمہ میں وکیل تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کردی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہاکہ محترمہ کے والد لائن مین تھے انہوں نے مال بنایا،نزہت بیگم کی ہمشیرہ کے بھی بنک اکانٹس نکل آئے ہیں،یہ تو کمال ہی ہو گیا تھا،محترمہ کا خاوند بھی محکمہ ڈاک میں تھا،کروڑوں کے اثاثوں کی محترمہ نے جو وضاحت پیش کی وہ قابل قبول نہیں ،محترمہ چار مرتبہ جیل بھی گئیں ۔دریں اثنا جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے این ایل سی کے ملازم سلیم انور کو بحالی کرنے کے 2015کے فیڈرل سروس ٹریبونل کے فیصلے پر عملدرآمد کے لئے معاملہ دوبارہ ٹریبونل بھیج دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں