آزادی مارچ:حکومت نے مذاکراتی کمیٹی بنادی،پہلے وزیراعظم کا استعفیٰ، پھر مذاکرات: فضل الرحمن

آزادی مارچ:حکومت نے مذاکراتی کمیٹی بنادی،پہلے وزیراعظم کا استعفیٰ، پھر مذاکرات: فضل الرحمن
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کورکمیٹی اجلاس میں مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کیلئے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے پرویز خٹک کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق بدھ کو بنی گالا میں وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا۔اجلا س میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ،وزیر اعلیٰ کے پی کے محمود خان ، وفاقی وزراء اور پارٹی کی سینئر قیادت شریک ہوئی۔اجلاس میں حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کیلئے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کرلیا ، وزیردفاع پرویز خٹک کمیٹی کے سربراہ ہوں گے ، کمیٹی اپوزیشن سے مذاکرات کرے گی۔اجلاس میں خیبرپختونخوا اور پنجاب میں آئندہ سال فروری میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیاگیا ۔اس موقع پر وزیراعظم نے کہا ملک کواس وقت اوربھی خطرات درپیش ہیں، ہم کشمیر کا مقدمہ عالمی فورمز پر لڑ رہے ہیں، حکومت کو معیشت اور کشمیر جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ، حکومت اپوزیشن کے جائز تحفظات ضرور سنے گی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ دورہ چین، ایران اور سعودی عرب کے حوالے سے شرکاء کو اعتماد میں لیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کور کمیٹی کو بتایا کہ دورہ چین ہماری توقعات سے زیادہ کامیاب رہا۔انہوں نے کہا ایران سعودی تنازع ختم کرانے کی کوشش پر سعودی عرب نے مثبت جواب دیا۔ اسلام آباد ( خبر نگار خصوصی،مانیٹرنگ ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ وزیراعظم عمران خان کے استعفیٰ سے قبل حکومت سے مذاکرات نہیں ہونگے ، کوئی مارشل لاء کا نہ سوچے ، ایسی کوئی کوشش کی گئی تو تحریک کا رخ موڑ دینگے ۔تفصیل کے مطابق گزشتہ روزپختونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اپنے وفد کے ساتھ مولانا فضل الرحمٰن سے انکی رہائش گاہ پر ملاقات کی جو اڑھائی گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ بعدازاں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہاکہ وزیراعظم عمران کے استعفیٰ کی صورت میں ہی مذاکرات کرینگے ،حکومتی لوگ جان بوجھ کرغلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں ،کسی ادارے نے عوام کا راستہ روکنے کی کوشش کی تو سمجھا جائیگا کہ ادارے ریاست کیلئے نہیں بلکہ کسی اور کیلئے استعمال ہورہے ہیں، اگر مارشل لا کی کوشش کی تو آزادی مارچ کا رخ انکی طرف موڑ دیا جائیگا، حکومت کے تمام حربے ناکام ہوچکے ہیں،آئین کی حکمرانی اور اداروں کے حدود میں رہ کر کام کرنے کے مطالبہ پر دوسری رائے نہیں ہوسکتی،انصار الاسلام رضاکار فورس، حکومت بات کا بتنگڑ بناکر خوف پھیلا رہی ہے ، قوم نے 10 ماہ میں جعلی الیکشن کے نتائج دیکھ لئے ، 400 ادارے بیچے جارہے ہیں، اب پوری قوم کی ایک ہی آواز ہے ،نئے الیکشن کرائے جائیں، انتخابات کے بعد جو بھی نتائج ہوں اور جو بھی جیتے نتائج ہم قبول کرینگے ۔ اس موقع پر محمود اچکزئی نے کہا تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں کام کریں، ہماری کسی سے ذاتی دشمنی ہے نہ ہمیں کسی کی شکل سے شکایت ہے ، پاکستان دن بدن تنہا ہوتا جارہا ہے ، اگر تمام ادارے یہ تہیہ کرلیں کہ ہم اپنی اپنی حدود میں رہیں گے تو پاکستان ٹھیک ہو سکتا ہے ، مولانا فضل الرحمٰن کی تحریک کو مذہبی تحریک سے جوڑنا غلط ہے ،موجودہ صورتحال میں فوری طور پر ایک گول میز کانفرنس بلائی جائے جس میں مولانا فضل الرحمٰن کو لانا میری ذمہ داری ہے ، آئین کی بالادستی کیلئے ہم آزادی مارچ میں شامل ہونگے ۔قبل ازیں مولانا فضل الرحمٰن سے جمشید دستی اور بعد ازاں وکلا تنظیموں کے نمائندوں نے بھی ملاقات کی،انہوں نے آزادی مارچ میں شرکت کی یقین دہانی کرائی۔ پنجاب بار کونسل ، اسلام آباد اور راولپنڈی بار کونسل نے جے یوآئی کے آزادی مارچ کی حمایت کا اعلان کیا ۔ بار کونسلز ممبرز نے کہا کہ ہر طبقہ کے لوگ موجودہ حکومت سے تنگ آچُکے ہیں، آزادی مارچ میں وکلا بھرپور شرکت کرینگے ،موجودہ حکومت نا اہل، سلیکٹڈ اور ناکام ہے ۔اس موقع پر سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری ، سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کامران مرتضیٰ و دیگر بھی موجود تھے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں