رہنما نیشنل پارٹی حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کو جلسہ کر کے گھر نہیں جانا چاہیئے

اسلام آباد : رہنما نیشنل پارٹی حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کو جلسہ کر کے گھر نہیں جانا چاہیئے ،آزادی مارچ میں بھرپور قوت سے حصہ لیں گے ۔
حاصل بزنجو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی کی سی ای سی نے متفقہ فیصلہ کیا ہے آزادی مارچ میں بھرپور قوت سے حصہ لیں گے ۔  انہوں نے کہا کہ ہر صورت میں اس حکومت کو گھر جانا چاہیے ،13  ماہ میں معیشت کی  حالت خراب کر دی گئی ہے ، اس حکومت کا رہنا پاکستان کے عوام کے مفاد میں ہے نا ملک کے مفاد میں ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوئی آئی ایم ایف ،کوئی ورلڈبینک کی سفارش پر وزیر بنا ہے ۔ جے یو آئی ، عوامی نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی اور قومی وطن پارٹی کی رائے تھی کہ ہمیں ان اسمبلیوں میں نہیں جانا چاہیے ۔ن لیگ اور پیپلز پارٹی اس بات پر زور دیتے رہے کہ فوری طور پر اس عمل پر نہیں جانا چاہیئے ۔ہماری اب بھی رائے ہے کہ یہ جعلی مینڈیٹ ہے، اس کے ساتھ اگر کوئی حکومت چلائی بھی جائے تو نقصانات زیادہ ہوتے ہیں کوئی ایسا کونہ، جگہ اور ملک نہیں جہاں موجودہ حکومت نے قرض نہ لئے ہوں ۔انہوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قرض لینے کے باوجود بھی مہنگائی بڑھ رہی ہے، بے روزگاری میں اضافہ ہوگیا، عام آدمی تنگ ہے ۔اس وقت میڈیا کی صورتحال یہ کہ پانچ ماہ تک تنخواہیں تک نہیں مل رہیں موجودہ حکومت کا بدترین کام یہ ہے کہ بین الاقوامی طور پر تنہا کردیا گیا ۔اقوام متحدہ میں قرارداد کے لئے کوئی بنیادی کام نہ کرسکے ۔حاصل بزنجو نے کہا کہ وزیراعظم ایران اور سعودیہ کا جھگڑا ختم کرنے نکلے ہیں یہ عجیب بات ہے ۔ایف اے ٹی ایف میں سعودیہ اور ایران نے پاکستان کو ووٹ تک نہیں دیا اور آپ انکی ثالثی کے لیے جارہے ہیں ۔ رہنما نیشنل پارٹی نے کہا کہ 2018ء کے الیکشن میں بدترین دھاندلی ہوئی البتہ بلوچستان کے علاقے مکران میں 7 ہزار ووٹ کو 37 ہزار میں تبدیل کیا گیا خود وہاں کے ایم پی ایز کہتے ہیں 15000 ہزار ووٹ ایسے پڑے جتنے حلقے میں نہیں تھے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں