ایران کے سعودی عرب کیساتھ جنگ کے بادل چھٹتے نظر آرہے ہیں…. وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

اسلام آباد  وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ایران سعودی عرب کیساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے ، وزیراعظم عمران خان کی کاوشوں کے بعد ایران کے سعودی عرب کیساتھ جنگ کے بادل چھٹتے نظر آرہے ہیں،ہمیں دونوں ممالک سے ہماری توقعات سے زیادہ رسپانس ملا ۔شاہ محمود قریشی نے معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ایران نے واضح کہا کہ وہ محاذآرائی کا خواہاں نہیں اور مذاکرات کا حامی ہے ،اس مثبت رویے کے پیش نظر ہم کل سعودی عرب گئے ۔کشمیر کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہا فاروق عبد اللہ جو پہلے ہی گرفتار تھے ، اب ان کی بہن اور بیٹی کو گرفتار کر لیا گیا ہے ، سرینگر میں خواتین کے مظاہرے ثابت کر رہے ہیں کہ یہ نئی جہت سامنے آ رہی ہے ۔تحریک انصاف کے کور کمیٹی اجلاس کے حوالے سے انہوں نے کہا اجلاس میں دو تین سیاسی فیصلے کئے ، پہلا فیصلہ تھا کہ ہم سیاسی معاملات کو سیاسی انداز میں حل کریں گے ، فضل الرحمٰن سے ملاقات کر کے ان کے تحفظات سننا چاہتے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا سیاسی جماعتوں کو سیاسی روّیے ہی اپنانے چاہئیں، مولانا فضل الرحمن کی بات میں اگر وزن ہو گا تو ضرور سنیں گے ، ہم سب پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی خوف نہیں، دھرنے سے حکومت نہیں جاتی، اس کا تجربہ ہمارے پاس ہے ، ہم نے 126 دن کا دھرنا دیا تھا۔ملکی معاشی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا معیشت میں 13 ماہ مشکل گزارے ،اب معیشت بہتری کی طرف جا رہی ہے ، سرمایہ کاری کیلئے لوگ آ رہے ہیں، روپیہ بہتر ہو رہا ہے ، ہاؤسنگ سیکٹر میں لوگ دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ احتجاج کے باعث معیشت مزید تنزلی کی طرف جائے ۔بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہا گورننس کی بہتری کے لئے بلدیاتی اداروں کو فعال کریں گے اور الیکشن کرائیں گے ، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کرائیں گے ، سندھ اور بلوچستان میں ہماری حکومت نہیں، اسلئے وہاں پر صوبائی حکومتیں ہی فیصلہ کریں گی۔ علاوہ ازیں وزیر خارجہ سے اطالوی ممبر پارلیمنٹ و چیئرمین اطالوی انڈسٹریز ایسوسی ایشن برائے فضائی حدود، سکیورٹی و دفاع گائیڈو کروسیٹو نے ملاقات کی۔وزیر خارجہ نے اطالوی پارلیمینٹرین کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست کو بھارت کی جانب سے کئے گئے یکطرفہ غیر آئینی اقدام اور اس کے مضمرات سے آگاہ کیا۔مزیدبرآں وزیر خارجہ سے ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، بھارت (تاپی) پائپ لائن کارپوریشن لمیٹڈ کے سی ای او اور چیئرمین مراد امانوو نے ملاقات کی۔وزیر خارجہ نے کہا تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ سے توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں