وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جناح پوسٹ گریجوئیٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) میں سائبر نائیف /شعاؤں کے ذریعے علاج کے سرجیکل کمپلیکس کی 9 منزلہ زیر تعمیر عمارت کی تکمیل کے لیے 7 ملین ڈالر جاری کرنے کی منظوری دی

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جناح پوسٹ گریجوئیٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) میں سائبر نائیف  /شعاؤں کے   ذریعے علاج کے  سرجیکل کمپلیکس کی 9 منزلہ  زیر  تعمیر عمارت  کی تکمیل کے لیے  7 ملین ڈالر جاری کرنے کی منظوری دی اور  سکھر  میں بھی  سائبر نائیف  سیٹلائیٹ  کے قیام کے لیے ہدایت جاری کیں۔ انھوں نے یہ فیصلہ آج وزیراعلیٰ ہاؤس میں جے پی ایم سی  سائبر نائیف  اور  پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن  (PAF) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری خزانہ حسن نقوی، جے پی ایم سی کے ریڈیالاجی، سائبر نائیف روبوٹک ریڈیو سرجری اینڈ آنکلوجی کے ہیڈ پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود، پیشنٹس فاؤنڈیشن کے چیف مشتاق چھاپرا ور شبیر دیوان نے شرکت کی۔ پروفیسر طارق محمود نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ہر سال 67 ہزار  کینسر کے نئے مریض آتے ہیں ۔ کینسر کے مریض ملک کے 131 شہروں کے مریضوں کو سائبر نائیف کے ذریعے علاج کی  سہولت فراہم کی جارہی ہے اور اب اسے پاکستان میں ’’میجک نائیف‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 4.1 ملین ڈالر کی لاگت سے جے پی ایم سی میں ایک اور سائیبر نائیف  یونٹ  نصب کیا جارہا ہے اور اس کا کام 2019 کے آخر تک مکمل ہوجائے گا۔ سائبر نائیف میں روزانہ 24 کینسر کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے جبکہ جے پی ایم سی کینسر وارڈ میں 120 مریضوں اور او پی ڈی میں 200 مریضوں کا مفت علاج  کیا جارہا ہے۔  وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انکی حکومت 2020 تک سائبر نائیف یونٹس کے لیے 7 لاکھ ڈالر تک دے گی۔  وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ  4 ملین ڈالرز کی لاگت سے ایک ٹوموتھراپی پروجیکٹ بھی لگایا جارہا ہے۔  انھوں نے کہا کہ ٹوموتھراپی کی 16 مشینیں دنیا بھر میں کام کررہی ہیں اور جے پی ایم سی میں 17 سہولیات مہیا ہونگی ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سائبر نائیف اور پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن  کے نمائندوں کو یقین دلایا کہ انکی حکومت کینسر کے مریضوں کے علاج کے حوالے سے اٹھائے گئے ہر قدم میں انکے ساتھ تعاون کرے گی۔ پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن  کے  مشتاق چھاپرا  نے کہا کہ  فرحین  اینڈ اشرف مکیتے جناح فوڈ کامپلیکس قائم کیا جارہا ہے جہاں تمام مریضوں کو مفت کھانا فراہم کیا جائے گا۔  20-2019 کے منصوبوں  سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ  ڈپارٹمنٹ آف نیورومیڈیسن اینڈ اسٹروک یونٹ  قائم کیا جارہا ہے جبکہ ڈپارٹمنٹ آف فزیشنری اینڈ بی ہا ویلرول سائنسز  پر کام جاری ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود نے کہا کہ سرجیکل کمپلکس  35 ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا جارہا ہے ۔ سرجیکل کمپلیکس میں 2000 بستروں کی سہولت ہوگی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے  زیر تعمیر سرجیکل کمپلیکس کی تکمیل کے لیے 7 ملین ڈالرز فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سیکریٹری خزانہ سے کہا کہ وہ فنڈز کا بندوبست کریں۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ کینسر کے مریض 12 مختلف ممالک بشمول امریکا، کینیڈا، افغانستان، یو اے ای اور دیگر ممالک سے آتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سائبر نائیف یونٹ کے چیف کو ہدایت کی کہ وہ سکھر میں سائبر نائیف یونٹ کے سیٹلائیٹ کے قیام کے لیے ضروری انتظامات کریں تاکہ صوبے کے شمالی علاقوں ، بلوچستان اور پنجاب کے مریضوں کو وہاں پر علاج کی سہولت مہيا ہوسکے۔عبدالرشید چنامیڈیا کنسلٹنٹ وزیراعلیٰ سندھ