حکومتی کارکردگی درست کرلیں، دھرنے دھرے رہ جائینگے

امیر محمد خان۔

حکومتی کارکردگی درست کرلیں، دھرنے دھرے رہ جائینگے

ہمارا بہ حیثیت مسلمان یہ ایمان ہے کہ جو چیزیں رب کریم نے چودہ سو سال پہلے حرام کی تھیں وہ آج بھی حرام ہیں اور جو چیزیں چودہ سو سال قبل حلال کی گئی تھیں وہ آج بھی حلال ہیں۔ مگر ہمارے سیاسی ماحول اور سیاست دانوں نے ملکی امور ، ملک کے اقتدار پر قبضہ کرنے کیلئے جو سوچ پیدا کی ہے اس کی مناسبت سے 2014 کا 216 روزکادھرنہ حرام تھا ، ملکی کی معشیت کو نقصان پہنچا رہا تھا ، جمہوری رویات کے برعکس تھا آج 2019 اسی قسم کا دھرنہ جسے کبھی آزادی مارچ، کبھی کشمیر سے یک جہتی کا نام دیا جاتا ہے وہ حلال ہے، اسی طرح جن سیاست دانوں پر پانچ سال دھرنہ دیا اسوقت انکے لئے سول نافرمانی کرنے کے بیان کے ساتھ ، توڑ پھوڑ کے ساتھ 216 دن کا تماشہ جائز تھا آج مولانہ فضل الرحمان کا دھرنا حرام ہے اور جمہوری روایات کے منافی ہے۔ دھرنہ پہلے صحیح تھا اور نہ آج۔ دراصل دھرنہ کے خلاف حکومت کی نہ صحیح مگر چند وزراء کی نیندیں حرام ہیں ، یہ بھی سچ ہے کہ ملک کے وزیر اعظم چاہے ایران میں ہوں یا سعودی عرب میں، یا برطانوی شہزادہ کے استقبال میں دھرنے کی update ضرور لیتے ہونگے۔ یہ وزیر اعظم عمران خان کی خوش نصیبی ہے کہ پی پی پی یا مسلم لیگ مولانہ کا ساتھ دینے یا نہ دینے کے متعلق دو آراء ہیں جسکی وجہ دو تین نکات ہیں اول یہ کہ مولانہ کی ڈور کس کے پاس ہے ، مولانہ کا دھرنہ دائیں بازو کی سوچ کا حامل ہیں اور وہاں مذہبی کارڈ نمایا ں ہے ، جس کی ان دو جماعتوں کو گھبراہٹ ہے اور کوئی واضح فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں مولانہ کے مطالبے کو جس میں کہا جارہا ہے کہ نئے انتخابات کرائے جائیں، اور عمران خان گھر جائیں ان مطالبات کو کوئی سنجیدگی سے نہیں لے رہا ، بھر پور حمائت صرف اور صرف سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ہے، جن پر گزشتہ ایک سال سے حکومت یا تحقیقاتی ادارے کو کرپشن تو ثابت نہیں کرپارہے انہیں انکے بیانئے کی سخت سے سخت سزا دی جارہی ہے ، جیل کے اندر ہی دوبارہ گرفتاری کرلی جاتی ہے نئے مقدمات میں ، یہ بلکل ایسا ہی ہے کہ پھانسی کے بعد دس سال قید بامشقت، ان مقدمات کی نوعیت، اور یہ اچھی طرح جان کر کہ یہ سب کچھ ان کی سخت روی ، سخت بیانیہ کی سزا ہے وہ لگتا ہے اپنی تمام تر کشتیاں جلا چکے ہیں اور حکومت کے خلاف جو بھی باہر نکلا بغیر اسکے مضمرات دیکھے وہ اسکی حمائت کر نے کو بھرپور تیار ہیں بہرحال اللہ تعالی یہ اکتوبر بھی خیر سے نکال دے گا اگر حکومت لاٹھی ڈنڈے کی سرکار والی حرکت نہ کرے، نیز مولانہ کی ڈنڈا بردار دستے بھی پرامن رہتے ہوئے اپنا احتجاج کراکے اپنے مدرسوں کو واپس چلے جائیں ، شنید یہ ہے ”معاملہ “ مولانہ کے اسلام آباد آمد سے قبل ہی ”طے“ ہوجائیگا۔ اور ہو بھی جانا چاہئے ۔بیرون ملک پاکستانیوں کی وزیر اعظم سے یہ درخواست ہے کہ وہ اس دھرنہ سیاست سے چھٹکارہ حاصل کرتے ہی بیرون ملک پاکستانیوں کے مسائل پر توجہ دیں، بشمول گزشتہ حکومتیں سب ہی ”ریڑھ کی ہڈی“ کی بات کرتے ہیں مگر کسی نے بھی اس طرف سنجیدگی سے توجہ نہیں دی۔ کم از کم سعودی عرب کی حد تک مجھے علم ہے کہ خون پسینہ کمائی لیکر وطن کی محبت جب وطن جاتے ہیں اس ارادے سے کہ کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرلیں گے مگر جب پاکستان جاتے ہیں تو وہاں کے FBR سمیت دیگر ادارے اتنا تنگ کرتے ہیں کہ بندہ سر پر پیر رکھ کر واپس پہلی فلائٹ پر دوبارہ بیرون ملک چلا جاتے ہے، ایک دوست جو یہاں ایک طویل عرصے سے کاروبار کررہے تھے اور اپنی جمع شدہ رقم سے پاکستان میں ایک بہترین یونیورسٹی
؎قائم کی، اور اب عرصے سے کاغذی کاروائیوں، مختلف دفاتر کے چکر کاٹ کر یونیورسٹی کی افتتاح کو پس پشت ڈال کر اپنی ملازمت پر واپس آگئے اور ملکی حالات پر افسوس کرتے رہے کہ حکومت سرمایہ کاری کا کہتی جو صرف ایک نعرہ لگتاہے، جب پیسہ ملک میں لیکر جاتے ہیں تو مختلف ادارے اور شخصیات منہ اور آنکھیں پھاڑ کر اپنے حصہ کے انتظار میں ہوتے ہیں یا کاروبار کی خواہش رکھنے و الے کو چور سمجھ کر اسکی تحقیقات شروع کردیتے ہیں۔ کچھ گزشتہ حکومتوں نے بھی اور حال میں وزیر اعظم عمرانخان نے citizen portal ، وزیر اعظم ہاؤس میں شکایت سیل کا اجراء کیا۔ ملک کے اندر کی کارکردگی کا مجھے علم نہیں مگر سعودی عرب اور جدہ کا علم ہے یہاں جو شکایات وزیر اعظم تک پہنچائی جسکتی ہیں وہ اسکولوں، سفارت خانوں ، قونصل خانوں کی ذاتیوں کی ہو سکتی ہیں وزیر اعظم کی سوچ پر شک نہیں وہ دل سے بیرون ملک پاکستانیوں کی مدد کرنا چاہتے ہونگے مگر آن لائن پورٹل پر بھیجی جانے والی شکائت واپس اسی کے پاس آتی ہے جسکے خلاف شکائت ہے دنیا میں کون ایسا شخص ہے جو اپنی زیادتی کو زیادتی کہے گا اور وزیر اعظم کے شکائت سیل کو جواب میں اپنی غلطی کہتے ہوئے جواب دیگا ؟؟ ماضی قریب میں پورٹل پر شکایات گئیں جسکے جواب یہ گئے، کمیونٹی سیاست کرتی ہے،، کمیونٹی گروپنگ میں ہے، شکایات بلکل غلط ہے اور بھلا ہو ، وزیر اعظم شکائت سیل کے ذمہ داروں کا وہ فائل بند کردیتے ہیں جبکہ شکائت کنندہ کی شکائیت کی پوری تحقیقات ہونا چاہئے تاکہ انصاف مل سکے بیرون ملک یا سعودی عرب میں رہنے والے پاکستانیوں کی تو مطالبہ جائز اور شدید ہے کہ موجودہ حکومت کے وزیر یا مشیر بیروں ملک پاکستانی زلفی بخاری ایران، توران، امریکہ تو وزیر ا عظم کے ہر دورہ پر ساتھ ہوتے ہیں مگر اپنی وزارت سے متعلق انہوں نے آج تک کوئی دورہ نہیں کیا۔ ملک میں معاملات تو چلتے رہے گے، وزیر اعظم کی ہدائت ہونا چاہئے کہ متعلقہ وزارتیں اپنا کام بھی کریں دھرنہ وغیرہ حکومتی کارکرگی بہتر نہ ہونے پر ہی ہوتے ہیں۔ زلفی بخاری کا بظاہر کام بیرون ملک پاکستانیوں سے ملاقاتیں ہیں نہ کہ وزیر اعظم کے ہمراہ ہر دورہ میں شمولیت۔