پھلوں کی دنیا میں پاکستان کی نئی پہچان

آج جیوے پاکستان ڈاٹ کام کے قارئین کی ملاقات ایک ایسے اچھے اور قابل فخر پاکستانی سے کرا رہے ہیں جو دنیا بھر میں پاکستان کے خاموش سفیر کی حیثیت سے ملک کا نام روشن کررہے ہیں اور ملک کے لئے قیمتی زرمبادلہ کمارہے ہیں وہ ملک کو خود انحصاری کی جانب گامزن کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں ان کا جذبہ اور قومی خدمات قابل تعریف اور لائق تحسین ہیں شاعر نے انہیں جیسے فرزندان وطن کے لیے کہہ رکھا ہے کہ ۔

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

آئیے آپ کو ملواتے ہیں وحید احمد سے ۔۔۔۔آپ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلی ہیں ایف بی سی سی آئی کے سابق نائب صدر ہیں اور دنیا بھر میں پاکستانی پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات کو فروغ دینے میں نمایاں کردار پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
وحید احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان نے پانچ سال بعد ایک لاکھ ٹن آم برآمد کرنے کا ریکارڈ عبور کرلیا ہے موسم مارکیٹنگ اور معیار کی بدولت پاکستانی عام نے انٹرنیشنل مارکیٹ میں بہتر قیمت حاصل کی ہے اور اب پاکستان کو عام کی ریکارڈ ایکسپورٹ کا امکان ہے ستمبر کے وسط تک ایک لاکھ پندرہ ہزار ٹن آم ایکسپورٹ کیا جاچکا تھا چار سال میں پہلی مرتبہ آم کی ایکسپورٹ کہا تھا حاصل ہوا ہے جبکہ پانچ سال بعد ایکسپورٹ ایک لاکھ ٹن سے تجاوز کرگئی ہے وحید احمد کے مطابق ایکسپورٹ کا سلسلہ اکتوبر کے وسط تک جاری رہتا ہے اور سیزن کے اختتام تک ایک لاکھ تیس ہزار ٹن آم برآمد ہونے کا قوی امکان ہے ایک لاکھ ٹن آم کی برآمد سے پاکستان کو 80 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا ہے گزشتہ سال کے مقابلے میں آم کی ایکسپورٹ میں مالیات اور حجم دونوں لحاظ سے اضافہ ہوا ہے گزشتہ سیزن آم کی پیداوار 13 لاکھ ٹن تھی جبکہ اسپورٹس ہزار ٹن رہی تھی رواں سیزن آم کی پیداوار 15 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی وحید احمد کے مطابق آم کی ایکسپورٹ میں اضافہ کی وجہ محسن مارکیٹنگ ہے اس سال سیزن کے دوران دنیا کے 25 ملکوں میں عام کی تشکیل پرموشن کی گئی یہ تشہیری سرگرمیاں پاکستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں اور پی ایف وی اے کے تحت کی گئی جن میں پاکستانی عوام کو منفرد انداز میں پیش کیا گیا اور پرموشن میں شریک افراد نے پاکستانی آم کے ذائقہ اور خوشبو کو سراہا ۔