ملک بھر میں برائلر مرغی کی مصنوعی قلت اور قیمت میں اضافے کا ذمہ دار کون ؟

ملک بھر میں برائلر مرغی کی مصنوعی قلت پیدا ہوگئی ہے اور قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے یہ سب کچھ نہ جائز منافع خوری کے لالچ میں ہو رہا ہے زندہ مرغی اور چکن گوشت کے نرخ گزشتہ دو مہینوں میں نہیں ریکارڈ سطح کو چھو چکے ہیں دو سو ستر روپے سے لے کر 280 روپے تک مرغی جبکہ گوشت جاسوسی روپے سے لے کر پانچ سو روپے تک چلا گیا مرغی کی قیمتوں نے ماہانہ گھریلو بجٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے جبکہ ریٹیلرز کے مطابق ستمبر اکتوبر میں اشوری کے بعد شادی سیزن کی کھپت اور مانگ میں اضافے کی وجہ سے مجموعی طور پر مال روک کر قیمتیں بڑھانے کی باتیں ہوئیں پنجاب میں قیمتیں بڑھنے کا اثر سندھ پر پڑا کراچی میں بھی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں ۔ملک میں بغیر رکھی والی گوشت کی قیمت 650 روپے سے بڑھ کر 700 روپے تک چلی گئی ۔کمشنر کراچی کے جاری کردہ ریٹ پر شہریوں کو مرغی اور گوشت دستیاب نہیں ہو پاتا پولٹری صنعت نے بھی 250 روپے اور 380 روپے کی فی کیلو سرکاری قیمتوں کو غیر حقیقی قرار دے کر مسترد کیا ہے شہر کا شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں سرکاری نر خ کا اطلاق اور عملدرآمد ممکن ہو ۔

پی پی اے پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ دو مہینے میں نقصانات کی وجہ سے فارمرز نے پیداوار کے لئے ایک دن پرانے چوزے کو نہیں رکھا تھا جس کے نتیجے میں مارکیٹ کو زندہ مرغی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ گیا ۔زندہ مرغی اور اس کے گوشت کی قیمت کو بے دردی 252 روپے اور 410 روپے سے چار سو پندرہ روپے فی کلو سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ مارکیٹ کے لوگ کم رسد کے مقابلے میں زیادہ طلب کا مکمل فائدہ اٹھا رہے ہیں