پاکستان علما کونسل کاکسی مارچ یا دھرنے میں شریک نہ ہونے ،غیر آئینی اقدامات پر محاسبہ کا اعلان

لاہور پاکستان علماء کونسل نے کسی مارچ یا دھرنے میں شریک نہ ہونے ،غیر آئینی ، غیر قانونی اور غیر شرعی اقدامات پر محاسبہ کا اعلان کردیا۔گزشتہ روزپاکستان علما کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ و عاملہ کے اجلاس کے بعد فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے مرکزی چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی اوردیگر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید کہا کہ حکومت اور مولانا فضل الرحمٰن مفاہمت سے معاملات کو حل کریں۔ ملک میں انتشار اور فساد پھیلانے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینگے ۔ پاکستان علماء کونسل محاذ آرائی ، تشدد و فساد کی سیاست نہیں چاہتی۔ آزادی مارچ سے تبلیغی اجتماع میں آنیوالے شرکا کے بھی متاثر ہونیکا خدشتہ ہے ۔ 23 فروری کو یوم تاسیس اور 29 مارچ کو پانچویں عالمی پیغام اسلام کانفرنس ہو گی ، ماہ ربیع الاول ، ماہ ربیع الثانی کو ماہ رحمت للعالمین ؐکے طور پر منایا جائیگا۔ اجلاس میں قرار داد کے ذریعے وزیر اعظم عمران خان اورآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے مسلم ممالک حصوصاً سعودی عرب اور ایران کے درمیان مصالحت کرانے کی کوششوں کا خیر مقدم کیا گیا ۔ قرارداد کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی مکمل تائید کرتے ہوئے کہا گیا کہ 18 اکتوبر کو ملک بھر میں نماز جمعہ کے اجتماعات میں یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جائیگا۔اجلاس میں عزیز الرحمٰن ہزاروی ، طاہرا شرفی ، مولانا سرفراز کی والدہ کی وفات پر اظہار تعزیت کیا گیا جبکہ مولانا ایوب صفدر مرکزی وائس چیئرمین ،زبیر عابد مرکزی وائس چیئرمین ،حق نواز خالد مرکزی نائب سرپرست ،عمار نذیر بلوچ ، طیب شادمعاون خصوصی چیئرمین ، مولانا ابو بکر مشیر صدر پنجاب ، یاسر علوی ڈویژنل نائب صدر فیصل آباد منتخب کئے گئے ۔اس موقع پر مولانا عبد الکریم ندیم،ایوب صفدر ، عبد الحمید وٹو ، زبیر عابد ، شفیع قاسمی ، اسد اﷲ ، طاہر الحسن ، اسعد زکریا، اسید الرحمٰن ، اشفاق پتافی ، عمار بلوچ ، طیب قادری ، عبد القیوم فاروقی ، عزیز اکبر ، اسلم قادری ، شکیل الرحمٰن ، امین الحق، حق نواز ، عبد الحکیم اطہر، اسلم صدیقی ، عبد المالک، عمران معاویہ، حمزہ طاہر، نصراﷲ، حبیب الرحمٰن، کفایت اﷲ، اسماعیل عثمانی ، قاری اعجاز اور عبد اﷲ رشیدی بھی مودود تھے