آخر کل ان کو ہی یہ ملک سنبھالنا ہے۔

آج اتوار ہے۔ آپ اپنی اولادوں اور پیاروں کے ساتھ بیٹھے ہوں گے۔ ان سے بھی یہ باتیں کرنے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ آخر کل ان کو ہی یہ ملک سنبھالنا ہے۔ 
انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ طمانیت کیا ہوتی ہے۔ اور افراتفری سے دل اور ذہن دونوں کتنے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں۔ عمران خان کے ہونٹوں پر کسی وقت ایک ہلکی سی مسکراہٹ کھلا کرتی تھی۔
 اب تو مدتیں ہوگئیں۔ وہ پلٹ کر نہیں آئی۔ وہ وزیراعظم ہیں ملک کے با ضابطہ منتخب سربراہ۔ سیاہ و سفید کا مالک تو انہیں نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ یہ قلمدان کسی اور کے پاس ہے۔ وہ اپنے دوست ملک چین میں کتنے بے بس دکھائی دیے کہ کاش میں 500کرپٹ لوگوں کو جیل میں ڈال سکتا۔ کتنی حسرت ہے۔ یہ تو بتا دیتے کہ انہیں کس نے روکا ہے۔ 
بے بسی کو پوری پاکستانی قوم نے اپنا مقدر جان لیا ہے۔ اختیارات ہیں۔ وسائل ہیں۔ مگر کسی انجانے خوف میں انہیں استعمال کرتے سب ڈرتے ہیں۔ عدالتیں بڑے انقلابی تبصرے کرتی ہیں۔ لیکن فیصلے انقلابی نہیں ہوتے۔
ٹھہریئے! مجھے کچھ یاد آرہا ہے۔ تاریخ پاکستان کے ایک انتہائی نیک نام رہنما سردار عبدالرب نشتر کی پوتی بہو اور بہت ہی حساس دل رکھنے والی ثانیہ نشتر ابھی امریکہ میں بل گیٹس سے ملیں۔ ایک معاہدہ بھی ہوا۔ اربوں ڈالر میں کھیلنے والے بل گیٹس کو اللہ تعالیٰ نے بڑا درد مند دل دیا ہے۔ 
پولیو اور دوسری بیماریوں کے مکمل خاتمے کے لیے لاکھوں ڈالر عطیے میں دیتا ہے۔ اس سے ملاقات کا نتیجہ تو پاکستان میں ایک نشاۃِ ثانیہ کی صورت میں نظر آنا چاہئے تھا۔ لیکن ثانیہ نشتر ہمیں لنگر تقسیم کرتی نظر آئیں۔ 
کیا یہ مشورہ بل گیٹس کا ہے۔ ایسا ماحول بن گیا ہے کہ ثانیہ نشتر بھی اپنی صلاحیتوں سمیت بے بس ہیں۔ کئی ملکوں میں معیشت کو شاہراہ پر ڈالنے والے حفیظ شیخ بھی اب تک کوئی چمتکار نہیں دکھا سکے۔ 
اپنا پورٹ فولیو اٹھائے کبھی اس میٹنگ میں کبھی اُس میں۔ کبھی سیٹھوں کی سپہ سالار سے ملاقات میں پالیسیوں پر وضاحتیں دیتے۔ ابھی تک معیشت کو دھکا ہی لگا رہے ہیں۔ یہی حال اے آر ڈی یعنی عبدالرزاق دائود کا ہے۔ وہ اپنے حقیقت پسندانہ خیالات کو عملی جامہ پہنانے میں بے بس لگ رہے ہیں۔ ڈاکٹر عشرت حسین کی معاشی سوجھ بوجھ اور اصلاحاتی فکر کی تعریف ایک دنیا کرتی ہے۔
 اسٹیٹ بینک اور آئی بی اے میں ان کے نقوش قدم اب بھی جگمگا رہے ہیں۔ یہاں ان کی موجودگی کا کوئی اظہار نہیں ہو رہا ہے۔ ہمارے شبر زیدی۔ ٹی وی ٹاک شوز میں تنقید کرتے۔ ٹھوس تجاویز دیتے کتنے موثر لگتے تھے۔ اب بے اثر کیوں ہیں۔ اسی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان گفتگو تماشوں کے بقراطوں کو اگر عملاً کوئی ذمہ داری سونپ دی جائے تو گرد و پیش انہیں کتنا بے بس بنا دیتا ہے۔ سیکشن افسروں کے غول۔ جوائنٹ سیکرٹریوں۔
 ایڈیشنل سیکرٹریوں کی سمریاں۔ انہیں دن میں تارے دکھا دیتی ہیں۔ پارلیمنٹ جو خود کو سب سے بالا تر ادارہ کہلانے پر مصر ہے۔ سب سے زیادہ بے بس ہے۔ ارکان اپنے لیڈر کے بس میں اور لیڈر کسی اور کے بس میں۔
لیکن یہ یونیورسٹیاں۔ این جی اوز۔ تھنک ٹینک۔ دینی مدارس۔ خانقاہیں تو بے بس نہیں ہیں۔ ان کو تو آزادانہ تحقیق سے کوئی نہیں روکتا۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے حساب قدرتی اور معدنی وسائل سے نوازا ہے۔ ریکوڈک سر فہرست ہے۔ سینڈک ہے۔ زمرد کی کانیں ہیں۔ نقد آور فصلیں ہیں۔ گندم۔ گنا۔ کپاس۔ 
اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلائو گے۔ لاکھوں ایکڑ زمینیں کسان کے ہل کو ترس رہی ہیں۔ پہاڑ تیشۂ فرہاد کے منتظر ہیں۔
سبب صرف یہ ہے کہ اجتماعی اور قومی سطح پر ہم اپنی ضروریات شناخت نہیں کر رہے۔ ترجیحات کا تعین نہیں کر رہے۔ اکیسویں صدی میں ہماری حکمرانی کے انداز۔ سوچ کے زاویے 18ویں اور 19ویں صدی والے ہیں۔ 
حکومت کے خلاف احتجاج بھی ہم اسی ڈھب سے کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں اب تک جو تحریکیں نتیجہ خیز رہیں۔ ایوب خان۔ یحییٰ خان۔ بھٹو صاحب۔ بے نظیر۔ نواز شریف کے خلاف۔ سب میں غیر سیاسی قوتوں کی دلچسپی تھی۔ اب تو یہ دلچسپی حکومت وقت میں ہے۔ 
اس کا مطلب ہے کہ احتجاج میں بھی ہم بے بس رہیں گے۔ جب انفرادی قیادت بے بس ہو تو اجتماعی قیادت کارگر ہوتی ہے۔ اس لیے پوری قوم کو مل کر قیادت سنبھالنا چاہئے۔ ضروریات اور ترجیحات کا تعین صرف وزیراعظم اور ان کی کابینہ پر نہ چھوڑیں اور نہ ہی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کسی معجزے کا انتظار کریں۔  یونیورسٹیاں سیمینار منعقد کریں۔ تجاویز مرتب کریں۔ دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ بھی باصلاحیت ہیں۔ وہ بھی راستہ دکھائیں۔ راستہ روکنے والی کوششوں کا حصّہ نہ بنیں—– by-mehmood -sham-published -in-jang

اپنا تبصرہ بھیجیں