کراچی سونے کی چڑیا ۔کے الیکٹرک کا منافع 12 ارب سے بڑھ گیا ۔

کے الیکٹرک کی انتظامیہ نے کراچی کے شہریوں کی جیب سے 12 ارب روپے سے زیادہ منافع نکال لیا ۔شہری مہنگی بجلی کے بل ادا کرکے کنگال ہو رہے ہیں دوسری طرف کے الیکٹرک انتظامیہ کے بینک اکاؤنٹس بھرتے جارہے ہیں اس لیے یقینی طور پر یہ لوگ تو ان تمام کرداروں کو ہمیشہ دعا ہی دیتے رہیں گے جنہوں نے کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو نجکاری کے عمل سے گزار کر کے الیکٹرک بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور کے الیکٹرک کی نجکاری ہونے کی وجہ سے مختلف لوگوں کی آئندہ نسلیں سنور  گئی ہیں ۔کے الیکٹرک مختلف ہاتھوں میں ہوکر جن موجودہ مالکان کے پاس ہے وہ صرف بینک اکاؤنٹ بھرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ کے الیکٹرک کی بدانتظامی لاپرواہی اور غفلت اور نااہلی سے شہر میں کتنے لوگ بجلی کے تار گرنے کمبو سے چمٹنے کرنٹ لگنے سے ہلاک ہورہے ہیں یا اپنی  جان گنوا بیٹھے ہیں ۔انہیں اس بات کی بھی زیادہ فکر نظر نہیں آتی کہ اس طرح ایسے واقعات کی روک تھام کرنی ہے انتظامیہ کے بارے میں شہریوں میں عام تاثر ہے کہ بارش ہو یا دیگر موسم ۔کے الیکٹرک کی طرف سے چند سطروں کا ایک پیغام جاری کر کے حفاظتی تدابیر بتا دی جاتی ہیں اور یوں کے الیکٹرک خودکو کسی بھی واقعہ حادثے اور نقصان سے بری الذمہ قرار دے دیتی ہے یا خود کو بری الذمہ سمجھتی ہے ۔شہری اس قانون کو سمجھنے سے بھی قاصر ہیں جو سرمایہ کاری کی وجہ سے کمپنی کو تحفظ دیتا ہے لیکن مرنے والے شہریوں اور ان کے لواحقین کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیتا ہے یہ کیسی بے رحمی ہے کیسی ناانصافی ہے لیکن کراچی کے شہری کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں کہاں جاکر انصاف مانگیں جائیں تو جائیں کہاں ؟ایک گھر سے نوجوانوں بچوں اور ہر عمر کے لوگوں کے جنازے اٹھتے دیکھے گئے جن  کی موت  کی وجہ  بظاہر کرنٹ لگنا تھا ۔دوسری طرف کے الیکٹرک کے اپنے اعلان کے مطابق اس کا منافع 12 ارب روپے سالانہ سے تجاوز کر گیا ہے گزشتہ برس یہ منافع دس روپے تھا جو بڑھ کر بارہ ارب تیس کروڑ تک پہنچ گیا ہے ۔کے الیکٹرک کمپنی کے شیئرز میں ویلیو میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ کے الیکٹرک انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ادارے نے بجلی کی پیداوار ترسیل اور تقسیم کے شعبوں میں مزید 44 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے اور کے الیکٹرک کے مالیاتی اور آپریشنل کارکردگی کے اہم اشاریوں میں مسلسل ترقی دیکھنے میں آئی ہے ۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو پیش کردہ رپورٹ میں کے الیکٹرک نے بتایا ہے کہ 12 ارب 30 کروڑ روپے کا منافع ہوا ہے جبکہ 2017 میں اسی مساوی مدت میں 10 ارب روپے کا منافع ہوا تھا ۔ٹرانسمیشن اور ڈسٹریبیوشن کے نقصانات بیس فیصد سے زیادہ ہیں ۔ شہریوں کے لیے یہ سوال زیادہ اہم ہے کہ آخر یہ نقصانات کیسے اور کہاں سے پورے کیے جا رہے ہیں اور بیس فیصد سے زیادہ نقصان اٹھانے والی کمپنی شہریوں کی جیبوں سے نہیں تو اور کہاں سے لائن لاسز پورے کر رہی ہے ؟لائن لاسز میں کمی لانے کے لیے منافع میں سے کمپنی اور رقم دینی چاہیے لیکن ایسا نہیں کیا گیا کمپنی کا موسم منافع مسلسل بڑھ رہا ہے اور لائن لاسز کا سارا بوجھ  شہریوں پر ڈال دیا گیا ہے جن کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ شریف اور قانون پسند شہری ہیں اور بجلی کا بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں