عارف حبیب کے چھپے کارناموں کی کہانی ۔ان کی دولت اور شہرت کس بدولت ہے -؟

ان کا گروپ ایک آکٹوپس کی طرح مختلف شعبوں کا بزنس کیسے اپنی لپیٹ میں لیتا گیا ؟
وہ پچاس برس کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی سو ارب روپے سالانہ کمانا چاہتے تھے اور پھر انہوں نے ایسا کر دکھایا مگر کیسے ؟
یہ واقعی ایک سچی کہانی ہے کامیابیوں کے بھرپور سفر سے بھری ہوئی ۔جیسے جیسے آپ ان کے کارنامے جانتے چلے جائیں گے آپ پر ایک انتہائی محنتی ذہین قابل با صلاحیت خوش قسمت شخص کی شخصیت کے وہ پہلو بھی اجاگر ہوں گے جو عام حالات میں دنیا سے مخفی رہتے ہیں کیونکہ اس  شخص کو خود نمائی کا شوق نہیں ہے یہ شخص دوسروں پر اپنی دولت کا روپ نہیں ڈالتا ۔یہ اس کی بہترین خاندانی تربیت و اعلی اخلاقی اقدار اور مضبوط خاندانی پس منظر کا عکاس ہے یہ دوسروں کو نہ تو شرمسار کرتا ہے نہ ہی ان کو اپنی طاقت اور دولت سے مر عوب ۔بلکہ یہ تو دکھی دلوں کا سہارا ہے نہ جانے کتنے ضرورتمندوں کے کام آتا ہے اور خاموشی سے لوگوں کی مدد کرکے قلبی سکون محسوس کرتا ہے ۔دولت تو قارون کے خزانوں میں کیا کم تھی کیا کوئی اس کا مقابلہ کر سکتا ہے لیکن اللہ تعالی نے دولت جمع کرنے والوں سے لے کر جنت بنا کر خدائی کا دعوی کرنے والوں تک سب نافرمانوں کو نیست و نابود کیا اور نشان عبرت بنایا ۔ضدی  خود سر ،ظالم اور جابر حکمرانوں کو بھی شکست سے دوچار کیا یا عذاب الہی کا نشانہ بنایا ۔بات ہو رہی تھی عارف حبیب کی کامیابیوں کارناموں اور خدمات کی ۔انہوں نے سال 2012 میں 11 ہزار سے زائد افراد کو اپنے گروپ میں ملازمت کے ذریعے روزگار کا موقع فراہم کیا ان کا گروپ سو ارب روپے سالانہ ریونیو کماتا ہے ۔ 1952 میں کراچی میں پیدا ہونے والے عارف حبیب کراچی میں ہی رہتے ہیں کوئینز روڈ پر عارف حبیب گروپ آف کمپنیز کا ہیڈ آفس پاکستان بھر میں پرائیویٹ اداروں کے بہترین خوبصورت اور دلکش کرنے تعمیرکے اعلیٰ نمونوں میں سے ایک ہے یہ چمکتا دمکتا دفتر اور اس کی عالیشان عمارت اپنی خوبصورتی کے ذریعے اس گروپ کی کامیابیوں کی تصویر دکھاتی ہے ۔بنیادی طور پر عارف حبیب پاکستان اسٹاک کا بڑا نام ہے بلکہ ایک پہچان ہے اور پاکستان کابرانڈ ہے اب تو انہیں کاروباری مقناطیس کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے ۔میمن برادری کے لئے فخر کا باعث بننے والے عارف حبیب بانٹوا گجرات سے تعلق رکھنے والے خاندان کے چشم وچراغ ہیں گجرات بھارت میں ان کا خاندان چائے کے کاروبار سے منسلک تھا اور اس کی پراپرٹی تھی 1947 میں کیا میں پاکستان کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے کراچی آگیا اس خاندان نے کافی کچھ بھارت میں چھوڑ دیا اور پاکستان میں نئے سفر کا آغاز کیا ۔انیس سو ستر میں محض 17 سال کی عمر میں عارف حبیب نے اسٹاک  بر وکر کی حیثیت سے اپنے کیرئیر کی شروعات کی ۔ان کے بڑے بھائی نے ٹریڈنگ لائسنس حاصل کیا ان کی ابتدائی تنخواہ 60 روپے ماہانہ تھی ۔لوگوں کے سرمائے سے شیئرز کی خرید و فروخت کر کے انہوں نے شعبے میں معلومات تجربہ اور صلاحیت حاصل کی اور پھر مہارت بڑھتی گئی انیس سو بانوے میں وہ وقت بھی آیا جو وہ کراچی اسٹاک ایکسچینج کے صدر بنے اور ا س کی کمپیوٹرائزیشن کی اور پھر مزید پانچ مرتبہ وہ کراچی سٹاک ایکسچینج کے صدر منتخب کیے گئے ۔انہوں نے کامیابی کی نئی منازل طے  کیں ۔ زندگی کے نئے سنگ میل عبور کیے سال 2000 میں انہوں نے پاکستان میں ایسٹ Asset  مینیجمنٹ کی طرف پیش قدمی کی آج ان کی اس کمپنی کے پاس 50 ارب روپے سے زائد کافلو ہے ۔پاکستان میں ہونے والی نجکاری کے باعث عارف حبیب  اپنے بزنس کو دیگر شعبوں تک پھیلانے کا ارادہ کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ فرٹیلائزر سیمنٹ اور اسٹیل پروڈکٹس کی طرف آگئے اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بینکنگ کے شعبے میں بھی قدم جمائے ۔سال 2004 سے لے کر سال 2008 تک ان کے گروپ نے مختلف کاروباروں میں 2 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کردی ۔سال 2007 اور 2008 کے مالی بحران کے دوران اس گروپ کو بھی زبردست جھٹکا لگا اور یہ ایک کڑا وقت تھا اکثر کلائنٹس ڈیفالٹ کر گئے کراچی سٹاک ایکسچینج کا ہنڈریڈ انڈیکس دو مہینے میں اڑتالیس فیصد نیچے گر گیا ۔البتہ عارف حبیب نے کارپوریٹ سیکٹر کی آمدنی کے باعث خود کو سنبھالا دیا آج بھی وہ پاکستان کے سرکردہ کامیاب بزنس مین ہیں ۔بے شمار اعزازات اور ایوارڈ جیت چکے ہیں اللہ نے ان کو مضبوط اعصاب کے ساتھ ساتھ بڑا دل بھی دیا ہے ان کا شمار پاکستان کے سرکردہ مخیرحضرات میں ہوتا ہے جیوے  پاکستان ڈاٹ کام  ان کی خاموش نیکیاں سامنے لانے کا ارادہ نہیں رکھتا لیکن آنے والی رپورٹس میں جی پاکستان ڈاٹ کام عارف حبیب  کی شخصیت سے جڑے بعض اہم کرداروں کے بارے میں چونکا دینے والی معلومات آپ کے سامنے لائے گا کامیابی کا زینہ تیزی سے چڑھنے والے اس حیرت انگیز سفر کے چند انتہائی اہم راز اور سیکرٹ بھی آپ کے سامنے آئیں گے جنہیں پڑھ کر آپ دنگ رہ جائیں گے تب تک وزٹ  کرتے رہیے