ہزاروں ایرانی خواتین نے 40 سال بعد میچ دیکھا

واضح رہے ایران میں خواتین پر میچ دیکھنے کی پابندی سحر خدایاری کی موت کے بعد ہٹی جس نے میچ دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم میں جانے کی کوشش کی  اور اسے گرفتار کر لیاگیا، جیل جانے کے خوف سے لڑکی نےخود کو عدالت کے باہر آگ لگا لی تھی۔
ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق، 40 سال کی پابندی ختم ہونے کے بعد تقریبا 4000 سے 4,500 ایرانی خواتین میچ دیکھنے کے لئے اسٹیڈیم میں داخل ہوئیں جبکہ مردوں کی تعداد تقریبا 6000 تھی، ابتدا میں صرف اسٹیڈیم کے چار حصوں کو خواتین کے لیے کھولا گیا تھا جس میں 3000 سے 3,500 تک خواتین کی جگہ تھی لیکن پھر بعد میں 1000 خواتین کے لیے مزید جگہ دے دی گئی تھی۔
ایرانی خواتین کا کہنا ہے کہ یہ پابندی صرف اور صرف فیفا حکام کے دباؤ کی وجہ سے ختم ہوئی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں