وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی سفارش پر ورلڈ بینک نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی ( ایس ایس ڈبلیو ایم اے) کو سالڈ ویسٹ مینجمنٹ میں دنیا کا ایک بہترین ادارہ بنانے کے لیے 10 ملین ڈالرز کی رقم مختص کی ہے ۔

کراچی  وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ  کی سفارش  پر ورلڈ بینک نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی  ( ایس ایس ڈبلیو ایم اے) کو سالڈ ویسٹ مینجمنٹ  میں دنیا کا  ایک بہترین ادارہ بنانے کے  لیے  10 ملین ڈالرز   کی رقم  مختص کی ہے ۔ اس امر کا اظہار آج وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور ورلڈ بینک کے 8 رکنی وفد جس کی قیادت  اس کے گلوبل  ڈائریکٹر  فار اربن ، ریزیلینس اینڈ لینڈ پریکٹس  گروپس   ڈاکٹر سامھ ناقیوب  وہابہ ٹیڈروس کررہے تھے  کے درمیان ہونے والے  اجلاس  میں کیاگیا۔وفد کے دیگراراکین  میں منیجر اربن سیکٹر  ان  سائوتھ ایشیاء ڈاکٹر کیٹیالینا  میرولینڈا ، منیجر ریزیلینس پریکٹس ان سائوتھ ایشیاء  کرسٹوفی پُش ودیگر  شامل تھے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کی معاونت چیئرپرسن پی اینڈ ڈی ناہید شاہ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری  ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری داخلہ  اور پی ڈی کراچی نیبرہوڈ امپرومنٹ پروگرام (کے این آئی پی)قاضی کبیر اور دیگر نے کی۔وزیراعلیٰ سندھ  نے کہا کہ سندھ  سالڈ ویسٹ  مینجمنٹ  اتھارٹی  کا قیام  حال ہی میں عمل میں لایا گیا ہے  یہ   ایک نیا ادارہ ہے اور اسے تجربہ حاصل کرنے میں  لازمی طورپر وقت لگے گا مگر  اس کے باوجود  اسے سائنٹیفک بنیادوں پر چلانے کی  اور اسے ملک کا   ایک لیڈنگ سالڈ ویسٹ  مینجمنٹ  ادارہ بنانے کی  اشد ضرورت ہے ۔  اس پر ورلڈ بینک کے  گلوبل ڈائریکٹر ڈاکٹر سامھ  نے کہا کہ  کراچی نیبر ہوڈ امپرومنٹ پروگرام ( کے این آئی پی )  میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لیے  معاہدے ہوسکتاہے ۔ انہوں نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کے لیے ایک  نئی لینڈ فل سائٹ کی تعمیر  اور  اس کی استعداد کار میں اضافے  اور ٹیکنیکل مہارت  کے لیے  10 ملین ڈالرز  مختص کرنے پر  اتفاق کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ  وہ  شہر کے مضافات میں ماحول دوست  اور ایک جدید لینڈ فل سائٹ کو ڈیولپ کرنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  یہ لینڈ فل سائٹ  تمام ضروری مشینری آلات  اور ٹیکنیکل اسٹاف سے آراستہ ہوگی اور  بجلی کی پیداوار کے لیے  بھی قابل استعمال ہوگی۔انہوں نے کہا کہ  گاربیج اٹھانے پر  لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بجائے وہ کچرے بطور فنڈ جنریشن ورک کے طورپر بنانے  کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر  ہم یہ ہدف حاصل کرلیتے ہیں  تو پھر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی  ایک خود کفیل  ادارہ بن جائے گا۔وزیراعلیٰ سندھ کی درخواست پر ورلڈ بینک نے  شہر کے مضافات میں  500ایکڑ سے زائد رقبے پر  ایک لینڈ فل سائٹ   کی تعمیر پر  آمادگی ظاہر کی  اس کے لیے زمین حکومت فراہم کرے گی۔ ایس آر پی :  وزیراعلیٰ سندھ اور ورلڈ بینک کے وفد کے مابین اجلاس میں  ایک اور پروجیکٹ بھی زیر غور آیا جو کہ سندھ ریلائنس پروجیکٹ (ایس آر پی ) تھا۔ایس آر پی 9984 ملین روپے کا منصوبہ ہے جس کے تحت ایریگیشن کا کام  بشمول  6 چھوٹے ڈیمز تعمیر کرنا ہے ۔ یہ منصوبہ سیلا ب سے تحفظ ، چھوٹے ریچارج ڈیمز جن سے  خشک سالی پر قابو جاسکے اور  فلش فلڈنگ رسک اور محکمہ آبپاشی کو فنی معاونت  فراہم کرنا ہے ۔6 ڈیموں ،کونکر،جنگ شاہی، صبوسن اور سنکار،بنسر/راٹھی،نیگ کا تقریباً 77 فیصدتک کام ہوچکاہے۔ یہ ڈیم  ملیر،جامشورو،ٹھٹھہ، سجاول ، دادو ، مٹیاری اور تھرپارکر اضلاع میں  واقع ہیں ۔ورلڈ بینک کی ٹیم نے کہا کہ  ملیر میں  ڈیم کی تعمیر سے واٹر ٹیبل اچھے طریقے سے بہتر ہوجائے گی ۔یہ واٹر ٹیبل حالیہ بارشوں کے بعد  400 فٹ تا 100 فٹ تک  پہنچ گیاتھا۔اسی طرح کا اثر کوہستان اور تھرپارکر کے علاقوں میں بھی  پڑے گا۔ ایس آر پی کے تحت  مختلف سرگرمیوں کا آغاز کیا جارہاہے ، اس کے تحت ڈیزاسٹر   مینجمنٹ  انفارمیشن سسٹم  کی ترقی ،پرونشل ایمرجنسی آپریشنل سسٹم کا قیام،موبائل یونٹس کا قیام،ڈیزاسٹر/ایمرجنسی کمیونیکیشن سسٹم،ہیٹ ویوز ریزیلینس اربن فوریسٹیشن  کے ذریعے،ایگریکلچر ہزڈس اسسمنٹ،اسکول بیسڈ ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ،قبل از وقت  وارنگ سسٹم اور سمندری انٹریکشن اسسمنٹ شامل ہیں۔کے این آئی پی :  کراچی نیبر ہوڈ  امپرومنٹ پروگرام  کے تحت اس کے  پروجیکٹ ڈائریکٹر  قاضی کبیر نے ورلڈ بینک کی ٹیم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ  آرٹس کونسل کے اطراف میں ترقیاتی کام شروع کیے جاچکے ہیں۔ علاقے میں نئی ڈرینیج سسٹم تعمیر کی جارہی ہے ۔ڈرینیج سسٹم پر کام جاری ہے جبکہ  آرٹس کونسل کے سامنے سڑک بھی تعمیر کی گئی ہے  اور کراچی میوزیم کے سامنے  پارکنگ لاٹ کی تعمیر کا کام جاری ہے ۔ عبدالرشید چنا میڈیا کنسلٹنٹ ، وزیراعلیٰ سندھ

اپنا تبصرہ بھیجیں