ایکسائز چوکیوں پر تعینات عملہ گاڑیوں کے کاغذات اور موٹر وہیکل ٹیکس چیک کرنے کا مجاز نہیں

منشیات کی روک تھام کیلئے ایکسائز چوکیوں کو مذید فعال کیا جائے۔ مکیش کمار ۔ صوبائی وزیر برائے ایکسائز این ٹیکسیشن و انسداد منشیات اور پارلیمانی امور مکیش کمار چاولہ نے افسران پر زور دیا ہے کہ صوبے میں منشیات کی روک تھام کیلئے ایکسائز چوکیوں کو مذید فعال بنایا جائے اور افسران اور عملے کے اراکین ایکسائز چوکیوں پر اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دیں۔ یہ بات آج انہوں نے اپنے دفتر میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں سیکریٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و انسداد منشیات عبد الحلیم شیخ، ڈائریکٹر جنزلز شبیر احمد شیخ، شعیب احمد صدیقی اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ نے مزید کہا کہ ان ایکسائز چوکیوں کا مقصد منشیات کی برآمدگی کے لئے مشکوک گاڑیوں کی تلاشی لینا لیکن کسی کو غیر ضروری طور پر پریشان کرنا نہیں ہے اور جو ایسا کرے گا اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان ایکسائز چوکیوں پر تعینات عملہ گاڑیوں کے کاغذات اور موٹر وہیکل ٹیکس چیک کرنے کا مجاز نہیں ہے اور کسی بھی صورت ٹریفک کی روانی کو متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و انسداد منشیات اور پارلیمانی امور مکیش کمار چاولہ نے افسران اور عملے کے اراکین کو ہدایت دی کہ صرف روڈ چیکنگ مہم کے دوران ہی وہ گاڑیوں کے کاغذات اور موٹر وہیکل ٹیکس چیک کرسکتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو مذید ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ایکسائز چوکیوں کے اچانک دورے کیا کریں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ ان چوکیوں پر متعین عملہ قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایکسائز کا عملہ دوران ڈیوٹی مکمل یونیفارم پہنے اور ان پر ان کے ناموں کے بیجز بھی آویزاں ہونا چاہیے۔ صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و انسداد منشیات اور پارلیمانی امور مکیش کمار چاولہ نے افسران کو متنبہ کیا کہ صحیح طریقے سے فرائض انجام نہ دینے والوں کے سخت کارروائی کی جائے گی۔ ہینڈآﺅ ٹ نمبر 912۔۔۔ایم یو

محکمہ اطلاعات حکومت سندھ        فون۔۔99204401 کراچی مور خہ09 اکتو بر 2019 کلین کراچی مہم کے دوران تجاوزات کا بھی خاتمہ کیا جائے گا۔ مرتضیٰ بلوچ کراچی 9 اکتوبر۔ صوبائی وزیر برائے انسانی بستیوں غلام مرتضیٰ بلوچ نے کہا ہے کہ کلین کراچی مہم کے دوران نالوں پر قائم تجاوزات کا بھی خاتمہ کیا جائے گا اور اس مہم میں ہر ادارے اور ہر شخص کو اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات آج انہوں نے کلین کراچی مہم کے تحت وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی نواب وسان کے ہمراہ ملیر کے مختلف علائقوں کا دورہ کرتے ہوئے کہی۔ صوبائی وزراءکے ساتھ ڈی سی ملیر عبدالحلیم جاگیرانی ، چیئرمین بلدیہ ملیر جان محمد بلوچ بھی موجود تھے۔صوبائی وزراءنے بھٹائی آباد، دھنی بخش خاصخیلی گوٹھ ، راشدی گوٹھ اور بھینس کالونی میں صفائی ستھرائی کے کام کا جائزہ لیا۔صوبائی وزیر مرتضیٰ بلوچ نے شادی خان چوک پر سیوریج کی خرابی اور گندہ پانی سڑک پر آنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ صوبائی وزیر نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو بھٹائی آباد میں سیوریج کی جلد درستگی کرنے کی بھی ہدایت کی۔ دورے کے موقع پر صوبائی وزیر برائے انسانی بستیوں غلام مرتضیٰ بلوچ نے دھنی بخش گوٹھ کے سیوریج نالے پر تجاوزات کے خاتمے کے لئے ڈی سی ملیر کو ہدایت کی۔ ڈی سی ملیر نے نالے پر قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لئے رھائشیوں کو ایک ھفتے کا نوٹس دے دیا ہے۔ کلین کراچی مہم کے تحت ڈسٹرکٹ ملیر کے میمبران کی ہدایت پر بھینس کالونی روڈ کے ساتھ قائم تجاوزات کے خلاف کاروائی کی اور تجاوزات کا خاتمہ کردیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر برائے انسانی بستیوں غلام مرتضیٰ بلوچ نے کہا کہ وزیر اعلءسندھ سید مراد علی شاہ کی واضع ہدایت پر کلین کراچی مہم میں ملیر سمیت پورے کراچی کو صاف کیا جارہا ہے اور مہم کے مثبت اثرات سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملیر کے کنٹومنٹ کے ایریاز کی صفائی میں کنٹومنٹ بورڈ انتظامیہ کو بھی کلین کراچی مہم میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس پر نواب وسان نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی میں برسوں سے پڑے ہوئے کچرے کو صاف کر رہی ہے۔ ہینڈ آﺅ ٹ نمبر 913۔۔۔ایم یو

محکمہ اطلاعات حکومت سندھ        فون۔۔99204401 کراچی مور خہ09 اکتو بر 2019  پیپلز پارٹی احتساب کیلئے تیار ہے مگر یہ یکساں ہونا چاہیئے،وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی  زبان بندی کے لیے ہمارے لوگوں کوہراساں کیاجارہاہے،اعجاز جکھرانی کے  گھرچھاپے کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں،مشترکہ پریس کانفرنس کراچی 09اکتو بر۔ وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ زبان بندی کے لیے ہمارے لوگوں کوہراساں کیاجارہاہے، الیکشن ٹربیونل کی جانب سے 14 اکتوبر کو اعجاز جاکھرانی کی پٹیشن پر دوبارہ ووٹوں کی گنتی کے فیصلے کے خوف نے حکومتی صفوں میں ہلچل مچادی ہے۔ نیب کوسرگرم کر کے ہمارے لوگوں کوتنگ کیاجارہا ہے تاکہ انہیں دباو ¿میں لایاجاسکے۔ ہم اعجاز جکھرانی کے گھرچھاپے کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، رینجرز کا کام نیب کو سیکورٹی فراہم کرنا ہے لیکن گذشتہ رات نقاب پوش رینجرز کے اہلکاروں نے خواتین کے کمروں کی تلاشی لی جو اختیارات سے تجاوز کرنے کے مترادف ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز اپنے دفتر میں مشیر جیل خانہ جات اعجاز جکھرانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ گذشتہ رات اعجاز جکھرانی کے گھرپرنیب نے چھاپہ ماراکوئی بھی ادارہ احتساب کرے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن جانبدارانہ احتساب کے خلاف ہیں، اعجاز جکھرانی نے الیکشن ٹربینونل سے رجوع کیاہوا ہے چودہ اکتوبرکوری ووٹنگ کا عمل شروع ہونے کا امکان ہے یہ چھاپہ دباو ¿ ڈالنے کے لیے مارا گیا ہے کیونکہ خورشید شاہ سمیت دیگرجیالے گرفتار ہیں لیکن تاحال ان کے خلاف کوئی ریفرنس ہی فائل نہیں کیا گیا جبکہ دوسری جانب حسنین مرزاکے خلاف چالیس کروڑ روپے کا ریفرنس فائل ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔عباس جکھرانی کوبھی عدالت نے ضمانت دے رکھی ہے لیکن ان کو بھی ہراساں کیاجارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی کارروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، چیف جسٹس آف پاکستان کہہ چکے ہیں کہ ملک میں احتساب ون سائیڈڈ کیاجارہاہے۔انہوں نے کہا کہ فریال تالپورکی پراپرٹی آج تک ثابت نہیں ہوسکی ہے اور ان کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ علیمہ خان کی دبئی اور امریکہ میں جائداد ثابت ہوگئی ہیں اور اس کا وہ اقرار بھی کرچکی ہیں لیکن ان کو گرفتار کرنے میں نیب کے چیئرمین اور نیب والوں کے پر جل جاتے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ ملک میں انصاف کے ساتھ مذاق کیاجارہاہے حکومت کی نااہلیوں کوچھپانے کیلیے انتقامی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جکھرانی کے گھر چادرو چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ رینجرز نے بھی اختیارات سے تجاوز کیارینجرز اہلکار وں نے اعجاز جکھرانی کے اہل خانہ کے کمروں کی تلاشیاں لیں، جب کہ اعجاز جکھرانی کے وکیل کو وارنٹ بھی نہیں دکھائے گئے اورانہیں گلی سے باہر روکا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اعجاز جکھرانی کے گھر میں خواتین کے ساتھ مرد اہلکار بھی اندر گئے۔ رینجرز اہلکار ان کے کمروں میں کیا کرنے گئے تھے کیا رینجرز کا یہ کام تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ثقافت ہے خواتین کا احترام کیا جاتا ہے لیکن یہاں اس کو بھی روندا گیا۔یہ سلوک خورشید شاھ اور آغا سراج کے ساتھ بھی کیا گیا تھا۔ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا کہ ہم،کشمیر، مہنگائی اور عوام کے ایشوز پر بول رہے ہیں اس لیے ہمارے خلاف کارروائی کی جارہی ہے، جس دن یہ بولنا چھوڑیں گے اس دن یہ انتقام ختم ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قیادت ہر مقدمے میں باعزت بری ہونگے کیونکہ ان کیسز میں کچھ نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ رینجرز کے خلاف خط لکھنے کے اختیار ہونے کے بارے میں مجھے علم نہیں ہم وہاں رینجرز پر اعتراض نہیں کرسکتے، مگر جس طرح کاروائی کی گئی یہ غلط ہے زرداری کہہ چکے ہیں ہم پر لگائے جانے والے الزامات ثابت کریں۔ جبکہ علیمہ پر تو الزام ثابت ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ نیب والے بڑے ڈھیٹ ہیں وہ پیپلز پارٹی کے خلاف کام ثواب دارین سمجھ کر کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی احتساب کے لیئے تیار ہے مگر یہ یکساں ہونا چاہیئے اگر وزیراعظم کی 5 سو افراد کی فہرست سامنے آئی تو ان کی آدھی کابینہ جیل میں ہوگی۔
ہینڈ آو ¿ ٹ نمبر 914۔۔۔۔

محکمہ اطلاعات حکومت سندھ        فون۔۔99204401 کراچی مور خہ09 اکتو بر 2019 کراچی 9 نومبر ۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی سید ریاض حسین شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے شروع کی گئی صفائی مہم موثر انداز میں جاری تاہم اس سلسلی ? شہریوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جگہ جگہ کچرا پھینکنے کی بجائے اپنے اطراف میں صفائی کا خیال رکھیں بصورت دیگر دفعہ 144 کے تحت کارراوائی کی جائے گی۔ یہ بات نہوں نے آج صفائی انتظامات کے لیے قائم کی گئی مانیٹرنگ کمیٹی کے میمبر کی حیثیت سے ضلعہ جنوبی (کراچی) کے مختلف علائقوں کے دورے کے دوران کہی۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر صدر اور گارڈن اور محکمہ بلدیات، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ضلعی انتظامیہ کے دیگر افسران بھی ان کے ہمراہ تھے، اس موقع پر بات کرتے ہوئے معاون خصوصی سید ریاض حسین شاہ نے صدر، ریگل چوک، گارڈن اور دیگر علائقوں میں صفائی مہم کا جائزہ لیا اور دکانداروں سے ملاقات کر کے صفائی مہم کو مزید موثر بنانے کے لیے تعاون کی اپیل کی، اس موقع پر دکاداروں کی جانب سے صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے صفائی اقدامات پر اطمینان کا اظھار بھی کیا گیا، جبکہ معاون خصوصی نے دکانداروں اور دیگر شہریوں کی جانب سے صفائی کے سلسلے میں لاپرواہی برتنے پر وارنگ دیتے ہوئی کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے اس ضمن میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے جس کی خلاف ورزی کی صورت میں نہ ایف آئی آر ہو سکتی ہے بلکہ جرمانہ بھی کیا جاہے گا، انہوں نے متعلقہ افسران کو ایسی کسی بھی خلاف ورزی پر کارروائی کی ہدایت بھی کی معاون خصوصی نے دوران جائزہ یو سی 18 اورنج اسٹریٹ کی سڑکوں پر گندے پانی کے جمع ہوجانے کا نوٹس لیتے ہوئے موقع پر واٹر بورڈ حکام کو فون کر کے جلد از جلد مسئلہ حل کرنے کا کہا جبکہ وہاں موجود شہریوں کے صفائی سے متعلق مسائل سنے اور اسسٹنٹ کمشنر گارڈن کو اس کے فوری حل ہدایت کی۔ ہینڈ آو ¿ ٹ نمبر 915

محکمہ اطلاعات حکومت سندھ        فون۔۔99204401 کراچی مور خہ09 اکتو بر 2019 کسی صورت زمین کا اسٹیٹس تبدیل کرکے میگا اسٹور اور شادی ہال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی  چیف سیکریٹری سندھ ۔سید ممتاز علی شاہ کراچی 9 اکتوبر .چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے کہا کے کسی کو بھی کراچی کے زمین کا اسٹیٹس تبدیل کر کے رہائشی عمارت سے شادی ہال یا میگا اسٹور میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ بات انہوں تجاوزات کے خاتمے کے متعلق اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی۔ اجلاس میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قاضی شاہد پرویز، کمشنر کراچی افتخار شالوانی، سیکریٹری بلدیات روشن علی شیخ، ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن، ڈی جی ایس بی سی اے، ڈی جی کے ڈی اے ، پیمرا، اور کے الیکٹرک کے نمائندوں سمیت تمام کنٹونمنٹ بورڈ کے سی سی اوز نے شریک کی۔اجلاس میں کمشنر کراچی کی تجاویزات کے خاتمے کے خلاف جاری آپریشن کے متعلق بریفنگ دی۔ انہونے بتایا کے شہر کے 1578 پارکس میں بیشتر میں سے غیرقانونی تجاوزات ہٹادی گئی ہے اور کچھ پارکوں میں مساجد اور دیگر سافٹ تجاوزات ہیں۔ انہونے مزید بتایا کے شہر کے 34 نالون سے بھی غیرقانی تجاوزات ختم کردی گئی ہیں۔چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کے شہر کے تمام پارکس، نالوں اور فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو ختم کیا جائے اور حکومت سندھ نے بھی اپنے دفاتر نیشنل میوزیم سے ہٹائیں ہیں کسی کو بھی پارک اور دیگر سرکاری زمینوں پر قبضے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اجلاس میں میٹروپولیٹن کمشنر نے بتایا کے شہر میں جگہ جگہ زمینوں کا اسٹیٹس تبدیل کر کے میگا اسٹور کھولے جارہے ہیں اور مختلف اسپتالوں کے آگے میڈیکل اسٹور ہیں جو کسی محکمے سے این او سی نہیں لیتے۔ چیف سیکریٹری سندھ نے کمشنر کراچی اور ڈی جی ایس بی سی اے سے کراچی کے شادی ہال اور میگا اسٹور کے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کے شہر میں بننے والی غیرقانونی شادی ہال اور میگا اسٹور سے ٹریفک متاثر ہورہی ہے۔ شہر کے اسپتالوں کے سامنے سے غیرقانونی میڈیکل اسٹور اور دیگر تجاوزات ہٹادی جائےں۔ انہونے سیکریٹری بلدیات سے کہا کے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی گورننگ باڈی کا نوٹیفکیشن جلد جاری کیا جائے۔ ممتاز علی شاہ نے کہا کے ٹی وی اور انٹرنیٹ کیبل کی تاروں کو بجلی کے کھمبوں سے ہٹایاجائے، ان تاروں سے نا صرف شہر کی خوبصورتی پر اثر پڑا ہے بلکہ لوگوں کی جان کو بھی خطرہ ہے۔ انہونے کمشنر کراچی افتخار شالوانی کو ہدایت کی کے کیبل ایسوسی ایشن سے ملاقات کر کے 2 ماہ میں کیبل وائر ہٹانے کے لئے کہا جائے۔ ہینڈ آو ¿ ٹ نمبر 916
محکمہ اطلاعات حکومت سندھ        فون۔۔99204401 کراچی مور خہ09 اکتو بر 2019 کراچیمیں گھر گھر پینے کے صاف اور معیاری پانی کی فراہمی کے لیے منصوبے پر ورلڈ بینک سو ملین ڈالر خرچ کرے گا ۔وزیربلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ   کراچی 09اکتوبر۔ کراچی میں گھر گھر پینے کے صاف اور معیاری پانی کی فراہمی کے لیے منصوبے پر ورلڈ بینک سو ملین ڈالر خرچ کرے گا یہ بات ورلڈ بینک مشن کے ایک وفد نے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ سے ان کے دفتر میں ایک ملاقات اور اجلاس کے دوران بتائی اجلاس میں ورلڈ بینک کے وفد میں مائیکل ہنی، اینڈر یاسن رہوڈ، فرحان سمیع، ثناءکرام شامل تھے، جبکہ سکریٹری لوکل گورنمنٹ سندھ روشن علی شیخ ایم ڈی واٹر بورڈ ارسد اللہ خان ، پروجیکٹ ڈائریکٹر ایوب شیخ اور ڈائریکٹر انویسٹمنٹ شکیل قریشی بھی اس موقع پر موجود تھے وزیر بلدیات نے اس موقع پر بتایا کہ اس منصوبے کے تحت واٹر بورڈ کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا جائے گا تاکہ کراچی کے تمام شہریوں کو پینے کے صاف اور معیاری پانی کی گھر گھرفراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اس کے علاوہ منصوبے میں واٹر بورڈ کی جانب سے کراچی میں پانی کی فراہمی، نکاسی آب کے علاوہ منصوبے میں سیوریج سسٹم کو بھی مزید بہتر بنا نا ہے منصوبے کے پہلے فیز میں سو ملین ڈالر کی لاگت سے کراچی واٹر اینڈ اینڈ سیوریج بورڈ کی ریفارم شامل ہے پہلے فیس کو تین حصوں میں بانٹا گیا ہے واٹر بورڈ کی رفارم پانی کی فراہمی ہو نکاسی آپ کے نظام کو دیرپا مضبوط اور مستقل بنیادوں پر بنانا ہے جس پر 77 ملین ڈالر خرچ کیے جائیں گے جبکہ تیسرے کمپونینٹ میں پروجیکٹ اسٹیویز اور دیگر حوالوں سے 16 ملین ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔ وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ یہ کراچی کے شہریوں کے لیے گھر گھر پانی کے صاف اور معیاری پانی کی فراہمی کا ایک اہم منصوبہ ہے لہذا حکومت اور ورلڈ بینک مل کر اس منصوبے سے متعلق تمام امور کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنائیں گی اور پروجیکٹ کی شفافیتاور معیار کو برقرار رکھنے میں اقدامات اور اپنا کردار ادا کریں گے انہوں نے وفد کو اپنی اور حکومت کی جانب سے پروجیکٹ کے سلسلے میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی صوبائی وزیر نے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ منصوبے کو معیار کے مطابق وقت مقررہ پر مکمل کرنے کے سلسلے میں اپنی ٹیم کے ساتھ ہر ممکن اقدامات کو یقینی بنایا جائے شکایت معیاراور غفلت برداشت نہیں کی جائے گی سیکریٹری بلدیات روشن علی شیخ نے اس موقع پر کہا کہ پروجیکٹ کی ایڈمنسٹریٹیو منظوری دے دی گئی ہے جبکہ منصوبے کے لیے پروجیکٹ ڈائریکٹر سمیت اس کی ٹیم کا تقرر کر دیا گیا ہے انہوں نے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر اپنا اور پلان جمع کرادیں جس میں مقررہ وقت اور دیگر پلان کی تفصیلات بھی شامل ہو ہینڈ آو ¿ ٹ نمبر 917(ایم ایس ایس) محکمہ اطلاعات حکومت سندھ        فون۔۔99204401 کراچی مور خہ09 اکتو بر 2019 کراچی 9 آکتوبر ۔سندھ حکومت کے ترجمان مشیر قانون ، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کی ہدایت پر کے ایم سی انسنیریشن پلانٹ پر بدھ کے روز چھاپہ مارا گیا ۔چھاپہ سندھ انوائرونمنٹل پروٹیکشن ایجنسی ( سیپا) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل وقار پھلپوٹو، ڈپٹی ڈائریکٹر وارث گبول کی سربراہی میں لگایا گیا سیپا کی ٹیم میں انوسٹی گیشن آفیسر انسپکٹر راو ¿ زیشان، فیصل ملک اور زیشان علی بھی شامل تھی چھالے کے دوران اسپتالوں سے نکلنے والے فضلہ کو ٹھکانے لگانے کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سیپا وقار پھلپوٹو کے مطابق کے ایم سی کے دو میں سے ایک انسنیریشن پلانٹ بند پایا گیا جبکہ دوسرا پلانٹ مکمل طور پر فعال نہیں تھا جبکہ اسپتالوں کا فضلہ کھلی فضاءمیں جلایا جارہا تھا کھلی فضاء میں فضلہ جلائے جانا ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہا تھا۔انسنیریشن پلانٹ پر فضلہ ٹھکانے لگانے کے اعدادوشمار بھی دستیاب نہیں تھے ڈپٹی ڈائریکٹر سیپا ضلع غربی وارث علی گبول کے مطابق اسپتالوں سے نکلنے والا فضلہ انتہائی خطرناک ہے۔یہ فضلہ ہماری آئندہ نسلوں کے تحفظ کے لئے قانون کے مطابق جلایا جلانا انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ سیپا کی ٹیم کی اطلاع ملتے ہی کھلی فضائ میں جلایا جانے والی جگہ کو صاف کردیا گیا تاکہ اسکی باقیات نہ ملے تاہم انسنیریشن پلانٹ کے باہر اسپتال کا فضلہ موجود تھا جسے جلایا گیا تھا اس میں درجنوں سرنج، ڈرپس، ادویات کی خالی بوتلیں شامل تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ کے ایم سی انسنیریشن پلانٹ پر کوئی افسر بھی موجود نہیں تھا تاہم کارروائی کے بعد ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کے لئے نوٹس جاری کر دیا گیا ہے سندھ حکومت کے ترجمان مشیر قانون ، ماحولیات و ساحلی ترقی سندھ بیرسٹر مرتضی وہاب نے اس تمام کارروائی کو سراہتے ہوئے سیپا ٹیم کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا کہ اسپتال کے فضلے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگایا جانا ضروری ہے اسپتال کے فضلے کو ٹھکانے نہ لگانے جانے سے ہیپاٹائٹس سمیت دیگر بیماریاں پھیلتی ہیں لہذا ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کرایا جائے ہینڈ آو ¿ ٹ نمبر 918

اپنا تبصرہ بھیجیں