کراچی واٹر بورڈ پر ورلڈ بینک کا حملہ ۔ بجلی کے بعد پانی بھی نجی ہاتھوں میں جانے والا ہے ۔شہری ہوجائیں خبردار

کراچی واٹر بورڈ پر ورلڈ بینک کا حملہ ۔ بجلی کے بعد پانی بھی نجی ہاتھوں میں جانے والا ہے ۔شہری ہوجائیں خبردار۔صوبائی حکومت نے اچانک کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو کر دی ہے جس کی وجہ سے محکمہ بلدیات اور واٹر بورڈ کے متعلقہ حلقوں میں گہری تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اچانک یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس کے سنگین نتائج کیا مرتب ہوں گے ۔صوبائی حکومت کے اس اچانک اقدام پر قانونی سوالات بھی اٹھائے جارہے ہیں اور اس اقدام کو واٹربورڈ کے متعلقہ ایکٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور اس ایکٹ سے متصادم قرار دیا جا رہا ہے اور صوبائی حکومت کے اقدام پر حیرت اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے چیف سیکرٹری سندھ کو اندھیرے میں رکھ کر نہ جانے کیا فیصلے آئی کرانے کی کوشش کی جارہی ہے صوبائی اسمبلی سے منظور شدہ ایکٹ کے خلاف ورزی کیسے کی جا سکتی ہے چیف سیکرٹری بغیر سندھ اسمبلی میں گئے بورڈ ایکٹریس کی تشکیل نو کیسے کر سکتے ہیں لیکن سات اکتوبر کو صوبائی حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کرکے یہ اقدام اٹھا دیا ہے نئے نوٹیفیکیشن کے مطابق نو تشکیل شدہ بورڈ کا چیئرمین وزیربلدیات ہے ممبران میں سیکرٹری بلدیات اور ایم ڈی واٹر بورڈ سیکرٹری خزانہ سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سمیت دیگر افسران اور بعض من پسند شخصیات کو شامل کیا گیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صوبائی حکومت نے ورلڈ بینک سے بھاری قرضہ حاصل کرنے کے لیے بلڈنگ کی شرائط پر عملی جامہ پہناتے ہوئے اٹھایا ہے اور اب یہ بات واضح ہورہی ہے کہ کہ الیکٹرک کی طرح اب کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ بھی نجکاری کی طرف اپنا سفر شروع کرنے جا رہا ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ بجلی کے بعد پانی بھی نجی ہاتھوں میں آنے والا ہے شہریوں کو اس موقع پر ہوشیار خبردار ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے جب تک پانی کی فراہمی اور انتظام سرکار کے ذمہ ہیں اس بات کی پوری امید اور توقع ہے کہ شہریوں کو پانی ملتا رہے گا لیکن جیسے ہی یہ انتظام اور فراہمی کا نیٹ ورک نجی کمپنی یعنی نجی ہاتھوں میں گیا تو یہ بات ہے ہوجائے گی کہ پھر پانی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائے گا نجی کمپنی من مانے ریٹ پر پانی فروخت فراہم کرے گی نجکاری کے بعد غریب شہریوں کا پانی کاحصول خواب بن جائے گا اس معاملے پر فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اگر دیر ہوگئی تو یہ معاملہ غیر ملکی قرضوں کی شرائط کی بھینٹ چڑھ جائے گا ۔صوبائی حکومت تاحال اس معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن متعلقہ ماہرین کا کہنا ہے کہ صورت حال انتہائی تشویش ناک محلے تک پہنچ چکی ہے







اپنا تبصرہ بھیجیں