اسوقت دھرنہ مناسب نہیں، اسے روکنے کا طریقہ بھی مناسب نہیں

  امیر محمد خان -اسوقت دھرنہ مناسب نہیں،  اسے روکنے کا  طریقہ بھی مناسب نہیں   ” میں اس اسمبلی کو  آگ لگادونگا، میں اس ملک کوآگ لگا دونگا “  شیخ رشید کے اقوال زریں ، بجلی کے بل نہ دو،  پیسہ  ہنڈی سے بھیجو ،  چئیرمین  تحریک انصاف  کے دوران دھرنہ  بیانات، اور نہ جانے کیا کیا  ۔  2014  میں تاریخی دھرنے ایجاد ہوئے، مولانہ  طاہر القادری کے  مدرسوں کے  طلباء  اور انکے مسلک سے متعلق  انکے کارکنان نے ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوکر  ان دھرنوں کو  کامیاب بنایا  جہاں روزآنہ  کی  ولولہ انگیز  تقاریر اور میوزک پروگرام  نے مجمع کو خوب گرمایا،  اسی جوش و خروش میں  پارلمینٹ پر  چڑھائی کی بات بھی ہوئی،  سرکاری  ٹی وی پر حملہ بھی کیا گیا۔  مگر  اسوقت کی حکومت نے  روائیتی  پکڑا دھکڑی  اور کسی بھی قسم کے تشدد سے مکمل گریز کیا۔انکے خلاف کرپشن کا  اتنا پروپگنڈہ ہوچکا تھا  کہ شائد وہ اپنے آپ کو چور ہی سمجھ بیٹھے تھے نیز  پاکستان کی  پارلیمانی  سیاست میں سابقہ واقعات کی روشنی میں انہیں یہ بھی پریشانی تھی کہ  ”نہ جانے انکے پیچھے کون ہے  َ“بہرحال  انتخابات میں وہ لوگ حکومت  سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اس دھرنے کے بعد بھی  اسلام آباد دھرنہ ہوا جہاں دھرنے کے شرکاء کو  سرعام  پیسہ تقسیم کرکے انہیں گھر بھیجا گیا ۔ اس تمام کہانی تحریر کرنے مقصد یہ ہے کہ  سب سے  اول تو یہ کہ  اسوقت  پاکستان کی  مسئلہ کشمیر  پر پالیسی ، پر  حکومت  کے ہاتھ مضبوط ہوں  تاکہ  ہندوستان،  اور دیگر دنیا و  کشمیر مجاہدین کو یہ پیغام جائے کہ  پاکستان کی آزادی کشمیر کیلئے جدوجہد  صرف  بیانات، جنرل  اسمبلی  میں  تقریر ،  ٹرمپ سے ملاقات تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے عوام  بہ حیثیت  ایک متحد قوم کشمیر کی آزادی چاہتے ہیں  چونکہ  یہ ہمارے قائد اعظم کی خواہش  اور پاکستان کی جغرافیائی ، وہ  پانی کی ضرورت ہے۔ اسلئے ہم  حق خود ارادیت کی بات کرتے ہیں کہ یہ ہی  وہ طریقہ ہے  جس سے کشمیر ی عوام  حق رائے دہی سے اپنی پاکستان سے  وابستگی   و الحاق  کا اعلان کرسکتے ہیں ۔ سیاسی تجزیہ نگار یہ کہتے ہیں  اور سچ ہی کہتے ہیں کہ  یہ وقت   ”دھرنہ بازی“ کا نام  نہیں  اسے کبھی دھرنہ  کبھی آزادی مارچ کہا جارہا ہے  ، مگر دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے  حکومت مولانہ فضل الرحمان کی اسلام آباد پڑاؤکو روکنے کیلئے جو اقدامات کررہی  وہ بھی مناسب نہیں، دھرنے کے مخالفین کی جانب سے  دھرنہ کی مخالفت میں کچھ شرم انگیز قسم کے پوسٹرز اور پمفلٹ  کی تقسیم   بلکہ  اسپر  حکومتی وزراء  کے اسکی تائید میں ٹوئیٹ    کسی  نہائت  ہی  ”چھی چھورے  پن “ سے زائد نہیں اگر  دھرنہ والے یا حکومتی مخالفین 2014  دھرنوں کے متعلق  اول فول بکنا شروع کردیں تو یہ ایک نہائت نازیبا بات ہوگی۔ سابقہ وزیر اعظم  میاں نواز شریف   اس پر  بیان بھی دے چکے ہیں  جسے کسی بھی باشعور شخص  نے پسند نہیں کیا تھا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ”مذہب کارڈ “ استعمال کرنے کی بات ہورہی ہے مگر  افسوس اس بات  کا ہے  یہ مذہبی کارڈ مختلف  ادوار میں مختلف  لوگ استعمال کرتے ہیں جسکی وجہ  یورپ  اور  غیر اسلامی ممالک کے کمپیوٹرز میں  پاکستان کی پہچان ہی  مذہبی انتہاء پسندی   کے نام  سے  موجود ہے ۔  جسے  وزیر اعظم  عمران خان  نے اپنی حالیہ  جنرل  اسمبلی کی تقریر سے  کسی حد  تک  مغربی دنیا کے ذہنوں سے  دھونے کی کوشش کی۔ پاکستان میں مذہبی کارڈ کو صرف اور صرف اپنے مقاصد کیلئے  قوتوں نے استعمال کیا۔اسکی ابتداء محترمہ فاطمہ جناح کے وقت سے شروع جب ایوب خان  اور  انکی روٹی کھانے والے ملاؤں نے  فاطمہ جناح کی سیاست  اور ملک کی سربراہ بننے  کی کوششوں کے خلاف ان علماء  سو  نے فتوے دئے،  مرحوم ضیاء  الحق نے اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے بھی  ایک عجیب مزاحیہ قسم کا  ریفریڈم کرایا تھا  کہ اگر آپ اسلام چاہتے، نظام محمد ﷺ چاہتے ہیں  تو  میں پانچ سال  تک اس ملک کا سربراہ رہونگا۔  اس سلسلے میں پہلی دفعہ بیرون ملک پاکستانیوں کو لائین میں لگا کر  ووٹ ڈالوائے گے  مجھے یاد ہے ان لائینوں میٰں  پاکستانی کم  برمی زیادہ تھے۔  یہ ایک مضحکہ خیز ریفریڈم تھا  اس مذہبی کارڈ پر  صرف پانچ فیصد ووٹ آئے جسکا اعلان یوں کیا گیا کہ  95 فیصد ووٹرز نے جنرل  ضیاء الحق کے حق میٰں ووٹ دیا ہے۔  مرحوم جنرل حمید  گل نے  IJI   اسلامی جمہوری  اتحاد کی داغ بیل ڈلوائی  تمام مذہبی جماعتوں کو  فنڈنگ کرکے  یہ  کاروائی  محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کے وزیر اعظم بننے کے خلاف تھی،بظاہر  یہ نعرہ لگایا کہ  اسلام میں عورت کا سربراہ ہونا جائز نہیں۔ مذہبی جماعتوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود  اور  مذہبی جماعتوں کی  ”غیبی  مدد‘‘  کے باوجود  پاکستان میٰں کوئی بھی مذہبی جماعت  انتخابات میں چند  نشستوں کے علاوہ  کوئی کارہائے نمایاں نہ دکھاسکیں۔9/11  اور افغانستان میں طالبان سے  چھڑی جنگ کے بعد  صوبہ سرحد میں اور کچھ حد تک بلوچستان میں  مذہبی جماعتیں بلکہ  یوں کہا جائے کہ  مولانہ فضل الرحمان اور انکے ساتھی  حکومت  بناسکے،  2013   کے انتخابات میں سرحد  میں جماعت اسلامی کے تعاون سے  تحریک انصاف نے حکومت نے بنائی  غرض مذہبی کارڈ اپنے مقاصد کیلئے ہمیشہ  ہی استعمال ہوا  جسکا مقصد کبھی بھی  ملک میں نظام  مصطفے ﷺ کا قیام نہیں بلکہ  اپنے مقاصد کی تکمیل تھی۔  اگر موجودہ حکومت  کے پاس  فردوس عاشق اعوان جیسے  عظیم مفکروں کے علاوہ  یا  وزیر امور کشمیر  گنڈہ  پور   جو یہ کہتے ہیں   ٹی وی پر  آن ائر ہوکر کہ  ’کلبھوشن کو  ہم نے  ہندوستانکو بھیج دیا ہے،  وہ کتنے عقل مند ہین  اسلئے انکے خلاف کسی نے کوئی  ایکشن بھی نہیں لیا  کے علاوہ    بھی کچھ  ہوں تو  یہ سمجھنا چاہئے کہ  پی پی پی ،  اور مسلم لیگ کو  انکے سربراہوں اور رہنماؤں کی گرفتاریوں کی وجہ سے مسائل تو ہیں  وہ  اس مسئلے پر کہیں نہ کہیں مشاورت  یا  سودے بازی کے موڈمیں تو ہونگے  مگر  یہ  حقیقت ہے  نہ ہی مسلم لیگ  اور نہ پی پی پی  مدرسوں کے  طالب علموں اور مدرسوں کی انتظامیہ کی قیادت میں ہونے  والے کسی  دھرنے میں اپنی بھر پور طاقت سے  شامل نہیں ہونگے،  مسائل ہیں  عام عوام بھی بڑی تعداد میں  آسکتے ہیں  مگر  بینر  یا  اسٹیج تو  مولانہ فضل الرحمان کا ہے۔ اسلئے بہتر ہے  مولانہ  28 اکتوبر  کو یوم کشمیر تک ہی اس اجتماع کو محدود رکھیں۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں