خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے والے قوانین کی موجودگی کے باوجود ان کے خلاف جبر و تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی مقامی تنظیم ’این و سالش کیندرا‘ کے مطابق بنگلہ دیش میں رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران ہر روز تین خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ جنوری سے جون 2019 تک 630 خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی، 37 خواتین کو زیادتی اور تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا جبکہ سات خواتین نے اپنی جان خود لے لی۔
تنظیم کے مطابق 105 خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش بھی کی گئی۔

بنگلہ دیش میں رواں برس اپریل میں ایک 19 سالہ سکول طالبہ کو اس کے ہیڈ ماسٹر کے کہنے پر آگ لگا کر قتل کر دیا گیا جس کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ طالبہ نے ہیڈ ماسٹر کی جانب سے اسے جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شکایت کی تھی۔
واضح رہے کہ صرف بنگلہ دیش ہی نہیں بلکہ انڈیا اور پاکستان میں بھی گھریلو تشدد ایک اہم مسئلہ ہے اور ان ممالک میں اس طرح کے واقعات اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں۔
رواں برس مارچ میں لاہور میں ایک خاتون اسما عزیز کو اس کے شوہر نے مبینہ طور پر دوستوں کے سامنے رقص نہ کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے بال مُونڈ دیے تھے
بنگلہ دیش میں ناشتے میں سے بال نکلنے پر بیوی کا سر مُونڈنے والے شخص کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پولیس نے دیہاتیوں کی اطلاع پر ملک کے شمال مغربی ضلعے جوئے پورہٹ کے گاؤں میں 35 سالہ ببلو مونڈال کو گرفتار کیا ہے۔   
مقامی پولیس کے سربراہ شہریار خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ملزم کی اہلیہ نے اس کے لیے دودھ اور چاول سے ناشتہ تیار کیا تھا جس میں سے انسانی بال نکل آیا۔‘
’ناشتے میں بال دیکھنے پر ملزم غصے میں آ گیا اور اس نے اپنی بیوی کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے زبردستی بلیڈ سے اس کا سر مُونڈ دیا۔‘
پولیس سربراہ کے مطابق ’ملزم کو اپنی 23 سالہ بیوی پر تشدد اور دیگر دفعات کے تحت 14 برس تک قید ہو سکتی ہے