نومبر تک صوبے کی 22 جیلوں میں آٹومیشن سسٹم لگایا جائے گا۔ چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ

نومبر تک صوبے کی 22 جیلوں میں آٹومیشن سسٹم لگایا جائے گا۔ چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ
چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ اور وفاقی محتسب کی زیر صدارت جیل اصلاحات پر اہم اجلاس۔
صوبائی حکومت ٹھٹہ، شہید بینظیر آباد اور ملیر میں نئیں جیل بنا رہی ہے۔ اجلاس میں آگاہی
کراچی (8 اکتوبر 2019) صوبے کے جیلوں کی حالت بہتر بنانے کیلئے سندھ سیکریٹریٹ میں اہم اجلاس منعقد ہوا،  چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ، وفاقی محتسب سید طاہر شہباز،  سیکریٹری داخلہ، آئی جی جیل سمیت وفاقی اور صوبائی حکومت کے متعلقہ افسران اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے کہا کہ صوبے میں وفاقی محتسب کے دی گئی سفارشات پر جیلوں میں اصلاحات لائے جارہے ہیں، جیلوں میں اصلاحات کے لئے محکمہ تعلیم، صحت، سوشل ویلفیئر اور سول سوسائٹی کام کررہی ہیں۔ انہونے مزید کہا کے صوبائی جیلوں کے لئے اوور سائیٹ کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں جن میں عدلیا، سول سوسائٹی، تعلیم و صحت کے ماہرین اور مخیر حضرات شامل ہیں۔ یہ اوور سائیٹ کمیٹیاں مختلف جیلوں کو دورہ کر کے اصلاحات اور انتظامی امور کا جائزہ لیتی ہیں۔ ممتاز علی شاہ نے مزید کہا کے صوبائی حکومت نے صوبے کے جیلوں میں قیدیوں کے اصلاحات کے لئے تعلیم اور صحت اور ٹیکنیکل تربیت کے حصول کو آسان بنایا ہے۔ قیدیوں کو لیگل ایڈ بھی دی جاتی ہے۔  انہونے نے بتایا کے صوبائی جیلوں میں آٹومیشن سسٹم لگا رہے ہیں۔  نومبر تک 22 جیلوں میں آٹومیشن سسٹم کا نیٹورک لگ جائے گا۔ آٹومیشن سے عدلیا، پولیس اور نادرہ کا سسٹم ملایا جائے گا جس سے کیس مینیجمینٹ اور رکارڈ کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی۔ انہونے مزید کہا  کے صوبے کی جیلوں میں 100 سے زائد انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اہلکار بھرتی کئے جائیں گے۔ صوبے میں میلر، شہید بینظیر آباد اور ٹھٹہ میں 3 نئیں جیل بنائے جارہے ہیں اور موجودہ جیلوں کی توسیع بھی کی جارہی ہے۔ وفاقی محتسب نے حکومت سندھ کے جیل رفارمس کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ نے جیل اصلاحات میں بہت اچھا کام کیا ہے۔ حکومت سندھ کے اصلاحات کو رپورٹ کا حصہ بنا کر سپریم کورٹ میں پیش کریں گے۔ اجلاس میں سیکریٹری داخلہ سندھ اور آئی جی جیل نے بتایا کے  اس وقت صوبے میں 1308 قیدی پرابیشن قانون کے تحت باہر ہیں۔ سندھ کے جیلوں میں خواتین اور نوعمر قیدیوں کے ہیپاٹائٹس کی اسکریننگ بھی مکمل کرلی گئی ہے اور دیگر قیدیوں کی ہیپاٹائٹس اور دیگر بیماریوں کی اسکریننگ بھی جلد مکمل کی جائے گی۔ انہونے اجلاس کو مزید بتایا کے صوبائی حکومت نے 339 ملین روپے مختلف قیدیوں کو رہائے کے لئے دیت، عرش اور دمن  کی مد میں دیئے ہیں۔ اجلاس میں سیکریٹری داخلہ سندھ عبد الکبیر قاضی، مشیر برائے وفاقی محتسب اعجاز قریشی، آئی جی جیل خانہ جات نصرت منگھن سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں