عالمی نمبر ایک پاکستان کو لگاتار دوسری شکست

ناتجربہ کار سری لنکن ٹیم نے عالمی نمبر ایک پاکستان کو دوسرے ٹی20 میچ میں بھی آؤٹ کلاس کرتے ہوئے 35 رنز سے شکست دے کر سیریز 0-2 سے اپنے نام کر لی۔
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سیریز کے دوسرے ٹی20 میچ میں سری لنکا کے ٹی20 کپتان داسن شناکا نے پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔
سری لنکا نے میچ کے لیے اپنی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی تھی اور گزشتہ میچ کی فاتح الیون کو برقرار رکھا تھا۔
پاکستان نے ٹیم میں دو تبدیلیاں کرتے ہوئے فہیم اشرف اور افتخار احمد کی جگہ فخر زمان اور وہاب ریاض کو فائنل الیون کا حصہ بنایا تھا۔
سری لنکا نے اننگز کا آغاز کیا تو 16 کے مجموعی اسکور پر گزشتہ میچ کے ہیرو دھنشکا گونا تھیلاکا 15 رنز بنانے کے بعد عماد وسیم کو وکٹ دے بیٹھے۔
اس موقع پر راجا پکسے اور آوشکا فرنینڈو نے اسکور کو 41 تک پہنچایا ہی تھا کہ وکٹوں کے درمیان غلط فہمی کے نتیجے میں فرنینڈو کی اننگز اختتام کو پہنچی۔
اس مرحلے پر راجا پکسے کا ساتھ دینے شیہان جے سوریا آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے تیسری وکٹ کے لیے 95 رنز کی شراکت قائم کی خصوصاً راجا پکسے نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے تمام پاکستانی باؤلرز کی خوب خبر لی۔
34 رنز بنانے والے جے سوریا کے رن آؤٹ ہونے کے نتیجے میں یہ شراکت اختتام کو پہنچی جبکہ 142 کے مجموعی اسکور پر راجا پکسے بھی ہمت ہار گئے لیکن آؤٹ ہونے سے قبل انہوں نے 48 گیندوں پر 6 چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے 77 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔
یکے بعد دیگرے وکٹیں گرنے کے باوجود اختتامی اوورز میں کپتان داسن شناکا کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت سری لنکا کی ٹیم ایک بڑا مجموعہ ترتیب دینے میں کامیاب رہی۔
سری لنکا نے مقررہ اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 182 رنز بنائے، شناکا نے 15 گیندوں پر ایک چھکے اور 3 چوکوں کی مدد سے 27رنز بنائے۔
پاکستان کی جانب سے عماد وسیم، شاداب خان اور وہاب ریاض نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
پاکستان نے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو اوپنر فخر زمان اور بابر اعظم دونوں ہی قابل ذکر کھیل پیش نہ کر سکے اور بالترتیب 6 اور 3 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے۔
کپتان سرفراز احمد نے جارحانہ انداز اپنانے کی کوشش کی اور 16 گیندوں پر 13 رنز بنانے والے احمد شہزاد کے ہمراہ 40 رنز جوڑ کر اسکور کو 51 تک پہنچا دیا لیکن ونندو ہسارنگا ڈی سلوا کے ایک اوور نے میچ کا پانسہ مکمل طور پر سری لنکن ٹیم کے حق میں پلٹ دیا۔
انہوں نے ایک ہی اوور میں تین وکٹیں حاصل کرتے ہوئے احمد شہزاد، عمر اکمل اور پھر 26 رنز بنانے والے کپتان سرفراز کو چلتا کردیا۔
عمر اکمل ایک مرتبہ پھر ناکامی سے دوچار ہوئے اور لگاتار دوسرے میچ میں گولڈن ڈک پر وکٹ گنوا بیٹھے۔
5وکٹیں گرنے کے بعد آصف علی کا ساتھ دینے عماد وسیم آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے ٹیم کا اسکور آگے بڑھانا شروع کیا۔
عماد وسیم نے قدرے جارحانہ انداز اپنایا اور 29 گیندوں پر 8 چوکوں کی مدد سے 47 رنز کی اننگز کھیلی اور آصف علی کے ساتھ مل کر چھٹی وکٹ کے لیے 75 رنز کی شراکت قائم کر کے پاکستان کی جیت کی موہوم سی امید پیدا کی۔
لیکن 127 کے مجموعے پر وکٹوں کے سامنے پیڈ لانے کی پاداش میں آؤٹ قرار دیے گئے جبکہ وہاب ریاض بھی ایک چوکا مارنے کے بعد نووان پرادیپ کی گیند پر وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے۔
آصف علی کئی مواقع ملنے کے باوجود بھی بڑے شاٹس مارنے میں ناکام رہے اور 27 گیندوں پر صرف 29 رنز بنانے کے بعد ان کی اننگز بھی اختتام کو پہنچی۔
پاکستان کی پوری ٹیم 19 اوورز میں 147 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور سری لنکا نے میچ میں 35 رنز سے کامیابی سمیٹنے کے ساتھ ہی تین میچوں کی سیریز میں بھی 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل کر لی۔
77 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلنے والے راجا پکسے کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
اس شاندار کارکردگی کی بدولت سری لنکا نے پاکستان کے خلاف پہلی ٹی20 سیریز جیتنے کا اعزاز بھی حاصل کر لیا۔
یاد رہے کہ سری لنکا نے ہفتے کو لاہور میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے ٹی20 میچ میں پاکستان کو 64 رنز سے شکست دی تھی۔