پھر سندھ کو بھول جائیں

وزیراعظم کو سیاسی مشورہ دیا جا رہا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں پیپلزپارٹی مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شامل نہ ہو، تو پھر سندھ کو بھول جائیں۔
سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی 101 فیصد مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہوگی، وزیراعظم کو سیاسی مشورہ دیا جا رہا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں پیپلزپارٹی مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شامل نہ ہو، تو پھر سندھ کو بھول جائیں۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی 101فیصد مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہوگی،لیکن عمران خان کو کیا کہا جا رہا ہے؟ یہ اس کو دیکھیں ذرا، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ نظام میں گڑبڑہے۔
اس نظام میں یہ گڑ بڑ ہے، اگر اس مرحلے میں مراد علی شاہ کو یا سندھ کے دوسرے وزراء کو گرفتار کرنا تھا ، یا 149لگانی تھی، وہ جو سارا منصوبہ چل رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو سیاسی مشورہ دیا جا رہا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں پیپلزپارٹی مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شامل نہ ہو، تو پھر سندھ کو بھول جائیں، تاکہ پیپلزپارٹی ساتھ نہ ہو۔

لیکن میں بتاؤں کہ پیپلزپارٹی مولانا صاحب کے ساتھ ہوگی۔عمران خان کو علم ہے کہ نمبر گیم اوپرنیچے ہورہے ہیں، قاسم سوری کی ایک سیٹ توچلی گئی ہے۔عمران خان کے پا س اسمبلی میں نمبرز ہی اتنے ہیں۔ن لیگ بھی جے یوآئی ف کے دھرنے میں ساتھ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی ایک اہم ترین غیر سیاسی شخصیت سے ملاقات ہوئی ہے، جو کسی اچھے نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔
مولانا صاحب اپنی بات پر بضد ہیں کہ وہ دھرنا اور احتجاج کریں گے۔ مزید برآں سینئر تجزیہ کاراور صحافی حامد میر نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں انتہائی احتیاط کے ساتھ یہ بتا سکتا ہوں کہ حکومت کے کچھ لوگوں نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، حکومتی لوگوں نے مولانا فضل الرحمان سے بدتمیزی کی اور تلخ کلامی بھی ہوئی۔
اگر ان سے پیارسے بات کی جاتی تو ہوسکتا ہے وہ مان جاتے۔لیکن جب بدتمیزی کریں گے توان کا فیصلہ تبدیل نہیں کرواسکتے۔ شیخ رشید کو شاید پتا نہیں تھا کہ پردے کے پیچھے کیا ہورہا ہے۔ان سے بدتمیزی کی گئی توانہوں نے اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کیا۔حامد میر نے کہا کہ شاہ محمود قریشی جو مرضی کہتے رہیں ۔میں بتانا چاہتا ہوں کہ اگر مولانا فضل الرحمان سے پیار سے بات کرتے تو وہ مان جاتے۔
لیکن ان کو کہا ہم آپ کی ایسی تیسی مار دیں گے مولانانے کہا کہ پھر جو کرنا کرلو۔اسی طرح سینئر تجزیہ کار مبشرلقمان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان حکومت کیلئے خطرہ بن چکے ہیں،حکومت کی صفوں میں پی ٹی آئی کے نظریاتی لوگ نہیں۔نہ ہی حکومت کے پاس کوئی پالیسی ہے،دراصل حکومت نے ان کوبالکل سنجیدہ نہیں لیا،ان کا خیال تھا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ ان کے ساتھ نہیں نکلے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں