صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے ہر شخص کی محفوظ اور موثر دوا تک رسائی ٖضروری ہے

:ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پرو وائس چانسلر پروفیسر کرتار ڈوانی نے کہا ہے کہ پاکستان میں صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے ہر شخص کی محفوظ اور موثر دوا تک رسائی ٖضروری ہے، یہی وجہ ہے کہ فارماسسٹ کا کردار پاکستان میں دن بدن بڑھتا جا رہاہے، ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے میڈیکل اسٹورز پر اس شعبے کے تعلیم یافتہ افراد کی تعیناتی ٖضروری ہے، تاکہ دواؤں کی درست ترسیل ہوسکے، یہ باتیں انہوں نے ڈاؤ میڈیکل کالج آف فارمیسی میں ورلڈ فارمیسی ڈے کے سلسلے میں ہونے والے سمپوزیم میں کہی، اس موقع پر ڈاؤ کالج آف فارمیسی کی پرنسپل پروفیسر سنبل شمیم، ڈین ڈاؤ کالج آف فارمیسی نور جہاں، پریزیڈینٹ میڈیشور لیبارٹریز  پروفیسر فیصر وحید سمیت دیگر فیکلٹی ممبرز اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی،جبکہ ورلڈ فارمیسی ڈے کے حوالے سے پوسٹر سازی، ٹیبلو اور تقریر کے مقابلے بھی منعقد ہوئے، قبل ازیں عوامی  آگہی واک کی قیادت بھی پروفیسر کرتار ڈوانی نے کی، جبکہ اس موقع پر ڈاؤ کالج کی پرنسپل پروفیسر سنبل شمیم، ڈین آف ڈاؤ کالج آف فارمیسی پروفیسر نورجہاں  دیگر فیکلٹی ممبرز اور طلبہ کی بڑی تعداد نے واک میں شرکت کی،،پروفیسر کرتارنے کہا کہ فارمیسی کے طلبا کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے شعبے میں ہونے والی جدید معلومات حاصل کرنے میں بالکل بھی پیچھے نہ رہیں، بصورت دیگر ان کا کام خور کار مشینوں کے ہاتھ میں چلا جائے گا، اب ڈیٹڈ نالج ہی آپ کو دیگر سے ممتاز کرتی ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر سنبل شمیم نے کہا کہ فارماسسٹ کا مقام یہ ہے کہ دواؤں کی تحقیق،ان کی تشکیل سے لے کر مریض تک پہنچانے اور اس کے استعمال کومحفوظ اور موثر بنانے میں ڈاکٹر کے شانہ بشانہ فارماسسٹ کا کردار نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے، انہوں نے اس با ت پر بھی زور دیا کہ نوجوان فارماسسٹ کمیونیٹی اور ریٹیل فارمیسی میں اپنے کردار کو اجاگر کریں، اپنی موجودگی پاکستان کی ہر فارمیسی میں یقینی بنائیں، تاکہ میڈیکل کے شعبے سے ناواقف عوام داواؤں کے زہریلے اثرات سے محفوظ رہ سکیں، کیونکہ دواؤں کا غلط استعمال جان لیوا بھی ہوسکتاہے، انہوں نے مزید کہا کہ   ڈاکٹر کے نسخے پر درست عمل فارماسٹ ہی کروا سکتا ہے، مگر پاکستان میں اس بارے درست آگہی نہیں ہے، درست آگہی پھیلانے کے لیے کوششوں کی ضرورت ہے، انہوں نے فارمسٹ ہی دنیا میں ریسرچ کر رہے ہیں، ورلڈ فارمیسی المنائی مختلف دواؤں پر ریسرچ کر رہی ہے، دنیا میں ایجاد ہونے والی نئی انیٹی بائیوٹکس بھی فارماسسٹ کی تیار کردہ ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فارمسسٹ کے کردار کے متعلق آگہی مہم چلانے کی ضرورت ہے، جب تک اس کے کردار کا درست تعین نہیں ہو سکے گا، فارمیسی کے طلبا کو جائز مقام نہیں مل سکے گا،  دوا ساز ادارے  ڈاکٹر قیصر وحید نے فارمیسی میں طلبہ ہی طالبات کے لیے بھی راہیں کھلی ہیں، ڈگری ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ذہانت بھی اہم ہے، انہوں نے طلبا پر زور دیا کہ سوشل میڈیا پر لا یعنی سرگرمیوں کے بجائے مقصد یت کی طرف آئیں  اور اپنے شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھیں، بین الاقوامی ڈرگ ایجنسی کی ویب سائٹس سمیت دیگر متعلقہ ویب سائٹس پر معلومات کے حصول کے لیے وقت صرف کریں، ا س موقع پر خطاب کرتے ہوئے ہیلتھ کیئر سسٹم کو منظم کرنے فارماسسٹ کا کردار بہت اہم ہے، عالمی طور پر ورلڈ فارمیسی ڈے کو منانے کا مقصد بھی یہی ہے فارماسسٹ کے کردار کو اجاگر کیا جائے،اس موقع پر دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دوا ساز اداروں کے لاگتی اخراجات بڑھ جانے سے روز گار کے مواقع سکڑ گئے ہیں، اس لیے فارمیسی کے طلبا کی معلومات کو بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے لیے روز گار کے دروازے کھل سکیں، انہوں نے کہا کہ اس وقت سند ھ کی سطح پر ہاسپٹل فارمیسی میں 200فارماسسٹ گریڈ سترہ میں کام کر رہے ہیں، ان کی تعداد بڑھائے جانے کی ضرورت ہے، سینٹر پروفیسر فیاض بیگ نے کہا طلبا کو ایسا نصاب پڑھانے کی ضرورت ہے، جس کے نتیجے میں صنعتوں میں ان کی کھپت ہوسکے، مگر کچھ ایسی پابندیاں اعلی سطح سے لگادی جاتی ہیں، ہم نصاب بڑھانے کے لیے بعض اداروں کے پابند ہیں۔



کیٹاگری میں : صحت