وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر کشمیر گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور کی ماہر قانون بابر اعوان سے ملاقات ہوئی جس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی میڈیا افتخار درانی بھی موجود تھے۔
دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں مولانا فضل الرحمان کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر مشاورت کی گئی۔
نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق علی امین گنڈا پور قانونی نکات پر کل ایک مفصل پریس کانفرنس بھی کریں گے، فضل الرحمان کا بطور کشمیر کمیٹی کردار اور تقاریر ریکارڈ کا حصہ بنائی جائیں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف آئندہ ایک دو روز میں قانونی چارہ جوئی کا باقاعدہ آغاز کردیا جائے گا۔
چند روز قبل علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ نام نہاد آزادی مارچ والے قوم کے سامنے مزید بے نقاب ہوں گے، باشعور عوام فضل الرحمان کے ذاتی ایجنڈے کو ناکام بنائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کو ڈی آئی خان کے لوگوں نے ہی رد کردیا ہے، ان کی کارکردگی قوم کے سامنے ہے، مولانا طلبا کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال نہ کریں۔
علی امین گنڈا پور نے کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے ذاتی مقاصد کے لیے ہمیشہ مذہب کا سہارا لیا ہے، ان کو اسلام آباد کی یادیں ستا رہی ہیں۔
خیال رہے کہ جے یو آئی (ف) نے 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا ہے، مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مظاہروں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ شروع ہوگا