گلی کے کتوں کو سلامت رکھیں

تمام جانداروں کے لیے رحمدلی اور مہربانی کے رویے کو فروغ دینے کے اشد ضرورت ہے انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے حقوق کی پاسداری بھی ضروری ہے بے زبان جانوروں کے تحفظ اور ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے انسانوں کو ہی اقدامات کرنے ہیں ۔مال برداری کے لیے استعمال ہونے والے طاقتور گھوڑے گدھے اونٹ زراعت کے لیے استعمال ہونے والے طاقتور بیل دودھ دینے والی بکریاں گائے انڈے اور گوشت کا ذریعہ بننے والی مرغیاں ہو ں یا جنگل کے جانور ہو سمندری حیات ہو یہاں تک کہ گلی محلوں میں گھومنے والے کتے ہو ں پالتو کیا جنگلی بلیاں ہو ں ۔سانپ اژ دھے،مگرمچھ ،شیر، چیتے، ریچھ، بندر، بن مانس اور دیگر جانور اور پرندے ہو ں ان سب کا تحفظ کرنا چاہیے ۔

دنیا کے مختلف ملکوں میں جانوروں کے حقوق ہیں اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی گئی ہے ۔ پاکستان اور دیگر ملکوں میں اس حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت ہے کچھ قوانین موجود ہیں لیکن باقاعدہ قانون سازی کرکے جانوروں کے حقوق کو تحفظ دینا اور انہیں مارنے سے لوگوں کو روکنا ضروری ہے ۔عام طور پر جانوروں سے خوفزدہ ہو کر لوگ نہیں مار دیتے ہیں او جانور بھی خوفزدہ ہوکر انسانوں پر حملہ کر دیتے ہیں ۔ پاکستان میں اسٹریٹ ڈا گ  یا گلی محلوں میں موجود آوارہ کتوں کے حوالے سے ملک بھر میں بحث جاری ہے کہ انہیں کیسے قابو کیا جائے کیا انہیں مار دینا ہی مسئلہ کا واحد حل ہے یا دیگر ملکوں کی طرح باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے ان کی آبادی کو قابو میں لایا جائے ان کو ویکسین دی جائے انہیں طبعی زندگی جینے کا حق دیا جائے لیکن انہیں ایسی خطرناک حالت سے بچایا جائے جہاں یہ کسی انسان کے لیے خطرے کا باعث بنیں ۔  حکومت سندھ نے ملک بھر میں جانوروں کے تحفظ کے لئے قانون سازی کرنے کے معاملے میں دلچسپی لیتے ہوئے پہلے کردی ہے سیکرٹری بلدیات روشن علی شیخ نے صوبائی حکومت کی ہدایت پر اس سلسلے میں اہم تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے ضروری اقدامات اٹھائے ہیں قانون سازی کے لئے صلاح مشورے شروع ہو چکے ہیں ابتدائی مشاورت اور اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں جانداروں کے تحفظ بالخصوص اسٹریٹ ڈاگز کے حوالے سے ایک منظم منصوبہ بندی اور پالیسی بنائی جارہی ہے جس کا مقصد ان کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں کمی لانا ہے اور خود ان کتوں کی آبادی کو کم کرنا اور ان کو جینے کا حق دینا ہے۔

 

عائشہ چندریگر فاؤنڈیشن کے نام سے ایک تنظیم پاکستان میں جانداروں کے تحفظ اور ان کے حقوق کی پاسداری کے لیے سرگرم عمل ہے اس کی سربراہ عائشہ چندریگر ہیں جنہیں اپنی فاؤنڈیشن کی پوری ٹیم کی مدد اور حمایت حاصل ہے اور وہ اس سلسلے میں کافی اہم تجاویز سامنے لے کر آئیں ہیں ۔اسی طرح اریانہ مگسی پروگرام بھی اہمیت کا حامل ہے مشہور سیاستدان سابق صوبائی وزیر نادر علی مگسی کی صاحبزادی ہریانہ مگسی جو امریکہ میں زیر تعلیم ہیں انہوں نے کراچی اور دیگر علاقوں میں صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے جانوروں کے تحفظ اور ان کے حقوق کی پاسداری کے لیے آواز اٹھائی ہے اور منظم انداز سے جانوروں کے تحفظ میں خود بھی سرگرم ہیں اور چاہتی ہیں کہ اس حوالے سے حکومت بھی ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ سامنے آئے انہوں نے بھی صوبائی حکومت کو تحریری شکل میں اہم تجاویز ارسال کی ہیں ۔عائشہ چندریگر فاؤنڈیشن کی سربراہ عائشہ چندریگر کا کہنا ہے کہ عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ہر کتا کاٹے گا یا وہ پاگل بنا سکتا ہے اور وہ ریبیز جیسی خطرناک بیماری کو آگے بڑھا سکتا ہے لیکن یہ بات حقیقت پر مبنی نہیں ہے اصل سچائی یہ ہے کہ 99فیصد ہوتے ریبیز کا شکار نہیں ہوتے اور نہ ہی وہاں سے آگے بڑھاتے ہیں البتہ صرف ایک فیصد کتے ایسے ہوتے ہیں جو نہ کسی دوسرے جانور نے کاٹ کر یا حملہ کرکے ریبیز کا شکار بنا دیا ہوتا ہے ہم طور پر چمکادڑ نے ایسا کرتی ہیں ہیں یا کوئی دوسرا جانور بھی جو اس بیماری میں مبتلا ہو وہ اگر کتے کو حملہ کرکے متاثر کرے تو پھر ریبیز آگے بڑھتی ہے ۔عام طور پر انسان خود جارحانہ رویہ اور بدسلوکی کرتا ہے جس کے نتیجے میں جانور خوفزدہ ہوکر یا تنگ آ کر اس پر حملہ کرتے ہیں ۔بڑی تعداد میں پائے جانے والے آوارہ کتوں کو ریبیز سے بآسانی بچایا جا سکتا ہے اور بڑے پیمانے پر ان کی ویکسینیشن کی جاسکتی ہے اس سلسلے میں صوبے بھر میں تربیت یافتہ اہلکاروں کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں اور ویٹرنری کالجز اور ویٹ کلینکس صوبہ بھر میں قائم کرنی چاہیے اسی طرح صوبے بھر کے اسکولوں میں بچوں کو یہ تربیت دینی چاہیے کہ وہ جانوروں کے ساتھ کس طرح پیش آئیں ۔

 

اس حوالے سے ڈیٹا کیسے اکٹھا کیا جائے تربیت کے لیے کیا ہے تمام کیا جائے اور کس طریقے سے ان کتوں کی ویکسی نیشن ہے عائشہ چندریگر فاؤنڈیشن کی جانب سے حکومت کو تفصیلی تجاویز پیش کر دی گئی ہیں جن پر عمل درآمد سے یقینی طور پر اس معاملے میں اہم پیش رفت ہو سکتی ہے چار مختلف مراحل میں مطلوبہ اہداف کا حصول ممکن ہے ۔ زین مصطفی بھی جانوروں کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ اور سرگرم عمل شخصیت کے مالک ہیں انہوں نے ہسپیٹل میں کافی ریسرچ کا تجربہ حاصل کر رکھا ہے اور وہ بھی پوری سنجیدگی سے پوچھا ہیں کہ لوگوں میں اس حوالے سے آگاہی بڑھائی جائے کہ وہ معصوم جانوروں کو تنگ نہ کریں بلکہ انہیں اپنا دوست سمجھیں اور ان کا خیال رکھیں۔ پاکستان کے مشہور سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والے نادر علی مگسی نے اس سلسلے میں حکومت سندھ کو اور یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ سول سوسائٹی اور جانوروں کے حقوق اور تحفظ کے لیے سرگرم تنظیموں کے ساتھ مل کر ضروری اقدامات اٹھانے قانون سازی کرنے اور میڈیکل سپلائی کو یقینی بنانے کے حوالے سے اپنا کردار مثبت انداز سے ادا کریں گے اور جہاں کبھی بھی ان کی ضرورت ہوگی وہاں انہیں موجود پایا جائے گا وہ بھرپور تعاون کریں گے ۔