وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ موجودہ نااہل اور نالائق حکومت نے صرف چند روز میں بجلی کے نرخوں میں اضافہ کرکے عوام پر 80 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے

کراچی  وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ موجودہ نااہل اور نالائق حکومت نے صرف چند روز میں بجلی کے نرخوں میں اضافہ کرکے عوام پر 80 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ چیئرمین نیب کے حوالے سے جو ویڈیو منظر عام پر آئی اس کی تحقیقات ہونی چاہیے اور اگر وہ قصور وار ہے تو انہیں سزا ملنی چاہیے یا جس خاتون نے یہ ویڈیو بنائی اور جس چینل نے یہ ویڈیو چلائی ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت سلیکشن کے ذریعے نہیں آئی ہے بلکہ اپنے خلاف سازشوں  کو ناکام بنا کر عوامی ووٹوں سے آئی ہے جبکہ پی ٹی آئی کے ڈبوں کے کھلنے کا سلسلہ ڈپٹی اسپیکر کے ڈبوں سے شروع ہوچکا ہے اور جلد ہی یہ سلیکٹیٹ حکمرانوں کے ڈنے سامنے آجائیں گے۔سندھ حکومت نے سرکولر ریلوے کا ٹریک صاف کرنا شروع کیا تھا اور یہ کام بھی ریلوے انتظامیہ کے کہنے پر ہی اس کو روکا گیا ہے۔ کرپشن جہاں بھی پورے ملک میں ہورہی ہے اس کی قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ کراچی میں صفائی مہم اطمینان بخش طور پر چل رہی ہے اور بیک لاک اٹھایا جارہا ہے۔  ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے دو روز کے دوران بجلی کی قیمتوں میں پہلے 53 پیسے اور دوسرے روز 30 پیسے فی یونٹ اضافہ کرکے اس ملک کے عوام پر 80 ارب روپے کا بوجھ ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کے عوام کی پہلے ہی مہنگائی کے باعث کمر ٹوٹی ہوئی ہے اور موجودہ حکومت کی نااہلی کے باعث آج عوام ادویات، بجلی، گیس، پیٹرول سمیت تمام روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں  اضافے کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ پنجاب اور کے پی کے میں سرکاری اسپتالوں میں مفت ٹیسٹ اور ادویات کی فراہمی کو بھی بند کرکے وہاں پر مریضوں سے ان ٹیسٹ کی قیمت وصول کی جارہی ہے، جو قابل مذمت عمل ہے اور اس سے عوام اپنے علاج معالجہ سے بھی محروم ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے آکر تاجروں کا کاروبار اور کاشت کاروں کی زراعت کو بھی تباہ کردیا ہے اور عام لوگوں کی زندگی مہنگائی سے اجیرن بنا دی ہے اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے ملک کا ہر شخص متاثر ہوگا۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم جب کہتے رہے کہ ملک کی معاشی حالت انتہاہی ناگزیر ہوچکی ہے تو اس نالائق اور نااہل حکومت کے وزراء اور پی ٹی آئی کے رہنماء اس کو غلط قرار دیتے رہے اور ملکی معشیت مضبوط ہونے کا راگ الاپتے نظر آئے لیکن جب اس ملک کے تاجروں نے اس نااہل وزیر اعظم اور ان کی کابینہ پر عدم اعتماد کرتے ہوئے آرمی چیف سے رجوع کیا اور آرمی چیف نے وزیر خزانہ اور ایف بی آر کو طلب کرکے ان تاجروں کے مسائل کے حل کا کہا ہے تو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ  اس ملک کی معشیت کو چلانے والے پہیوں کی کیا حالت ہوچکی ہے۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ اس ملک میں عوام کے ساتھ موجودہ حکومت نے جو کچھ کیا ہے اس کے نتائج سب کے سامنے آنا شروع ہوچکیں ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ ایک جانب وفاقی حکومت کے وزراء نیب کو آزاد اور خود مختار ادارہ ثابت کرتے نہیں تھکتے تو دوسری جانب وزیر اعظم نیب کو یہ احکامات صادر فرماتے ہیں کہ نیب تاجروں اور صنعتکاروں کے خلاف کوئی ریفرنس اس وقت تک داخل نہ کرے جب تک اس کی تحقیقات کے لئے انہی تاجروں پر مشتمل کمیٹی اس کی منظوری نہ دے۔ سعید غنی نے کہا کہ نیب کے چیئرمین پہلے ہی اس بات کا برملا اظہار کرچکیں ہیں کہ اگر وہ حکومت میں شامل لوگوں کا احتساب کریں گے تو انہیں خدشہ ہے کہ حکومت ختم نہ ہوجائے اور اس کے بعد وزیر اعظم کی جانب سے ہدایات پر بیوروکریسی اور اب تاجروں اور صنعتکاروں کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کرسکتے اورخود چیئرمین نے اس بات کا بھی اظہار کیا ہے وہ نئی حکومت اور اس میں شامل وزراء اور ارکان کے خلاف نہیں بلکہ جو سیاستدان 30 سے 35 سال سے حکومت میں ہیں ان کے خلاف وہ کارروائی کررہے ہیں تو ثابت ہوگیا ہے کہ نیب کا ادارہ ایک جانبدار ادارہ ہے اور وہ صرف اور صرف پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے خلاف کارروائیوں کے لئے باقی راہ گیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ احتساب ہو اور غیر جانبدارانہ طور پر ہو لیکن نیب کو بھی اپنا ایک پیمانہ مختص کرنا ہوگا کہ اگر وہ کسی پر الزام کے عائد ہوتے ہی اس کو گرفتار کرنا چاہتی ہے یا ریفرنس دائر ہونے کے بعد تو جو پیمانہ وہ طے کرے اس پر وہ پیپلز پارٹی ہو یا پی ٹی آئی یا ان کے حمایتی ہوں سب پر اس پیمانے کو لاگو کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب اور نیب کا ادارہ اس وقت مکمل طور پر جانبدار ہے اور اس کا ہدف صرف اور صرف سیاسی انتقامی کارروائیوں میں موجودہ نااہل حکومت کو معاونت فراہم کرنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ چیئرمین نیب کے حوالے سے جو ویڈیو منظر عام پر آئی اس کی تحقیقات ہونی چاہیے اور اگر وہ قصور وار ہے تو انہیں سزا ملنی چاہیے یا جس خاتون نے یہ ویڈیو بنائی اور جس چینل نے یہ ویڈیو چلائی ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے اور اگر درست ہو تو چیئرمین نیب کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ہمیں بہت سنجیدہ نظر آتے ہیں جس احتجاج کا انہوں نے پلان دیا ہے اور ہماری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا موقف اس حکومت کے حوالے سے وہی ہے جو مولانا فضل الرحمان کا ہے کہ یہ حکومت نااہل ہے، نالائق ہے اور ناجائز ہے اور یہ جتنا زیادہ رہے گی اس ملک کے عوام کے لئے عذاب اور مصیبت کا باعث بنی رہے گی اور جتنا جلد ہوسکے اس حکومت سے چھٹکارا حاصل کرلینا چاہیے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت سلیکشن کے ذریعے نہیں آئی ہے بلکہ اپنے خلاف سازشوں کو ناکام بنا کر عوامی ووٹوں سے آئی ہے جبکہ پی ٹی آئی کے ڈبوں کے کھلنے کا سلسلہ ڈپٹی اسپیکر کے ڈبوں سے شروع ہوچکا ہے اور جلد ہی یہ سلیکٹیٹ حکمرانوں کے ڈبے سامنے آجائیں گے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کے حوالے سے جو منصوبے بنائے گئے ہیں اس پر ہم تیزی سے کام کررہے ہیں اور کراچی سمیت پورے صوبے میں ٹرانسپورٹ کے حوالے سے کا م کیا جارہا ہے اور کئی کمپنیاں اس حوالے سے ہم سے رابطے میں ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت نے عبدالستار ایدھی لائن کا کام شروع کیا ہے اور اس کے نامکمل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ گرین لائن منصوبے سے منسلک ہے۔جب تک گرین لائن مکمل نہیں ہوتی یہ مکمل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ یلو اور ریڈ لائن پر ایک سال سے وفاقی حکومت کے پاس  پھبنسے ہوئی تھے۔  اس کی منظوری کے بعد جلد ہم اس کو مکمل کریں گے۔ گٹکا مافیا کی سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں گٹکے کی تیاری اور فروخت پر پابندی ہے لیکن اس کے لیے ایسا کوئی قانون نہیں  بنا ہوا تھا کہ اس وبا کو دیکھتا۔ اس حوالے سے ایک بل کو آج اسمبلی میں پیش کرکے کمیٹی کے سپرد کردیا گیا ہے اور یہ کمیٹی ایک ہفتہ میں اس کی رپورٹ پیش کردے گی، جس کے بعد اس کو قانون  بنا کر صوبے بھر میں نافذ کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پابندی آج بھی ہے۔سیخ رشید کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کی بات پر کیوں سنجیدہ لیتے ہیں اس کا کام شوغل لینا ہے۔ سندھ حکومت نے سرکولر ریلوے کا ٹریک صاف کرنا شروع کیا تھا پچھلے سال سے لیکن یہ کام بھی ریلوے انتظامیہ کے کہنے پر ہی اس کو روکا گیا ہے۔ لیکن اگر سرکولر ریلوے پر کام شروع ہوگا تو ہم بھرپور ساتھ دیں گے۔ لیکن وفاقی حکومت اپنا رول نہیں کررہی ہے۔ ایک سوال پر سعید غنی نے کہا کہ کرپشن جہاں بھی پورے ملک میں ہورہی ہے اور جس ادارے میں ہورہی ہے،  اس کی قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ نیب کا چیئرمین کیسز نہیں بلکہ فیسز دیکھ رہا ہے اور اس کا اظہار اس نے خود ہی کردیا ہے کہ اگر میں حکومت کے خلاف کارروائی کرے گا تو حکومت چلے جائے گی، اس لئے وہ ایسی کارروائی نہیں کررہا، جس سے حکومت کے چلے جانے کا خدشہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپوزیشن کے خلاف وہ کارروائی بھی اسی لئے کررہا ہے کہ حکومت بچ جائے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کو ہٹانے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ وہ جانبداری ختم کرے اور جو زیادیاں لوگوں کے ساتھ کررہے ہیں اس کو ختم کریں۔ خورشید شاہ کے خلاف انکوائری ابھی ابتدائی ہیں اور انہیں گرفتار کرلیا جاتا ہے اور حسنین مرزا کے خلاف ریفرنس تیار ہے لیکن اسے کچھ نہیں کہا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹے الزامات کی بناء پر گرفتاری نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی چاہے حکومت کا ہو یا اپوزیشن کا کوئی بھی رہنماء ہو اس کے خلاف کارروائی یکساں ہونی چاہیے۔ اگر ریفرنس کے بعد گرفتاری کرنی ہے تو یہی فارمولا اپوزیشن کے ساتھ رواں رکھا جائے اور اگر انکوائری پر گرفتاری کرنا ہو تو یہ فارمولا حکومتی ارکان کے ساتھ ہونا چاہیے۔کراچی میں صفائی مہم کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ مہم اطمینان بخش طور پر چل رہی ہے اور بیک لاک اٹھایا جارہا ہے۔ جاری کردہ : زبیر میمن، میڈیا کنسلٹینٹ وزیر اطلاعات و محنت سندھ 

اپنا تبصرہ بھیجیں