نیب میں پھنسی پیپلز پارٹی کو نہر خیام کا راستہ مل گیا

نیب میں پھنسی پیپلز پارٹی کو نہر خیام کا راستہ مل گیا شہر کے بڑے ارکٹیکچر ۔۔معززین۔اور سول سوسائٹی  کے ایسے افراد جو سندھ حکومت پر کھل۔کے تنقید کرتے ہیں  اور سائیں سرکار کی کرپشن کی کہانیاں بیان کرتے ہیں سب کا منہ بند کروانے کی کوشش  کی گئی   حیران کن طور پر دوہزار سولہ میں پانی نامی این جی اواورنے شہر کے معززین اور ہندرہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ مل کے نہرخیام کو خوبصورت بنانے اور گندےپانی کو صاف کرنے کا پرپوزل پیش کیا لیکن اس وقت حکومت سندھ نے اس پر کان نہ دھرا اور سابق صدر اصف علی زرداری کے خاص دست رازاور بکڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں فرنٹ مین منظور قادر کاکا کو ایک بلڈنگ تعمیر کرنے کی اجازت دے دی یہ بکڈنگ روڈ کے دوسری طرف اوشین مال جتنی بلند تعمیر ہونا تھا عمارت کے انفرااسٹرکچر کی تعمیر بھی کردی گئی لیکن دوہزار  اٹھارہ میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ایکشن لیا توپندرہ جنوری دوہزارپندرہ کو کے ایم سی کو بلڈنگ گرانا ہی ہڑ گئی پھر سابق صدراصف علی زرداری کےاور دیگر ہر  نہر خیامکی جگہ 500 پانچ سو گز کے پلاٹ کازکر ایا دوہزار سولہ سے اجازت کی منتظر این جی او۔۔ہانی۔۔ساری صورتحال۔سے متنفر ہوگئے اور منصوبے سے پیچھے ہٹ گئے جس کا اظہار این جی او کے بانی اور روح روان شاہد اقبال نے ایک نجی ٹی وی کےپروگرام میں کیا لیکن صورتحال یکسر بدل گئی نیب جال۔میں پھنسی پیپلز پارٹی کو سابق صدر اصف علی زرداری۔فریال تالپور۔۔خورشید شاہ اور دیگر کی گرفتاری کا سامنا ہے اور وزیر اعلی سندھ کی گرفتاری کا خطرہ تو ایسے میں سول سوسائٹی میں پیپلز پارٹی کی ساخت کو بحال کرنے کے لئے  سندھ کابینہ نے اپنے اجلاس میں ایک ایسے منصوبے کی اجازت دی جو ایجنڈے میں شامل ہی نہیں  تھا۔۔حیران کن طور ہر این جی او کے اراکین کو بھی صوبائی وزیر اطلاعات  سعید غنی کی میڈیا بریفنگ کے بعد اگاہ کیا گیا جن منصوبے کی منظوری ہوتی تو خود سندھ حکومت کے ہاس  مجوزہ منصوبے کی اینی میشن موجود نہیں تھی زرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس منصوبے کی منظوری کے لئے مشیر قانون بیرسٹر مرتضی وہاب  نے کوشیں کیں اور پولیس اڈر کے لئے بنائے جانے والی کمیٹی سے مدد لی جس نے شاہد اقبال۔جمیل یوسف اوردیگر سے ملاقاتیں کیں جس میں پانی این جی او کے لوگوں سے ملاقاتیں کیں این جی او کے اراکین کاکہنا تھا تین سال تک انہوں نے جگہ جگہ ٹکریں ماریں  لیکن کامیابی نہ ہوئی مرتضی وہاب نے یقین دہانی کروائی کے وہ منصوبے کو منظور کروائیں  گے جس کے بعد کابینہ سے منظوری کروائی گئی
پانی  نامی این جی او کے شاہد اقبال معروف ارکیٹیکٹ ہیں جبکہ جمیل۔یوسف سیٹیزن پولیس لائزن کمیٹی سابق چیف ہیں اور پیپلز پارٹی سندھ حکومت پر تنقید کے لئے کافی مشہور ہیں انہیں مئیر وسیم اختر ۔۔وفاقی وزیر علی زیدی ۔ایم این اے افتاب صدیقی کے کافی قریب سمجھا جاتا ہے  سندھ حکومت کی جانب سے مجوزہ منصوبے کی منظوری کے بعدان کے خیالات میں اور تنقید میں کافی حد تک کمی ائے گی نہر خیال۔منصوبے کی صورتحال اب یہ ہے کے2016  میں منصوبے میں  شامل افراد ۔کمپنیاں  ادارے اور مخیر حضرات تتر بتر ہیں دویزار سولہ میں منصوبے  کی لاگت ایک ارب روپے تھی جو اب بڑھ کے کم ازکم ڈھائی سے تین ارب ہوگی اور این جی او کم ازکم دوماہ کے بعد منصوبے ہر کام شروع  کرنے کے قابل۔ہوں گے شہر کراچی کے باسی ہوجائیں تیارکیونکہ اس منصوبے کے کئے ہوگی چندہ مہم ہوگی اسٹارٹ

اپنا تبصرہ بھیجیں