پنجاب پولیس کیلئے ’دال چاول

پنجاب کی پولیس پر مبنی فلم ’دال چاول‘ ریلیز ہوئی جس میں پولیس اہلکاروں کی زندگیوں کے وہ پہلو دِکھائے گئے ہیں جو اب تک لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں لیکن سوال یہ اُٹھ رہا ہے کہ آخر اِس فلم کا نام ’دال چاول‘ ہی کیوں رکھا گیا؟
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، فلم ’دال چاول‘ کے پروڈیوسر، مصنف اور میوزک ڈائریکٹر اکبر ناصر نے فلم کے عنوان کے حوالے سے بتایا کہ ’اُنہوں نے اپنی یہ فلم نوجوانوں کی موجودہ صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے بنائی ہے اکبر ناصر نے کہا کہ ’ اگر ہمارے نوجوانوں کو مکمل طور پر سہولیات میسر ہوجائیں تو وہ ملک کے لیے اثاثہ ہیں لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے نوجوان غلط ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں، اِسی وجہ سے فلم کا نام ’دال چاول ‘ رکھا گیا ہے اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ فلم کو بہت ہی سادہ انداز میں بنایا گیا ہے، فلم کو بڑے پیمانے پر نہیں بنایا گیا ہے اور ہماری زیادہ توجہ فلم میں حقیقی زندگی کو دِکھانا ہےواضح رہے کہ گزشتہ مہینوں سے پنجاب پولیس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اِس کی وجہ پولیس اہلکاروں کا حراست میں لیے گئے ملزمان پر تشد د اور اُس کے بعد ہلاکتیں ہیں، اِس کے علاوہ پنجاب پولیس کا بزرگوں اور خواتین کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں