بیرون ملک سے دولت پاکستان نہیں لاسکتے،

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی نے اعتراف کیا ہے کہ بیرون ملک بھیجی گئی دولت پاکستان واپس نہیں لاسکتے۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب میں شبر زیدی نے کہا کہ گزشتہ 20 برسوں میں پاکستان سے 6 ارب ڈالر سالانہ بیرون ملک بھیجے گئے، ان میں سے 85 فیصد دولت قانونی طریقے سے بھیجی گئی اور حکومت اس کو واپس نہیں لاسکتی

انہوں نے کہا کہ ابھی بھی پاکستانی دولت تسلسل سے بیرون ملک منتقل کی جا رہی ہے، پاکستان کے ہر دولت مند آدمی کے بیرونی ملک اثاثے ہیں۔
چیئرمین ایف بی آر نے مزید کہا کہ بیرونی دنیا میں دولت کو چھپایا اور قانونی طور پر محفوظ رکھا جاسکتا ہے، پاکستان سے محض 15فیصد دولت غیر قانونی طریقے سے باہر بھیجی گئی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کی شرح میں کمی کی بڑی وجہ منی لانڈرنگ ہے، اب اس حکومت میں تصور بدل رہا ہے۔

شبر زیدی نے کہا کہ بھارتی دھمکی پاکستان میں استحکام لاتی ہے اور قوم متحد ہوتی ہے، ملک میں سرمایہ کاری کے لیے سیاسی استحکام اور پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہے۔
تقریب سے خطاب میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائر یکٹر پیچاموتھو نے کہا کہ پاکستان میں آبادی کا تناسب اقتصادی شرح نمو سے دگنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی ترجیحات درست ہیں، دفاع اور قرضوں کی ادائیگی کے بعد پاکستان کے پاس خرچ کےلیے 30 فیصد بچتا ہے، کراچی کو انفرااسٹرکچر سمیت بہت سے مسائل درپیش ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں