جانور معصوم ہوتے ہیں انہیں مت ماریں، جانوروں کے ساتھ رحم اور پیار سے پیش آئیں

جانور آپ کے گلی محلے میں ہوں ،جنگلات میں ہوں یا پانی میں….. بنیادی طور پر جانور معصوم ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ رحم اور پیار سے پیش آنا چاہیے ۔سب جانور خونخوار اور خطرناک نہیں ہوتے زیادہ تر جانور دوست بن جاتے ہیں اگر ان کے ساتھ رحم دلی اور پیار کا رویہ رکھا جائے تو وہ دوست بھی بن جاتے ہیں تحفظ بھی کرتے ہیں خطرے سے آگاہی بھی دیتے ہیں حتیٰ کہ انسان کو خطرے سے بچانے کے لئے خود کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں ۔ دنیا کے اکثر ترقی یافتہ ملکوں میں جانوروں کے بہت حقوق ہیں اور ان کے بچاؤ اور تحفظ کے لئے زبردست اقدامات اٹھائے جاتے ہیں باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے ان کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے ۔ پاکستان میں بھی جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی وقت کی ضرورت ہے جانوروں کے ساتھ رحم دلی اور محبت سے پیش آنے کی تربیت کا فقدان ہے اس لئے اکثر لوگ جانوروں کے ساتھ برا سلوک روا رکھتے ہیں حالانکے ہمارے مذہب میں بھی جانوروں کے ساتھ رحم دلی سے پیش آنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

حکومت اس نے اس حوالے سے قانون سازی کرنے اور جانوروں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے بچوں کے انتظامات کرنے کے سلسلے میں پہل کی ہے صوبائی حکومت کے اس فیصلے کی روشنی میں سندھ کے سیکرٹری بلدیات روشن علی شیخ نے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبے میں جانوروں کے تحفظ ان کے حقوق ،اور ان کے بچوں کے لئے خصوصی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اس سلسلے میں عوام خصوصا بچوں میں آگاہی مہم چلانے ،میڈیا کے اہم کردار اور باقاعدہ قانون سازی کی اہمیت اور ضرورت کو اجاگر کیا ،اجلاس میں صوبے میں کتے کے کاٹے جانے کے واقعات ،کتوں کی آبادی پر قابو پانے ،ان کی آبادی میں کمی لانے ،ان کو ویکسین دینے ،ان کا ضلعی سطح پر ڈیٹا اکٹھا کرنے ،میڈیکل نقطہ نظر سے صورتحال کا جائزہ لینے ،سوشل میڈیا پر آگاہی مہم چلانے ،متعلقہ انفراسٹرکچرکی فراہمی کیلئے اقدامات اٹھانے سمیت مختلف اہم امور پر کھل کر بات کی اور چار مختلف ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔

 

اجلاس کے شرکاء میں عائشہ چندریگر فاؤنڈیشن کی مس عائشہ چندریگر ،مس  انوشے گل ،مسٹر زین مصطفی  ،سیکورٹی ماحولیات خان محمد مہر ،انجینئر زاہد  ،ایڈیشنل سیکرٹری بلدیات اور سینئر صحافی سالک  مجید نے شرکت کی سینئر سیاستدان میر نادر علی مگسی نے خصوصی طور پر اپنی صاحبزادی اریانہ مگسی کی نمائندگی کی جو ان دنوں امریکہ میں ہیں ۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جانوروں کو مارنے یا ان کے ساتھ برا سلوک کرنے کے بجائے ان کے ساتھ رحم دلی اور پیار سے پیش آنا چاہیے ۔علاج میں شرکاء نے بتایا کہ کراچی سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں کتے کے کاٹے کے واقعات کی جو شکایت سامنے آرہی ہیں ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ہر کتا ریبیز کی بیماری نہیں پھیلا تا ۔جس جانور کو کسی دوسرے متاثرہ جانور یا چمگادڑ وغیرہ نے کاٹا ہوتا ہے صرف اس کتے سے ریبیز پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے 99فیصد کتے پاگل دیوانے یا مہلک نہیں ہوتے لیکن لوگ ان سے خوفزدہ ہوجاتے ہیں یا ان کو بلاوجہ مارتے ہیں یا ان پر پتھر پھینکتے ہیں عام طور پر بارہ چودہ سال تک کے بچوں پر کتے حملہ کرتے ہیں اور اکثر ایسا ردعمل یا خوف کی حالت میں کتے کرتے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر ضلع میں کتوں کو ویکسین دے کر ان کی آبادی میں کمی لائی ہے۔

 

ان کو اپنی طبعی زندگی جینے دیا جائے ان کو مارا جائے ان کو پکڑ کر ان کی ویکسینیشن کی جائے ان کی آبادی میں کمی لانے کے لیے دنیا نے جو اہم اقدامات اٹھائے ہیں ان سے فائدہ اٹھایا جائے اور ان پر عمل کیا جائے ۔اجلاس میں حوالے سے مختلف تجاویز بھی سامنے آئی عائشہ چندریگر فاؤنڈیشن کی جانب سے چار صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری تجویز پیش کی گئی جبکہ امریکا سے اریانہ مگسی کی جانب سے تیار کردہ سفارشات 2nd chance for animalsکے عنوان سے  تحریری طور پر اجلاس میں شرکاء کو پیش کی گئی ۔یہ سفارشات میر نادر علی مگسی نے پیش کیں ۔اجلاس میں ڈاکٹر اسماء اور انڈس اسپتال کے اقدامات اور پاکستان میں عملے کی تربیت کے لیے غیرملکی ٹرینر کی ماضی میں دی گئی تربیت اور مستقبل میں تربیت کے مزید امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا ۔

https://www.youtube.com/watch?v=zbWlVbzEvOs&t=27shttps://www.youtube.com/watch?v=RWM0DnN1QIs