اڈیالہ جیل میں مولانا فضل الرحمن کے استقبال کی تیاریاں

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں مولانا فضل الرحمن کے استقبال کی تیاریاں مکمل ہیں۔تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی رہنما اور وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے استقبال کی تیاریاں اڈیالہ جیل میں مکمل ہیں۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کا وزن کم کرنے کے لیے اسلام آباد میں مشینیں لگائی ہیں۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ مولانا نے کہا ہے کہ ہم دھرنا دینے اور طویل عرصے تک بیٹھے کے لیے آ رہے ہیں۔جب کہ اسی متعلق گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کے حوالے سے حکومتی پالیسی وزیر اعلیٰ جلد حکمت عملی مرتب کر لیں گے۔چوہدری سرور نے دعویٰ کیا ہے کہ مولانا کے دھرنے میں کوئی بھی جماعت شامل نہیں ہو گی۔
مولانا کو اگر یہ لانگ مارچ کرنا ہے تو بھارت کے خلاف کریں۔
حکومت اظہار رائے اور احتجاج کے حق کو تسلیم کرتی ہے لیکن یہ دھرنے کا وقت نہیں.خیال رہے کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان گذشتہ روز کیا تھا ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ کہ 27 اکتوبر کو مظاہروں کے بعد اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے اور کشمیریوں کیساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ کسی بھی معاملے پر حکومت سے مفاہمت نہیں ہوگی، حکومت کو جانا ہوگا۔ اگر رکاوٹ ڈالی گئی تو پہلی، دوسری اور تیسری سکیم سمیت تمام فیصلے کیے ہوئے ہیں۔ ہمارا آزادی مارچ کی تاریخ میں تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں اور نہ کوئی کہہ رہا ہے۔ میری گرفتاری ہوئی تو اس پر بھی حکمت عملی طے کر چکے ہیں۔ واضح رہے کے اپوزیشن کے ممکنہ دھرنے سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے بیان دیا تھا کہ اپوزیشن دھرنا دے ہم ان کو کنٹینر اور کھانا فراہم کر یں گے ، ان کو تمام سہولیات دیں گے۔
لیکن اب مولانا فضل الرحمان کی جانب سے دھرنے کے اعلان کے بعد یہ سوال اُٹھایا جا رہا ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان مولانا صاحب کو دھرنے کے لیے کنٹینر اور کھانا دینے کے اپنے بیان پر عمل کرے گی یا اس مارچ کو روکنے کے لیے حربے استعمال کیے جائیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں