گٹکا کی فروخت پرپابندی پر عملدرآمد نہ کرنے پر آئی جی سندھ اور دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست

سندھ ہائیکورٹ نے گٹکا کی فروخت پرپابندی پر عملدرآمد نہ کرنے پر آئی جی سندھ اور دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر حکومت سے قانون سازی سے متعلق 8 اکتوبر کو رپورٹ طلب کرلی۔  جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریماکس دیئے گٹکا، مین پوری جیسی خطرناک چیزیں فروخت کرنے میں پولیس اہلکار بھی ملوث ہیں۔ لگتا ہے پولیس والوں کی روٹی اس سے چل رہی ہے۔ پولیس اہلکار اس دھندے سے کروڑوں روپے کما رہے ہیں۔ جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس شمس الدین عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو گٹکا کی فروخت پرپابندی پر عملدرآمد نہ کرنے پر آئی جی سندھ اور دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار مزمل ممتاز میئو ایڈوکیٹ نے موقف دیا کہ گٹکا فروخت کرنے پولیس اہلکار بھی ملوث آئی جی آفس کے قریب بھی فروخت ہورہا ہے۔ عدالت نے کراچی میں گٹکا اور مین پوری کی فروخت پر مکمل طور پر پابندی عائد کی تھی۔ عدالتی حکم کے باوجود شہر بھر میں گٹکا اور مین پوری فروخت کھلے عام جاری ہے۔ شہر میں گٹکے فروخت پولیس کی ملی بھگت سے جاری ہے۔ گٹکا کھانے سے شہریوں کو منہ کے کینسر جیسے خطرناک امراض لاحق ہورہے ہیں۔ پابندی پر عملدرآمد نہ کرنے پر آئی جی سندھ اور دیگر کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ عدالت سندھ حکومت اور پولیس پر برہم ہوگئی۔ جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریماکس دیئے لوگ مررہے ہیں کسی کوئی احساس ہی نہیں۔ حکم کے باوجود صوبائی حکومت قانون سازی نہیں کررہی۔ کراچی میں گٹکا، ماوا اور مین پوری کی فیکٹریاں فوری سیل کی جائیں۔ قانون سازی کے لیے بل فوری طورپر اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ کینسر کے ڈاکٹروں نے بھی عدالت میں دہائیاں دی ہیں، کہ لوگ مررہے ہیں گٹکا بند کرایا جائے۔ گٹکا جیسی خطرناک چیز فروخت کرنے میں پولیس اہلکار بھی ملوث ہیں۔ لگتا ہے پولیس والوں کی روٹی اس سے چل رہی ہے۔ پولیس اہلکار اس دھندے سے کروڑوں روپے کما رہے ہیں۔ جو پولیس اہلکار پکڑا جاتا ہے معطل کرکے چند دن بعد بحال کردیا جاتا ہے۔ بتایا جائے کتنے پولیس اہلکاروں کو فارغ کیا گیا؟درخواستگزار کو کچھ ہوا تو ایس ایس پی خلاف کارروائی کریں گے۔ عدالت نے سندھ حکومت کو قانون سازی سے متعلق اور آئی جی سندھ کو رپورٹس پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے ریماکس دیئے پیش رفت رپورٹ نہ پیش کی گئی تو آئی جی سندھ اور وزیر اعلیٰ کو طلب کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں