ضیا لنجار کیخلاف ریفرنس کا ڈرافٹ ہیڈ کوارٹر بھیج دیا

سندھ ہائیکورٹ نے نیب سابق صوبائی وزیر قانون ضیاءالحسن لنجار اور دیگر کیخلاف 7 نومبر تک ریفرنس دائر کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔  چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں جسٹس عمر سیال پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو  نیب سابق صوبائی وزیر قانون ضیاء الحسن لنجار اور دیگر کیخلاف کرپشن سے متعلق سماعت ہوئی۔ پراسیکیوٹر نیب نے موقف دیا کہ کرپشن کی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کیا۔ ضیاء الحسن لنجار کیخلاف انوسٹی گیشن مکمل کرلی ہے۔ ضیا لنجار کیخلاف ریفرنس کا ڈرافٹ ہیڈ کوارٹر بھیج دیا ہے۔ عدالت 7 نومبر تک ریفرنس دائر کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ضیا لنجار کی عبوری ضمانت میں بھی توسیع کردی۔ نیب کے مطابق ضیاء الحسن لنجار کے ڈینفس کراچی میں بنگلہ خریدنے کا بھی سراغ لگایا ہے۔ ضیا الحسن نے پبلک فنڈز کی رقم فرنٹ مین کے زریعے اپنے اکاونٹس میں منتقل کرائی۔ سابق صوبائی وزیر نے میڈیکل کالج نواب، اور دیگر فنڈز کی رقم ہڑپ کی۔ پبلک فنڈز کے 17 جبکہ کالج کے لیے مختص 13 کروڑ روپے رقم ضیالنجار کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں