نادرا کی جانب سے خاتون شہری کا شناختی کارڈ بلاک

سندھ ہائیکورٹ نے نادرا کی جانب سے خاتون شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنے سے متعلق درخواست پر وفاقی حکومت اور ڈی جی نادرا کو نوٹس جاری کردیئے۔
 جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس آغا فیصل پر مشتمل دو رہنی بینچ کے روبرو نادرا کی جانب سے خاتون شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈوکیٹ نے موقف دیا کہ مسمات شاہدہ بیگم 1970 میں ہجرت کر کے پاکستان اپنے اہلخانہ کے ساتھ آئیں۔ درخواستگزار کی شادی 1980 میں پاکستان میں ہوئی۔ مسمات شاہدہ کا نادرا نے شناختی کارڈ بلاک کر دیا ہے۔ میرے موکل کے شوہر اور 2 بچوں کے شناختی کارڈ بن چکے ہیں۔ شناختی کارڈ بلاک ہونے سے باقی بچوں کے شناختی کارڈ نہیں بن پارہے ہیں۔ عدالت سے استدعا ہے نادرا کو شناختی کارڈ بحال کرنے کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے وفاقی حکومت اور ڈی جی نادرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت عدالت نے فریقین سے جواب طلب کر لیا۔