صوبائی پبلک سیفٹی کمیشن کے لیے 19 یا 20 گریڈ کا کوئی اچھا افسر تعینات کیا جائے

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ  کی زیرِ صدارت  آج وزیر اعلیٰ ہائوس میں  صوبائی پبلک سیفٹی اور پولیس کمپلینٹ کمیشن سندھ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں  وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر  مرتضیٰ وہاب،ایم پی ایز  شرجیل انعام میمن ، امداد پتافی، شمیم ممتاز، شہناز بیگم،پی ٹی آئی کے ایم پی اے محمد علی عزیز، جی ڈی اے کے ایم پی اے حسنین علی مرزا، چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز شاہ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو،  سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری فنانس ، آئی جی پولیس سندھ،  کریم کرامت علی، بیرسٹر حیا ایمان  زاہد، مس روبینہ  بروہی، جہامت  مل، قربان علی ملانو، اور ڈپٹی سیکریٹری شفیع الدین  نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ  نے کہا کہ صوبائی  پبلک سیفٹی  اور پولیس کمپلینٹ  کمیشن  سندھ اہم ادارے  ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی  پبلک سیفٹی  کمیشن 12 اراکین  پر مشتمل ہے جن میں سے 6 آزاد  اراکین  ہیں اور 6 اسمبلی  کے اراکین  ہیں۔  وزیراعلیٰ سندھ  نے چیف سیکریٹری  سندھ ممتاز  شاہ کو ہدایت کی کہ وہ 15 دن کے اندر کراچی  میں کمیشن کے لیے ایک سیکریٹریٹ  قائم کرنے کے لیے مناسب مقام/جگہ تجویز کریں ۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی پبلک سیفٹی کمیشن کے لیے 19 یا 20 گریڈ  کا کوئی اچھا افسر تعینات  کیا جائے گا، جس  کے لیے وزیراعلیٰ سندھ  چند نام تجویز  کرکے کمیشن   کے اراکین  کو بھیجیں گے اور ان  کی مشاورت  سے تعیناتی  کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ  نے کہا کہ صوبائی  پبلک  سیفٹی  کمیشن کے لیے 100 ملین روپے مختص  کئے گئے  ہیں جبکہ  انہوں نے ہر مہینے کے پہلے ہفتے  میں کمیشن کا باقاعدہ  اجلاس  منعقد  کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ  نے صوبائی  پبلک سیفٹی  کمیشن  کے قوائد  بھی جلد سے جلد  فریم کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں آئی جی پولیس سندھ  ڈاکٹر کلیم امام، نے پولیس کمپلینٹ  کمیشن سندھ سے متعلق تفصیلی بریفنگ  دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ پولیس چارلس نیپئر نے یکم مئی 1843 کو قائم کی تھی اور انہوں نے کہا کہ   اس وقت سندھ پولیس  کا مجموعی  بجٹ 98 ارب  روپے ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ پولیس  کے بہتر اقدامات  کی بدولت  صوبہ میں جرائم  کی شرح میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے  اور صوبہ میں امن و امان  کی صورتحال  تسلی بخش  ہے اور گذشتہ  سال کی طرح اس سال بھی تمام  اہم ایونٹس  بخیریت گزر گئے ۔ انہوں نے بتایا کہ  پولیس کے محکمہ کو جدید  تقاضوں  سے ہم آہنگ  کرنے کے لیے نادرا کے ساتھ بائیو میٹرک  تصدیق  کے لیے ایک ایم او یو  پر دستخط  کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ پولیس کی جانب سے قائم کئے گئے شکایتی مراکز  میں 46ہزار  سے زائد  شکایات موصول ہوئیں جن میں 94 فیصد شکایات کا تدارک کردیاگیا۔ انہوں نے بتایا  کہ موصول  ہونے والی شکایات  میں 78 فیصد  عام شکایات  تھیں جبکہ  باقی ماندہ  شکایات  پولیس  سے متعلق  تھیں ۔ انہوں نے بتایا کہ  1971 سے لے کر اب تک 2880 سندھ پولیس  کے اہلکار  شہید ہوئے ہیں ۔ آئی جی  پولیس نے صوبائی  پبلک  سیفٹی  کمیشن کے اراکین  کی جانب سے پوچھے گئے سوالات  کے بھی جواب دیئے اور انہیں پولیس کمپلینٹ  کمیشن  سندھ کے بارے میں  تفصیل کے ساتھ  آگاہ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہید پولیس اہلکار  کے قانونی ورثاء کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے ایک طریقہ  کار  طے ہے اور اس کے تحت تمام  شہداء کے قانونی  ورثاء کو معاوضہ دیاجاتا ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ پولیس  میں شکایات  کے اندراج  کے حوالے سے شکایتی مراکز  سمیت واٹس اپ اور دیگر  فورم بھی ہیں  جن کی باقاعدہ  تشہیر  کی جاتی ہے ۔سیکریٹری  داخلہ قاضی کبیر  نے اجلاس  کو صوبائی  پبلک  سیفٹی کمیشن کے اغراض و مقاصد  کے حوالے سے پریزنٹیشن  دی۔ عبدالرشید چنا میڈیا کنسلٹنٹ ، وزیراعلیٰ سندھ

اپنا تبصرہ بھیجیں