مقبوضہ کشمیر میں انتخابات نہیں ، حق خود ارادیت مطالبہ ہے

امیر محمد خان۔۔ 
اقوامتحدہ کی جنرل اسمبلی میں  پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا ولولہ انگیز  اور  ”دبنگ“ خطاب  علاقے کی صورتحال ،  کشمیر  کے مظالم ،  اور  ان معاملات پر  عالمی اداروں، حکومتوں کی  بے حثی  وقت کی اہم ضرورت تھا، جسے وزیر اعظم پاکستان  عمران خان   نے بخوبی نبھایا۔اگر یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا  کہ بھارتی بے حسی اور پروپگنڈہ کو  چارو ں شانے چت کردیا ۔مگر بھارت اپنے حجم  اور بے حسی کی وجہ سے  کشمیر میں مظالم کے حوالے سے  ڈھٹائی کا مظاہرہ کررہا ہے ۔ اور وہ ایسا کرتا رہے گا ، اسلئے پاکستان کیلئے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ   وہ بھی اپنی  موجودہ حالات  میں عالمی  عدم  تعاون کی وجہ سے ناتواں آواز اٹھاتا رہے۔ پاکستان کے موقف کی تائید   کشمیری عوام کی جدوجہد  کررہی ہے۔ نیز  انسانی حقوق کے ادارے  کم از کم  انسانی حقوق کے حوالے سے  آواز بلند کئے ہوئے ہیں ، جنرل اسمبلی اور اقوام متحدہ کی یہ  ذمہ داری بنتی تھی  اور ہے کہ  جو مسئلہ اسکی فائیلوں میں عشروں سے موجود ہے   اور بھارتی ہٹ دھرمی اپنی قبول کی ہی قراردادوں  پر  قدم اٹھانے کو تیار نہیں  ، بھارت پر  ہمت دکھا کر  اقتصادی پابندیاں عائد کرے۔ ہندوستان کی تمام کارستانیوں کے ہمراہ  سب سے زیادہ  تعاون  وہاں کے سرمایہ کاروں کا ہوتا ہے،  بھارت اور امریکہ کے تجارتی  اور   سرمایہ کاری کو اگر دیکھا جائے تو  ٹرمپ کا   مودی کے انتخابی جلسے میں  ہیوسٹن جانا بنتا ہے۔ افسوس ناک پہلو ہمارے لئے یہ ہے کہ پاکستان کے نام نہاد تعلیم یافتہ  سیاست داناورمیڈیا  عوام مین اس انتخابی جلسے پر  مایوسی کا اظہار کرتے رہے کہ  امریکہ  مودی کے ساتھ ہے۔  دراصل امریکہ کسی کے ساتھ بھی نہیں۔ کشمیر  پر  حکومت پاکستان کا دباؤ  بھی ٹرمپ  کو اس بات پر مجبور نہ کرسکا کہ  وہ  کشمیر میں بھارتی  ہٹ دھرمی  پر  کوئی واضح موقف اختیا ر کرے۔ اور اب یہ بحث کررہے ہیں کہ پاکستانی حکمرانوں میں کسکا خطاب اچھا تھا ، اس لا حاصل بحث میں  حکومتی  وزراء  اور  عہدیدار بھی شامل ہیں۔  دنیا  امریکہ کو ایک بڑی  طاقت  تسلیم کرتی ہے  اور کہا جاتا ہے کہ   امریکہ جو چاہے  دنیا میں کرسکتا ہے، مگر  آج تک جہاں جہاں مسلمانوں کی بات آئی  چاہے فلسطین ہو، چاہئے کشمیر ،چاہئے  روہنگنیاء امریکہ، بہرا   اور گونگا ہوجاتا ہے۔ وزیر اعظم  عمرانخان  نے اپنی تمام تر توانائی استعمال کی   امریکی صدر  کو   اپنے موقف  کے ساتھ ملانے کی  انکی کوشش جو   اچھی تھی۔ ایک تعلیم یافتہ  وزیر اعظم کا خطاب  بہت اچھا تھا  ماسوائے اسکے  کہ نہ جانے پاکستان کے وزارت خارجہ  اور  وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کشمیر  اور پاکستان کے دیرینہ مطالبے جسے   نہرو  بھی  جنرل اسمبلی میں   قبول کرچکا تھا،  جنرل اسمبلی کے ریکارڈ پر  بھی ہے کہ  ہمارا مطالبہ اور کشمیر کا مطالبہ  ہمیشہ  ”کشمیری عوام کا حق  خودارادیت “ رہا ہے اسکا  ذکر  نہیں کیا۔  پاکستان کی سابقہ قیادتوں چاہے ذردای ہو ں۔میاں نواز شریف، بے نظیر ہوں جب جب موقع ملا ہے جنرل اسمبلی سے خطاب  کا  مرکزی موضوع کشمیر ہی رہا ہے کسی بھی پاکستانی حکمران  کی یہ ہمت ہو ہی نہیں سکتی کہ  وہ  کشمیر کی حق خود ارادیت اور بھارتی تسلط پر  آواز بلند نہ کرے۔  آ ج  کشمیر  پر  آواز  اور کوششوں کی یہ بلندی  کشمیری عوام کی قربانیوں  اور بھارت کی  جانب سے کشمیر پر قبضے کی  کوشش ہے۔وزیر اعظم عمران خان سے ٹرمپ کے ہمراہ دو ملاقاتوں میں کشمیر  ہی مرکزی موضوع رہا  جہاں ٹرمپ  اپنے روائیتی ہنسی مذاق میں   مشترکہ ملاقات میں صحافیوں کے جواب دیتے رہے  اور بقول  شخصے  کشمیر  پر  اپنے دو ٹوک  موقف کا   اظہار ماسوائے  اسکے نہ کیا کہ وہ ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں  اگر دونوں فریق تیار ہوں۔  کشمیر کے متعلق  امریکہ موقف کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ  امریکہ کی وزارت خارجہ  کے  ایلس  ویلس   نے کشمیر میں کرفیو ہٹانے کی بات کی،  حالات  معمول پر لانے کی بات کی،  باہمی مذاکرات کی بات کی، مگر نہ کی تو    بھارت کے 5 اگست کے اقدام کے خلاف کوئی بات نہ کی  اور  سب سے اہم  یہ کہ  حق خود ارادیت کی بات نہیں کی   بلکہ  کشمیر میں  انتخابات کی بات کی  جو  ایک سازشی انداز ہے جو پاکستان  اور کشمیر کو کبھی قابل قبول نہیں ہوگا۔ اصل مطالبہ  حق خود ارادیت کا ہے۔افسوسناک پہلو یہ ہے ایلسن ویلس کے بیان کو پورے پیرائے میں ہماری  ”تعلیم یافتہ   میڈیا “ اور حکومتی اہل کاروں نے نہیں دیکھا   اور  شروع کے  آدھے بیان جس میں کرفیو ہٹانے کی بات کی گئی  اسپر  بغلیں بجانا شروع کردیں۔  اب ضرورت ہے جو  ماحول  بین الاقوامی طور  پر کسی حد تک  کشمیر کی آواز  کو دنیا بھر تک پہنچانے کیلئے وزیر اعظم پاکستان نے بنایا ہے اسے  نہائت  غور و حوض اور  سمجھداری سے جاری رکھاجائے تاکہ کشمیر عوام کی  بھر پور حمائت ہوسکے ، یہ بیانات  بچکانہ ہیں جو  پی پی پی کی طرف سے آئے کہ  کشمیر پر اپنا موقف مکمل طور پر  وزیر اعظم نے بیان نہیں کیا  یہ صرف  مخالفت برائے مخالفت کی بناء پر  ہے۔ آئیندہ  آنے والے وقت میں  شائد  ٹرمپ جو  خود  اب  ڈیموکریٹ کے یوکرین صدر کے معاملے پر  گھیرے میں آچکے ہیں  شائد  کوئی ثالثی نہ کرسیکں  کشمیر پر مودی کی مجرمانہ خاموشی ہے اسلئے وزیر  اعظم پاکستان نے  اپنے خطاب میں  نہ صرف  کشمیر بلکہ پورے عالم اسلام کے معاملات ،  اسلامی فوبیا ء  کی تشریح کی ہے دہشت گردی  اور  ظلم کے خلاف  آواز اٹھانے میں فرق واضح کیا ہے وہ  عالم اسلام  کی نمائیندہ تنظیم OIC    کو  سعودی عرب اور  دیگر  حمائتی ممالک کے ساتھ ملکر  مضبوطی دیں اور  تقریر میں اٹھائے گئے تمام نکات  جن پر OIC کے ایجنڈے پر  آسکتے ہیں  پر  سرگرمی کا مظاہرہ کریں  تاکہ  جنرل اسمبلی کی تقریر صرف تقریر  نہ رہ جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں