کلائمیٹ سمارٹ ایمبیسیڈر

وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل وزیر نے کہا ہے کہ نوجوانوں میں موسمیاتی تبدیلی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے ” کلائمیٹ سمارٹ ایمبیسیڈر” بنانے جا رہے، جنوبی پنجاب میں 12 ندی نالوں پر پن بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، ہمیں قدرتی خوبصورتی کو بچانے کے لئے فکرمند ہونا چاہئے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایئر یونیورسٹی میں “موسمیاتی تبدیلی اور پاکستان” کے موضوع پر منعقدہ سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات میرے لئے قابل فخر ہے کہ ہمارے ملک کے عوام میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے آگاہی پیدا ہو رہی ہے اور آج تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات بڑھ چڑھ کر آگاہی مہم کا حصہ بن رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نوجوانوں میں موسمیاتی تبدیلی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے ” کلائمیٹ سمارٹ ایمبیسیڈر” بنانے جا رہے ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کو موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں بخوبی آگاہی مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا کی بڑی طاقتوں نے اپنی غلطیوں کا ملبہ ہمیشہ کمزوروں پر ڈالا ہے۔ اس وقت چند بڑی مضبوط معیشت رکھنے والی طاقتیں ماحول کر خراب کرنے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح ہمارے ملک میں موسمیاتی تبدیلی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ کراچی میں گزشتہ دنوں ہیٹ ویو سے اموات کے واقعات سب کے سامنے ہیں۔ انہی موسمیاتی تغیرات کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے بروقت اقدام کیا اور اس کی روک تھام کے لئے بلین سونامی ٹری، کلین اینڈ گرین پاکستان جیسے منصوبے شروع کئے گئے جس میں ہماری وزارت اہم کردار ادا کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں بھی 2 ارب روپے کلین اورگرین پاکستان پروگرام کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم توانائی کو پیدا کرنے کے متبادل منصوبوں پر بھی کام کرنے جا رہے ہیں جنوبی پنجاب میں 12 ندی نالوں پر پن بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت موسمیاتی تبدیلی ، غربت کے خاتمے اور احتساب کے عمل پر بھر پو رکام کر رہی ہے۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایئر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ایئر وائس مارشل (ر) فائزعامر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی دور حاضر کا اہم موضوع بن چکا ہے اور اسی ضرورت کو دیکھتے ہوئے ہماری یونیورسٹی موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر سیمینار منعقد کرا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت دنیا میں گرین ہائوس گیسز کا چین میں27 فیصد، امریکا 16 فیصد، یورپ 14 فیصد، بھارت 6 فیصد جبکہ پاکستان میں صرف0.7 فیصد گرین ہائوس گیسزکا اخراج ہورہاہے۔
انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی رونما ہوتی رہی ہے اور جن ممالک نے بروقت اقدامات کئے وہ اس کے اثرات سے محفوظ رہے۔ سیمینارمیں موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر مباحثہ بھی کرایا گیا جس سے ماہر موسمیات ڈاکٹر ثروت، ڈاکٹر انیلہ فاطمہ، ثاقب سلطان، آصف جاوید اور سلمان اکبر نے حصہ لیا اور موسمیاتی تبدیلی سے درپیش چلینجز پر اپنا مؤقف بیان کی۔ سیمینار سے ڈاکٹر محمود خواجہ نے بھی خطاب کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں