مزدوروں کو تمام تر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں

(آئی ایل او) کی کنٹری ڈائریکٹر اینگرڈ کریسسنز (Ingrid Christensen) نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر سیکرٹری محنت سندھ عبدالرشید سولنگی، صوبائی وزیر کے پرسنل سیکرٹری اقرارجلبانی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ملاقات میں مزدوروں اور محنت کشوں کو درپیش مسائل اور انہیں عالمی سطح پر دی جانے والی سہولیات سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت اور محکمہ محنت کی جانب سے یونیورسلائزیشن آف سوشل سیکورٹی کے حوالے سے کئے جانے والی کاوشوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سوشل سیکورٹی کا دائرہ کار جو اس وقت صوبہ سندھ میں کم و بیش ساڑھے چھ لاکھ محنت کشوں پر مشتمل ہے اور یونیورسلائزیشن کے بعد یہ دائرہ 25 لاکھ محنت کشوں سے بھی تجاوز کرجائے گا، اور اس کے تحت ہم مزدوروں اور محنت کشوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس حوالے جاری اقدامات میں آئی ایل او بھی ہمارے ساتھ تعاون کرے تاکہ ہم اس نظام کو زیادہ فعال اور مستند بنا سکیں۔ اس موقع پر (آئی ایل او) کی کنٹری ڈائریکٹر اینگرڈ کریسسنز (Ingrid Christensen) نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ سندھ حکومت اور محکمہ محنت سندھ ایک ایسا انقلابی اقدام کرنے جارہی ہے، جس سے مزدوروں اور محنت کشوں کے معاشی حقوق کے ساتھ ساتھ ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی ہوسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایل او اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی اور اس حوالے سے اپنی تمام ماہرانہ رائے، ٹریننگ اور ماہر لوگ بھی فراہم کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس نظام کے لئے تھائی لینڈ، ملیشیا، چائنا سمیت دیگر ممالک کے دورے اور وہاں اسٹیڈی بھی کروانے کے لئے تیار ہیں۔جہاں یونیورسلائزیشن آف سوشل سیکورٹی کے باعث محنت کشوں اور مزدوروں کو تمام تر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ اینگرڈ کریسسنز (Ingrid Christensen) نے مزید کہا کہ ہمیں اس بات کا افسوس ہے کہ صوبہ پنجاب میں لیبر قوانین کے تحت فیکٹریوں میں انسپیشن پر وہاں کی حکومت نے پابندی عائد کردی ہے، جو کہ عالمی لیبر قوانین کے خلاف ہے اور اس سلسلے میں آئی ایل او حکومت پاکستان کو ایک مراسلہ بھی لکھ رہی ہے، جس میں انہیں اس بات کی باور کرایا جائے گا کہ حکومت پاکستان نے لیبر قوانین کے حوالے سے بہت سے ممالک سے معاہدے بھی کئے ہیں۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے اس طرح کی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے اور نہ ہی لگائی جائے گی اور ہم ایسا کوئی اقدام نہیں کرنا چاہتے، جس سے محنت کشوں اور مزدوروں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا ہو۔ جس پر (آئی ایل او) کی کنٹری ڈائریکٹر اینگرڈ کریسسنز (Ingrid Christensen) نے صوبائی وزیر کے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ ہمیں امید ہے کہ جس طرح سندھ حکو مت اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت بالخصوص چیئرمین بلاول بھٹو زرداری محنت کشوں اور مزدوروں کے حقوق کے لئے جدوجہد کررہے ہیں، صوبہ سندھ کی طرز پر دیگر صوبے بھی اسی طرح کے اقدامات کریں گے۔ ہینڈ آﺅ ٹ نمبر 899  

اپنا تبصرہ بھیجیں