سمندر کنارے کچرہ پھینکنے سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ

سمندر کنارے کچرہ پھینکنے سے  ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ اور آبی حیات کو خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ مرتضیٰ بلوچ۔۔    کراچی 3 اکتوبر۔ صوبائی وزیر برائے انسانی بستیوں غلام مرتضیٰ بلوچ نے کہا ہے کہ سمندر کنارے کچرہ پھینکنے سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس عمل سے آبی حیات کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ساحلوں کو بھی صاف رکھا جائے تاکہ ماحولیاتی خوبصورتی میں اضافہ ہو اور آبی حیات کو تحفظ ملے۔ یہ بات آج انہوں نے کلین کراچی مہم کے تحت ضلع ملیر کی ساحلی پٹی کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے کہی۔  اس موقع پرصوبائی وزیر کے ساتھ ایم پی اے محمود عالم جاموٹ اور ڈی سی ملیر عبداالحلیم جاگیرانی بھی ھمراہ تھے ۔ صوبائی وزیر غلام مرتضیٰ بلوچ نے لٹ بستی ، ریڑھی گوٹھ ، لعل آباد ، الیاس جت گوٹھ اور بھینس کالونی میں جاری صفائی مہم کا جائزہ لیا۔  صوبائی وزیر نے بھینس کالونی روڈ نمبر 5 پر تعمیراتی ملبہ دیکھ کر مالک کو بلا کر تلقین کی اور مبلہ خود ہٹانے کی ہدایت بھی کی ۔ انہوں نے لٹ بستی جیٹی کا معائنہ کیا اور جیٹی پر سمندر کے کنارے پر پڑے کچرے کو فوری طور منتقل کرنے کی ہدایت بھی کی۔  دورے کے موقع پر صوبائی وزیر برائے انسانی بستیوں غلام مرتضیٰ بلوچ نے  ڈی سی ملیر کو ریڑھی گوٹھ عید گاہ گرائونڈ کے ساتھ سالوں سے پڑے ڈمپ کچرے کو ٹھکانے لگانے کے احکامات بھی جاری کئے۔ صوبائی وزیر نے   ریڑھی گوٹھ سمندر کنارے باڑے کے گوبر پھینکنے والی گاڑی کے ڈرائیور کو 144 کی خلاف ورزی پر اس کے خلاف کاروائی کرنے کی بھی ہدایت کی۔ غلام مرتضیٰ بلوچ نے کہا کہ کلین کراچی مہم میں سالوں سے پڑے ہوئے کچرے کو ٹھکانے لگایا جا رہا ہے ۔اور سمندر کنارے کچرہ پیھکنے سے ماحولیاتی آلودگی کی خرابی کے ساتھ  آبی حیات  کو بھی خطرہ ہے، اس لئے کنارے سے کچرے کو فوری طور صاف کیا جارہا ہے۔  انہوں نے کہا کہ ساحلی علاقوں کے لوگوں میں اس بات کا شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ ساحلی پٹی پر کچرہ نہ ڈالیں اور کچرہ مقررہ جگہوں پر ڈالیں۔

کیٹاگری میں : صحت