اِس ملک اور اِس کی انڈسٹری کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تباہ کیا جا رہا ہے:وقار احمد میاں (ستارہ پاکستان)

وقار احمد میاں (ستارہ پاکستان) ایک جہاندیدہ بزنس مین ہیں اور اِس شعبے کی اُونچ نیچ کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ پاکستان اور اِس کی انڈسٹری کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تباہ کیا جا رہا ہے۔ٹریڈرز رو رہے ہیں، انڈسٹری بند ہو رہی ہے لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ ہوتا یہ ہے کہ اگر ایک گھر میں دوبھائی لڑ پڑیں تو بڑوں کا کام ہوتا ہے کہ اُن کی صلاح کرائی جائے، اُن کو آپس میں بیٹھایا جائے۔ ہماری تو کوئی بات ہی نہیں سن رہا، حکومت کو جیسے کوئی پرواہ ہی نہیں کہ بزنس کمیونٹی کس مشکل کاشکار ہے۔ہمیں کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم کو دعوت دیں، ہمیں تو سمجھ نہیں آتی کہ کس طرح دعوت دیں، ناچ گا کر یا ڈھول بجا کر؟ میڈیا کے ذریعے، مختلف فورمز پر اور باضابطہ درخواست کے تحت کئی مرتبہ اُن سے کہہ چکے ہیں ہم سے بات کریں، ہمارے نمائندوں کو بلائیں لیکن اُن کے پاس ہمارے لئے وقت ہی نہیں ہے۔ یہاں سب کچھ بند ہو رہا ہے لیکن افسوس ہے کہ کوئی پرواہ نہیں کر رہا۔حکومت کی طرف سے بس یہی بات ہوتی ہے کہ اتنا لینا ہے، اتنا لے رہے ہیں، یہ لیکر رہیں گے۔ ہم پوچھتے ہیں، ہم جو سب کچھ پہلے ہی ادا کر رہے ہیں ہمارا کیا قصور ہے؟ بجلی کے بلوں میں ٹیکس جا رہا ہے، بلواسطہ اور بلاواسطہ ٹوتھ پیسٹ سے لیکر جتنی اشیاء آپ خریدتے ہیں اُس پر ٹیکس دیا جاتا ہے۔ اگر یہ پیسہ ترینوں اور حبیبوں کو دیا جانا ہے تو پھر ہم ٹیکس نہیں دیں گے۔میں تمام ذمہ داروں سے ہمدردانہ گزارش کرتا ہوں کہ اِس ملک کو بچالیں۔ میں اکثر اِس بات پر تنہائی میں روتا ہوں کہ ہم اپنی اگلی نسل کو کیا دے کر جا رہے ہیں۔ ہم تو اپنی زندگی گزار چکے، میری عمر چونسٹھ سال ہو چکی ہے اور کتنا جی لوں گا لیکن ہم اپنے بچوں کو کیسا ملک دیکر جا رہیں؟                                                                 دیکھیں فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں ہم تو اپنا گزارا کر لیں گے وہ دیہاڑی دار کیا کریں گے جو روز کے روز کماتے ہیں، بیروزگاری نے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔حکومت ماں باپ کی طرح ہوتی ہے اُس نے عوام کا خیال اپنے بچوں کی طرح رکھنا ہوتا ہے۔اگر حکومت نے اپنے ٹریڈرز، اپنی انڈسٹری اور اپنی معیشت کا خیال نہیں رکھنا تو افسوس سے کہوں گا یہ ملک نہیں چل سکے گا۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں