فلمی دنیا میں “ویدو” کے نام سے مشہور وحید مراد

فلمی دنیا سے خبر آپ لیے  شامل کرتے ھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وحید مراد کی آج 81ویں برسی آبائی طور پر ان کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔- پرانے فلم بینوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ چاکلیٹ بہت کھاتے تھے اس لیے چاکلیٹی کہلائے فلمی دنیا میں “ویدو” کے نام سے مشہور وحید مراد دو اکتوبر 1938 کو کراچی میں ایک متمول گھرانے میں پیدا ہوئے، لیکن آبائی طور پر ان کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی اور جامعہ کراچی میں انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔وہ ان خوش قسمت لوگوں میں سے تھے جنہیں اسٹوڈیوز کے چکر نہیں لگانا پڑے کیونکہ ان کے والد فلم ڈسٹری بیوٹر تھے۔ انتہائی خوش شکل اور سڈول جسم رکھنے کے باعث وہ انتہائی کم عمری ہی ڈائریکٹرز کی نظر میں آنا شروع ہوئے اور 1959 میں بننے والی فلم “ساتھی” میں انہوں نے ایک مختصر کردار ادا کیا۔ اس کے بعد 1962 میں “اولاد” نامی فلم میں معاون اداکار کے طور پر کام کیا جبکہ 1964 میں انہوں نے “ہیرا پتھر” خود پروڈیوس کی اور مرکزی کردار ادا کیا۔صرف تین فلموں میں نظر آنے پر ہی اس وقت کے عوام کو اپنے سحر میں لے لیا، مردوں سے زیادہ وہ خواتین میں مقبول تھے۔ مرد ان کے ہیئر اسٹائل کو کاپی کرتے اور خواتین ان کی تصاویر اپنے پاس رکھنا پسند کرتیں۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ اس قدر بلندی پر پہنچ گئے کہ پڑوسی ملک کے اداکار ان کی نقل کرنے لگے بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی فلمیں آج بھی انڈیا کے ایکٹنگ اکیڈمیز میں دکھائی جاتی ہیں۔وحید مراد پاکستان ہی نہیں شاید دنیا کی فلم انڈسٹری کے واحد ہیرو تھے جن کیلئے “چاکلیٹی ہیرو” کے الفاظ استعمال کئے گئے۔ اس حوالے سے پرانے فلم بینوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ چاکلیٹ بہت کھاتے تھے اس لیے چاکلیٹی کہلائے، لیکن حقیقت سے قریب یہ خیال معلوم ہوتا ہے کہ چاکلیٹی کا مطلب وہی ہے جو لفظ “گارجیئس” کا ہے یعنی انتہائی دلکش، اور اس میں کوئی شک بھی نہیں۔انہیں “وومن کِلر” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ جس طرف آنکھ بھر کر دیکھ لیتے سامنے والا جکڑا جاتا۔80 کی دہائی کا آغاز ان کیلئے ناخوشگواریت لے کر آیا اور قسمت کی دیوی ان پر نامہربان ہونا شروع ہوئی، 1983 میں ان کا ایک خوفناک ایکسیڈنٹ ہوا اور ان کے معدے کی سرجری ہوئی جبکہ چہرے پر بھی چوٹیں آئیں۔ اس سے چند برس قبل ایک نئے ہیرو ندیم بیگ کی فلم انڈسٹری میں انٹری ہو چکی تھی، ان کو سپیس ملی اور وحید مراد پس منظر میں چلتے چلے گئے۔وحید مراد مہینوں ہسپتال میں رہے، ان کا خوبصورت چہرہ اسی طرح تروتازہ اور دلکش نہ رہا اور وہی ہوا فلم کی بناوٹی دنیا نے ان سے منہ موڑنا شروع کر دیا۔انہی دنوں ایک مشہور پروڈیوسر پرویز ملک ان کی عیادت کے لیے گئے اور کہا “جب آپ ٹھیک ہو جائیں گے تو آپ کو اپنی فلم میں کام دوں گا، جس پر وحید مراد نے کہا آپ مجھے کام دیں میں ابھی ٹھیک ہو جاؤں گا”اس کے کچھ ہی عرصہ بعد 23 نومبر 1983 کو صرف 45 سال کی عمر میں دل کے دورے کا شکار ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے اور ان کی آخری فلم کی “مراد” ان کے دل میں ہی رہ گئی۔آج انٹرنیٹ کے بین الاقوامی سرچ انجن گوگل نے وحید مراد کے یوم پیدائش پر ان کو یاد رکھتے ہوئے پاکستانی صارفین کیلئے چاکلیٹی ہیرو کا ڈوڈل پیش کیا ہے۔ انہوں نے 124 فلموں میں کام کیا جو آج بھی لالی وڈ کا اثاثہ ہیں۔ وفات کے 27 سال بعد 2010 میں ان کو تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔وحید مراد کی یوٍم پیدائش پرگوگل نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنا ڈوڈل ان کے نام کردیا- tariq iqbal from kuwait