جاوید بلوانی نے شکایات کا انبار لگا دیا

: پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سینٹرل  چیئرمین محمد جاوید بلوانی بہت صاف گو اور دوٹوک گفتگو کرنے کے لیے مشہور ہیں انہوں نے ایک مرتبہ پھر وزیراعظم پاکستان عمران خان کی توجہ صنعتکاروں تاجروں کے درینہ مسائل کی جانب مبذول کراتے ہوئے شکایات کا انبار لگا دیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم ایف بی آر کو حکم دے تاکہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے سیلز ٹیکس ریفنڈز کے کلیمز کی فوری ادائیگی عمل میں آسکے ۔وزیراعظم پاکستان کو تحریر کردہ مراسلے میں انہوں نے لکھا ہے کہ حکومت کی نئی پالیسی اور سیلز ٹیکس قوانین میں ترمیم اور ایف بی آر کے نئے فاسٹر سسٹم کے تحت ایکسپورٹرز کو انکے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کلینز داخل کرنے کے 72 گھنٹوں میں کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی جس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو رہا ۔ان کا کہنا ہے کہ 16 ستمبر 2019 کو ایف بی آر حکام کے ساتھ ایسوسی ایشن کے اجلاس میں ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ نئے فاسٹر سسٹم کے تحت ایکسپورٹرز کلیمز داخل ہونے کے 72 گھنٹوں میں ان کی ادائیگی کر دی جائیگی اس کے برعکس کئی ممبران نے اسوسیشن کو آگاہ کیا ہے کہ 12روز اور گھنٹوں کے حساب سے 288 گھنٹے گزرنے کے باوجود سیلز ٹیکس ریٹرن داخل کرنے انیکسچر ایچ جمع کروانے اور ریفنڈ پیمنٹ آرڈر کی منظوری کے باوجود ایکسپورٹرز کو ادائیگیاں تاخیر کا شکار ہے اور اسٹینڈ نے ریفنڈز کی رقم  ایکسپورٹرز کو ان کے بینک اکاؤنٹ میں کریڈٹ نہیں کی ہیں ۔یقینی طور پر جاوید بلوانی کی یہ شکایات اہمیت کی حامل ہیں اور وزیراعظم عمران خان سمیت حکومت کے تمام متعلقہ افراد کو اس جانب فوری توجہ دینی چاہیے اور عنبرینہ مسائل کو حل کرنے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا چاہیے

اپنا تبصرہ بھیجیں