“کٹی پہاڑی” کے اس پار

اتوار 22 جنوری 2023
================

ایک زمانے میں جب کراچی میں نسلی جنگ وجدل جاری تھی، نارتھ ناظم آباد کے دامن میں واقع “کٹی پہاڑی” دنیا بھر میں دہشت کی علامت سمجھی جاتی تھی- الحمدللہ ۔۔۔۔۔ پھر جب سے حالات معمول پر آئے ہیں یہی “کٹی پہاڑی” آج امن و آشتی کا گہوارہ قرار پائی ہے- وہ بھی کیا وحشت ناک دن تھے، یاد کر کے خوف سے جھرجھری سی آ جاتی ہے- جب حالات دگرگوں تھے تو آر پار لوگوں کے شناختی کارڈ دیکھ کر راہ گیروں کو موت کا مزہ چکھایا جاتا تھا- سید مصطفی کمال کے دنوں میں نارتھ ناظم آباد اور منگھو پیر روڈ کے درمیان پہاڑی حائل تھی جو “دیوار برلن” کے مانند مختلف علاقوں اور طبقوں کو تقسیم کرتی تھی- نارتھ ناظم آباد سے منگھو پیر، قصبہ کالونی اور اورنگی ٹائون جانے والوں کو طویل فاصلہ طے کر کے بنارس کے راستے یا پھر نصرت بھٹو کالونی، میانوالی کالونی، پشتون آباد کی طرف سے لمبا سفر طے کر کے یہاں تک پہنچنا پڑتا تھا- ان دنوں جنرل پرویز مشرف امریکا کے لاڈلے بنے ہوئے تھے- وہ کراچی اور ایم کیو ایم پر بہت مہربان تھے اور فراخ دلی سے امریکی ڈالر ان پر نچھاور کر رہے تھے- جنرل پرویز مشرف کے اسی دور آمریت اور سید مصطفی کمال کے دور نظامت کے آخری دنوں 2010 میں شارع نور جہان کے مقام پر یہ پہاڑی کاٹ کر “نارتھ ناظم آباد اورنگی لنک روڈ” راستہ بنایا گیا، یہ تاریخ ساز کام تھا لیکن یہ پہاڑی کٹنے کے باوجود دلوں کے فاصلے نہ سمیٹ سکی- اس لنک روڈ کے منصوبے پر پہاڑی کی کٹائی کے خرچوں سمیت 500 ملین روپے کے اخراجات آئے-
پھر جب مارا ماری شروع ہوگئی تو “کٹی پہاڑی” دو قومیتوں کے درمیان دشمن سرحد کا روپ دھار گئی اور اس لنک روڈ کو کئی درد ناک سانحوں سے گزرنا پڑا جو ڈرائع ابلاغ کی زینت بنے تو اس پہاڑی کو عالمی شہرت حاصل ہو گئی- سیاسی بازی گروں کی روح کو قرار آیا اور شہر قائد میں امن کی فاختہ پھر سے پھڑپھڑانے لگی تو “کٹی پہاڑی” بھی “شاہراہ امن” بن گئی ہے اور اب دونوں طرف کے لوگ دن ہو یا رات، بلا خوف و خطر آر پار کا سفر کرتے ہیں-
گزشتہ دو روز سے ہمارے یار دل دار اور “آن لائن” کے مدیر عبدالخالق مارشل نے مجھے پابند کر رکھا تھا کہ آئندہ “سنڈے برنچ” فضل کریم بھائی کی منگھو پیر روڈ پر واقع ماربل فیکٹری میں کریں گے جہاں پندرہ بیس اور دوست بھی ہمارے ساتھ ہوں گے- انہوں نے بتایا کہ فضل کریم بھائی ہماری تواضع دیسی مرغی کے سالن سے کریں گے جو وہ بہ طور خاص حب سے لائیں گے- آج اتوار کو ہم دو بجے مہر بان دوستوں ڈاکٹر زبیر چوہدری، عبدالباسط چوہان، عبدالغفور بلوچ اور مرتضی حسن علوی کے ہم راہ شارع نور جہان پر واقع اپنے گھروں سے “کٹی پہاڑی” کے راستے چند ہی منٹوں میں منگھوپیر روڈ پر واقع ماربل فیکٹری جا پہنچے جہاں پہلے سے دس پندرہ اور دوست ہمارے منتظر تھے- منگھو پیر روڈ قصبہ کالونی، بلوچ گوٹھ، پشتون آباد، نیو ناظم آباد سے منگھو پیر قصبے تک اب ہر طرف ماربل فیکٹریاں ہیں، یہ ہزاروں ماربل فیکٹریاں تعمراتی صنعت کا اہم ترین جزو ہیں مگر آج کل بیمار فیکٹریوں کی تعداد بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے- خیر ہم وہاں پہنچے تو سرائیکی وسیب کے مسافر خانے سے تعلق رکھنے والے فضل کریم بھائی نے ہماری خاطر مدارت دیسی مرغی کے سالن، سرائیکی وسیب کی سوغات “سوہانجنا” (مورنگا) مکھن اور تازہ تازہ کنوئوں کے ساتھ کی- اب تو سوہانجنا کے شجر کراچی میں بھی دیکھنے کو بہت مل جاتے ہیں- بہ ہرحال اس مختصر سفر اور ما حضر کا بہت مزہ آیا- میں مدتوں سے اس علاقے میں موجود ہوں، پہاڑی کٹنے سے پہلے اور کٹنے کے بعد بھی بیسیوں بار آر پار دوسرے راستوں سے آئے گئے مگر آج پہلی بار “کٹی پہاڑی” کی اتنے قریب سے زیارت کی اور اس پار بھی گئے- حالانکہ عین اسی پہاڑی کے پار بلوچوں کی ایک قدیم “بلوچ گوٹھ” ہے جہاں شہرہ آفاق اداکار نور محمد لاشاری بھی رہتے تھے اور مجھے دوسرے راستوں سے جا کر کئی بار ان کی قدم بوسی اور ان کا انٹرویو بھی کرنے کا موقع بھی ملا- آج “کٹی پہاڑی” پار کر کے “بلوچ گوٹھ” پہنچے تو نور محمد لاشاری مرحوم بہت یاد آئے- شارع نور جہان نارتھ ناظم آباد سے لنک روڈ کراس کرتے ہوئے یہ تصویریں ایک راہ گیر پختون نوجوان عرفان خان سے درخواست کر کے بنوائیں- ان تصویروں میں میرے محب و مہربان عبدالخالق مارشل، ڈاکٹر زبیر چوہدری، عبدالباسط چوہان، عبدالغفور بلوچ اور مرتضی حسن علوی نمایاں ہیں-
شکریہ فضل کریم بھائی
آپ کی مہمان نوازی کا شکریہ
=====================================