مفتاح اسماعیل بنیادی اصول بھول گئے لیکن وہ اتنے بھولے تو نہیں ہیں ؟ جو سوال دوسروں سے پوچھ رہے ہیں کبھی خود سے پوچھ کر دیکھیں ۔۔۔!

مفتاح اسماعیل بنیادی اصول بھول گئے لیکن وہ اتنے بھولے تو نہیں ہیں ؟ جو سوال دوسروں سے پوچھ رہے ہیں کبھی خود سے پوچھ کر دیکھیں ۔۔۔! جب وہ کچھ نہیں تھے تو انہیں وزارت خزانہ کے قلمدان تک پہنچایا کس نے ؟ جو شخصیت انہیں بغیر اتنے بڑے تجربے کے پورے ملک کے معاملات سونپنے کا فیصلہ کرسکتی تھی اگر اس کی شخصیت نے ان سے ذمہ داریاں واپس لینے کا فیصلہ کیا تو انہیں حیرت اور ناراضگی کیوں ہو رہی ہے ؟ اگر انہیں ایک بار نہیں دو بار موقع دینے کا فیصلہ کرنے والوں نے اب ان سے یہ ذمہ داری واپس لی ہے تو یہ ان کا اختیار تھا مفتاح اسماعیل عوام

سے یہ مینڈیٹ لے کر تو نہیں آئے تھے کہ وہی وزیر خزانہ رہیں گے اور ان کو ہٹایا نہیں جائے گا ؟ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس تو وزیر خزانہ بننے کا مینڈیٹ ہی نہیں تھا ۔ پہلے تو انہیں اس بات پر جواب دینا چاہیے کہ وہ شارٹ کٹ کے ذریعے وہاں تک پہنچے کیسے ؟ باقی باتوں کا حساب تو بعد میں ہوگا ؟ کیا پاکستان کا وزیر خزانہ بننا اتنا ہی آسان تھا جتنا مفتاح اسماعیل کے لیے ثابت ہوا ؟

=============================

سلیمان شہباز نے ‘’جوکر‘ والی ٹوئٹ کی وضاحت دیدی
22 جنوری ، 2023

لاہور -وزیراعظم شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز نے سابق وزرائے خزانہ سے متعلق اپنی جوکر والی ٹوئٹ پر وضاحت دے دی۔ ہفتے کی صبح عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران صحافی نے سلیمان شہباز سے سوال کیا کہ آپ نے ٹوئٹ میں وزیر خزانہ کو جوکرکہاتھا؟ جواب میں سلیمان شہباز نے کہا پی ٹی آئی نے5 وزیر خزانہ تبدیل کیے تھے، میں نے آخری3کو کہا تھا۔ صحافی نے پھر سوال کیا کہ کیا اس میں مفتاح اسماعیل بھی شامل تھے؟ اس کے جواب میں سلیمان شہباز بولے میں نے کسی کا نام نہیں لیا
https://e.jang.com.pk/detail/349896
====================================
مجھے ہٹا کر اسحاق ڈار کو لانے سے کیا اچھا ہوا، مفتاح اسماعیل
22 جنوری ، 2023
FacebookTwitterWhatsapp
کراچی (ٹی وی رپورٹ) سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت کا آئی ایم ایف سے مذاکرات مکمل کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے، ڈالر کی مصنوعی قدر رکھنے سے ترسیلات زر میں ڈیڑھ بلین ڈالرز کی کمی آئی، ہم نے آئی ایم ایف پروگرام بڑی مشکل سے بحال کیا تھا، ستمبر تک چیزیں ٹھیک رکھی ہوئی تھیں اس وقت تک کا ریویو کیا جاسکتا تھا، مجھے وزیرخزانہ وزیراعظم شہباز شریف نے بنایا تھا مجھے ہٹانا ان کی صوابدید تھی، عوام شہباز شریف سے پوچھ سکتے ہیں مفتاح اسماعیل کو ہٹا کر اسحاق ڈار کو لائے تو کیا اچھا ہوا، مشکل فیصلے کر کے عوام کو بڑی مشکل سے بچایا جاسکتا ہے۔وہ جیوکے پروگرام ”نیا پاکستان شہزاد اقبال کے ساتھ“ میں میزبان شہزاد اقبال سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں سینئر صحافی و تجزیہ کار محمد مالک اور مجیب الرحمٰن شامی بھی شریک تھے۔ محمد مالک نے کہا کہ حکومت انتخابات میں تاخیر کیلئے ہر حربہ استعمال کرے گی، جنرل باجوہ کو نشانہ بنانے سے نہ پی ٹی آئی الیکشن جیتے گی نہ ن لیگ جیتے گی، نواز شریف کی واپسی الیکشن کا سب سے بڑا اشارہ ہوگا، قومی اسمبلی کے انتخابات وقت پر ہونا بھی بہت بڑی بات ہوگی۔مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ حکومت کو مشکل فیصلو ں کے ساتھ انتخابات میں جانے کا حوصلہ کرنا چاہئے، الیکشن سے فرار کی راہ حکومت کو مزید کمزور کردے گی،جنرل باجوہ تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں انہیں کوئی بھی نشانہ بنائے اس کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت کا آئی ایم ایف سے مذاکرات مکمل کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے، ڈالر کی مصنوعی قدر رکھنے کی وجہ سے پچھلے چار ماہ کے دوران ترسیلات زر میں ڈیڑھ بلین ڈالرز کی کمی آئی، ایکسپورٹرز اپنا 10فیصد پیسہ باہر رکھ سکتا ہے اسے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے، ڈالر کو فری مارکیٹ پر چھوڑنا آئی ایم ایف کی شرط کے ساتھ گڈ اکنامکس کا بھی تقاضا ہے۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ عمران خان 18بلین ڈالرز کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ چھوڑ کرگئے، عمران خان نے گیس کی قیمتیں کم کر کے آئی ایم ایف معاہدہ کی خلاف ورزی کی جس سے پاکستان مشکل میں آگیا، ہمارا قرضہ 100بلین ڈالرز کا ہوگیا ہے ہمیں ہر سال 20ارب ڈالرز واپس کرنا ہیں، ایکسپورٹ بڑھائے بغیر ہمارے حالات ایسے ہی رہیں گے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہم نے آئی ایم ایف پروگرام بڑی مشکل سے بحال کیا تھا، ستمبر تک چیزیں ٹھیک رکھی ہوئی تھیں اس وقت تک کا ریویو کیا جاسکتا تھا، زرمبادلہ کے نقصان کے ساتھ انڈسٹری اور ایکسپورٹ آرڈرز بھی متاثر ہوئے ہیں۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ نواز شریف کو عوام حکومت میں لائے تھے وہ کہہ رہے تھے انہیں اقامہ کی بنیاد پر کیوں نکالا گیا، مجھے وزیرخزانہ وزیراعظم شہباز شریف نے بنایا تھا مجھے ہٹانا ان کی صوابدید تھی، عوام شہباز شریف سے پوچھ سکتے ہیں مفتاح اسماعیل کو ہٹا کر اسحاق ڈار کو لائے تو کیا اچھا ہوا، بطور وزیرخزانہ میں تمام کام شہباز شریف کی مرضی سے کرتا تھا، سیاسی کیپٹل میرا یا اسحاق ڈار کا نہیں نواز شریف اور شہباز شریف کا تھا، میں نے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا میرے دور میں ڈیفالٹ کی بات بھی نہیں ہوتی تھی۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ہماری اولین ترجیح سیاست بچانا نہیں ریاست بچانا ہونی چاہئے، سیاستدانوں کو احساس ہونا چاہئے کہ پاکستان ہے تو سیاست بھی ہے، پاکستان کی معیشت ہمارے لیے افضل ہونی چاہئے، حکومت مشکل فیصلے نہ لے کر عوام کی مشکلات کم کرنے کے بجائے بڑھارہی ہے، مشکل فیصلے نہیں لیے گئے اور آئی ایم ایف و دوست ممالک چلے گئے تو کہاں جائیں گے، مشکل فیصلے کر کے عوام کو بڑی مشکل سے بچایا جاسکتا ہے، حکومت بجلی گیس مہنگی کرتی ہے تو میڈیا تنقید نہ کرے کیونکہ اس کے سوا چوائس نہیں ہے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آئی ایم ایف ہمیں کہہ رہا ہے کہ قیمت خرید سے سستا پٹرول نہ بیچیں، سعودی وزیر خزانہ نے بھی مجھے کہا تھا کہ آپ ہم سے سستا ڈیزل بیچ رہے ہیں، بجلی گیس کی قیمتیں نہیں بڑھائیں گے تو پیسے کہاں سے لائیں گے، ایکسپورٹ بڑھانے اور امپورٹ کم کرنے کے سوا معیشت کی بحالی کا کوئی طریقہ نہیں ہے، معیشت کی بحالی کیلئے صنعتی و زرعی پیداوار بڑھانا پڑے گی، پاکستان کی معیشت کو امپورٹ بیسڈ نہیں کہا جاسکتا۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاستدانوں اور بیوروکریسی میں صلاحیتیں نہ ہونے کا ایشو ہے، بہت سے وزراء اور سیکرٹریز کو کام کا پتا نہیں، نجکاری نہ ہونے کی بڑی وجہ قانون کا سقم ہے، موجودہ قانون کے مطابق ہر چیز ٹھیک ہونے پر بھی نجکاری میں ڈیڑھ سال لگتے ہیں، نجکاری کا قانون آسان کرنے کے ساتھ ہر آدمی کو چور بولنے سے گریز کرنا ہوگا۔سینئر صحافی و تجزیہ کار محمد مالک نے کہا کہ حکومت پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات میں تاخیر کروانے کیلئے ہر حربہ استعمال کرے گی، مرضی کا نگراں وزیراعلیٰ نہ آنے پر پی ٹی آئی عدالت میں جانے کا عندیہ دے رہی ہے اس سے بھی انتخابات میں تاخیر ہوسکتی ہے، حکومتی قیادت کا زور صرف اپنے کیسز ختم کروانے پر رہ گیا ہے، عمران خان اور ادارے کے تعلقات اس وقت نچلی ترین سطح پر ہیں، عمران خان کہتے ہیں کہ لال لکیر لگادی گئی ہے تو یہ غلط نہیں ہے، ایسا لگتا ہے بحران کو انتشار میں تبدیل کیا جارہا ہے تاکہ سب حالات ٹھیک کرنے کیلئے انہی کی منتیں کریں۔ محمد مالک کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ کو نشانہ بنانے سے نہ پی ٹی آئی الیکشن جیتے گی نہ ن لیگ جیتے گی، نواز شریف قانونی طور پر بالکل محفوظ ہوئے بغیر پاکستان واپس نہیں آئیں گے، نواز شریف کی واپسی الیکشن کا سب سے بڑا اشارہ ہوگا، قومی اسمبلی کے انتخابات وقت پر ہونا بھی بہت بڑی بات ہوگی۔سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں آئین کے مطابق الیکشن ہونا ہیں، آئین میں ایسی کوئی گنجائش نہیں کہ آئی ایم ایف کے مطالبہ پر سخت فیصلے کرنے کیلئے انتخابات ملتوی کردیئے جائیں، حکومت کو مشکل فیصلو ں کے ساتھ انتخابات میں جانے کا حوصلہ کرنا چاہئے، حکومت سر ریت میں چھپانے سے شترمرغ تو بن جائے گی لیکن محفوظ نہیں رہے گی، حکومت نے مشکل فیصلے نہیں کیے تو ملک و قوم کو بڑی قیمت ادا کرنا ہوگی، الیکشن سے فرار کی راہ حکومت کو مزید کمزور کردے گی۔ مجیب الرحمٰن شامی کاکہنا تھا کہ نواز شریف وطن واپس آئیں اور عمران خان بھی الیکشن میں حصہ لیں، کسی عدالتی یا انتظامی حکم سے رکاوٹ کھڑی کی گئی تو کام نہیں دے گی، جنرل باجوہ تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں ،نواز شریف انہیں نشانہ بنائیں یا عمران خان بنائیں ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا، موجودہ اسٹیبلشمنٹ حقیقت ہے اسے نشانہ بنایا گیا تو وہ مشکل صورتحال پیدا کرے گی۔

https://e.jang.com.pk/detail/349885
===========================================
منی لانڈرنگ کیس،FIA کی سلیمان شہباز کو کلین چٹ
22 جنوری ، 2023

لاہور – وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے وزیراعظم شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز کو منی لانڈرنگ کیس میں کلین چٹ دے دی۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ سلیمان شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کے شواہد نہیں ملے، سلیمان شہباز کے خلاف کک بیکس کے شواہد نہیں ملے۔منی لانڈرنگ کیس میں سلیمان شہباز کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت اسپیشل جج سینٹرل نے کی۔اسپیشل پراسکیوٹر فاروق باجوہ اور تفتیشی افسر ضمنی چالان سمیت عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت جج نے استفسار کیا کہ چالان کے ساتھ لف ریکارڈ کہاں ہے؟ جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ چالان کو باقاعدہ اتھارٹی سے منظوری کے بعد پیش کر دیں گے۔عدالت نے کہا کہ آپ سے چالان پڑھنے کے لیے لیا ہے، واپس کر دیں گے۔سلیمان شہباز کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ چالان میں ایف آئی اے نے سلیمان شہباز کو بے گناہ قرار دے دیا ہے، جس پر سلیمان شہباز اور طاہر نقوی درخواستیں واپس لینا چاہتے ہیں۔

https://e.jang.com.pk/detail/349898
=======================================

ریونیو اہداف حاصل کرنےکی ہر ممکن کوشش کریں ، چیئرمین ایف بی آر
22 جنوری ، 2023

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) چیئرمین ایف بی آر عاصم احمد نے تمام چیف کمشنرز کو ہدایات دیں ہیں کہ بجٹ میں طے کردہ ریونیو اہداف حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور تیسری سہ ماہی کے مقرر کردہ بجٹ کے ہدف کے حصول کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ،یہ ہدایت انھوں نے ہفتہ کو لارج ٹیکس پیئرز آفس کراچی کے دورہ کے موقع پر کراچی میں تعینات تمام چیف کمشنرز اور فیلڈ فارمیشنس سے تعلق رکھنے والے افسران سے ملاقات اور گفتگو کرتے ہوئے جاری کیں چیئرمین ایف بی آر نے تیسری سہ ماہی کے لیےمقرر کردہ اہداف کے حوالے سے تمام چیف کمشنرز کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ تمام چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو کی جانب سے مقرر کردہ بجٹ کے ہدف کے حصول کے لیے پروجیکشن اورموثر حکمت عملی کی تفصیلی پیشکشیں دی گئیں۔ چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو نے تیسری سہ ماہی کے لیے مقرر کردہ بجٹ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے قابل عمل حکمت عملی اوراس کے حصول کے لئے نئی راہیں فراہم کیںچیئرمین ایف بی آر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ٹیکس دہندگان کی سہولت ایف بی آر کی پالیسیوں کے کامیاب نفاذ کا محور ہے اور ٹیکس دہندگان کو محکمے کے ساتھ ان کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔چیئرمین ایف بی آر نے ہدایت کی کہ شوگر ملز کی مانیٹرنگ موثرانداز میں کی جائے تاکہ ریونیو چوری کو روک کر اس کا تحفظ ہو سکے
===================