نیب نے گزشتہ 22 ماہ میں 71 ارب روپے بالواسطہ اور بلاواسطہ طورپر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نے گزشتہ 22 ماہ میں 71 ارب روپے بالواسطہ اور بلاواسطہ طورپر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے جو ایک ریکارڈ ہے۔ گزشتہ 22 ماہ کے دوران احتساب عدالتوں میں 600 مقدمات میں بدعنوانی کے ریفرنسز دائر کئے گئے۔ نیب کی ملزمان کو سزا دلوانے کی مجموعی شرح 70 فیصد ہے۔ نیب نے 41 میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا۔ نیب صرف اور صرف کیس دیکھتا ہے فیس نہیں دیکھتا اور قانون کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دینے پر سختی سے یقین رکھتا ہے-  لاہور میں نیب کے ریجنل ہیڈ کوارٹر میں نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا جس کی صدارت چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کی۔ اس موقع پر چیئرمین نیب کی جانب سے 4 انکوائریوں کی منظوری دی گئی۔ چیئرمین نیب کا اجلاس کے دوران کہنا تھا کہ نیب کا کسی گروہ، فرد یا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں اور ہماری پہلی اور آخری وابستگی ریاستِ پاکستان سے ہے۔
چیئرمین نیب کا مزید کہنا تھا کہ نیب ’احتساب سب کے لیے‘ کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے،اور ملک سے بدعنوانی کے خاتمے اورکرپٹ عناصر سے لوٹی گئی رقوم کی برآمدگی کے لیے کوشاں ہے۔ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی نہ صرف اولین ترجیح ہے بلکہ اس کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں