چیئرمین کے پی ٹی بمقابلہ اسٹیک ہولڈرز

چیئرمین کے پی ٹی ریئر ایڈمرل ریٹائرڈ جمیل اختر اپنے ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دینے کی بجائے دیگر اداروں اور اسٹیک ہولڈرز سے کیوں پوچھ رہے ہیں بندرگاہ کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین اور مبصرین موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ تناؤ اور کشیدگی کے اس ماحول میں نہ تو بندرگاہ ترقی کر سکتی ہے اور نہ ہی پہلے سے بگڑے ہوئے معاملات میں کوئی سدھار اور بہتری آنے کی توقع کی جاسکتی ہے چیئرمین کے پٹی کو اپنا گھر سدھارنے سے زیادہ فکر کے ایم سی اور بلدیات کے معاملات کی ہے آخر ایسا کیوں ہے ؟130 سال پرانی بندرگاہ میں آج صرف ایک فیصد کارگو ریلوے کے ذریعے پہنچتا ہے سالہا سال میں اس اہم ترین معاملے کو نظر انداز کرنے اور اسے ایک انتہائی غلطی اور نالائقی کا اور قیمتی سال ضائع کرنے کا ذمہ دار کون ہے آخر ماضی کے چیئرمین کیا کرتے رہے انہوں نے حکومت کی توجہ اس اہم معاملے کی جانب کیوں مبزول  نہیں کرائی ۔خرد ریلوے کے اعلیٰ حکام اور وزارت بندرگاہ اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس غفلت اور لاپرواہی کے برابر کے ذمہ دار ہیں اور خاموشی اختیار کرنے والے بھی برابر کے مجرم قرار پائیں گے ۔پاکستان کی سب سے قدیم اور سب سے بڑی بندرگاہ کے باہر چاروں طرف ٹریفک جام رہتی ہے تو اسے بہتر بنانے کے ذمہ داری کس کی ہے ٹول پلازہ سے کراچی پورٹ تک اگر ایک گاڑی آٹھ گھنٹے میں پہنچتی ہے تو کیا یہ صورتحال بندرگاہ کو ترقی دلاسکتی ہے ؟موجودہ چیئرمین کے پی ٹی کو افغانستان کی ایکسل لوڈ پالیسی تو بہت اچھی لگتی ہے لیکن وہ اپنے ملک کے پالیسی سازوں کو قائل کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں ۔ان کے پاس بظاہر ایسے دلائل اور متعلقہ حکام کو اپنے موقف پر لانے اور اپنی بات تسلیم کرانے کی صلاحیت کی شدت سے کمی محسوس ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنے خدشات اور تحفظات تو بیان کر رہے ہیں لیکن متعلقہ حکام کو اپنا موقف سمجھانے نہیں پا رہے یا ان سے اپنی بات تسلیم کرانے میں ناکام ہیں ہیں اگر وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ شپنگ انڈسٹری کا مستقبل ایل این جی سے وابستہ ہے تو پھر شپنگ انڈسٹری کو مطلوبہ سہولیات کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کریں ذمہ داریاں نبھائیں وقت ضائع کیوں کر رہے ہیں ؟بندرگاہ سے صوبائی اور وفاقی حکومت کو ریونیو ملتا ہے یہ بات تو سب جانتے ہیں لیکن لوگ یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ بندرگاہ کے افسران اور ملازمین کی تنخواہیں اور لگزری لائف اسٹائل کس کی مرہون منت ہے کچھ اپنے گریبان میں بھی جھانک کے ہیں اور دیکھیں کہ بندرگاہ پر کیا ہو رہا ہے کون کتنا کام کر رہا ہے اور اس کے عوض کیا کچھ لے رہا ہے اور اس کی کیا ذمہ داریاں بنتی ہیں اور کیا لوگ اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دے رہے ہیں ؟